Search This Blog

اومنیکرون کوویڈ-19 کی ایک نئی قسم... کئی ممالک نے داخلے پر پابندی عائد کر دی

اومنیکرون کوویڈ-19 کی ایک نئی قسم... کئی ممالک نے داخلے پر پابندی عائد کر دی  


اسلام آباد (امتیاز چغتائی)


ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ نئی قسم کے اثرات کو سمجھنے میں چند ہفتے لگیں گے، کیونکہ سائنس دانوں نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کیا ہے کہ یہ کتنی منتقلی ہے۔

برطانیہ کے ایک اعلیٰ صحت کے اہلکار نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین نئے قسم کے خلاف "تقریباً یقینی طور پر" کم موثر ثابت ہوں گی۔

لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساختی حیاتیات کے ماہر پروفیسر جیمز نیسمتھ نے مزید کہا: "یہ بری خبر ہے لیکن یہ قیامت نہیں ہے۔"

ساؤتھ افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کیسز - جہاں صرف  فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے - وہ سنگین نہیں تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تحقیقات ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ .

" زیادہ تر مریض جسم میں درد اور تھکاوٹ، انتہائی تھکاوٹ کی شکایت کرتے ہیں اور ہم اسے نوجوان نسل میں دیکھتے ہیں، یہ بڑی عمر کے لوگ نہیں ہیں... ہم ان مریضوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں جو سیدھے ہسپتال جا کر داخل ہو سکتے ہیں

امریکی متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فوکی نے کہا کہ جب کہ نئی قسم کی رپورٹس نے "سرخ پرچم" پھینکا ہے، یہ ممکن ہے کہ ویکسین اب بھی سنگین بیماری کو روکنے کے لیے کام کر سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے عجلت میں سفری پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں "خطرے پر مبنی اور سائنسی نقطہ نظر" کو دیکھنا چاہیے۔

یورپ میں کئی کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں سے دو یوکے اور ایک بیلجیم میں ہے۔ جرمنی اور جمہوریہ چیک میں بھی مشتبہ کیسز پائے گئے۔

بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی نئی قسم کا پتہ چلا ہے۔

جنوبی افریقہ سے ہالینڈ پہنچنے والے سیکڑوں مسافروں میں نئی قسم کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ڈچ حکام نے بتایا کہ دو پروازوں میں تقریباً 61 افراد کوویڈ 19 کے لیے مثبت تھے اور انہیں ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے جب کہ ان کے مزید ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

نیدرلینڈز اس وقت کیسز میں ریکارڈ توڑنے والے اضافے کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک توسیع شدہ جزوی لاک ڈاؤن اب تک اتوار کی شام سے نافذ ہے۔

جمعہ اور ہفتہ کو کئی ممالک نے نئے اقدامات کا اعلان کیا

جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، انگولا، موزمبیق، ملاوی، زیمبیا، لیسوتھو اور ایسواتینی سے آنے والے مسافر برطانیہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے

امریکی حکام نے کہا کہ غیر ملکیوں کو جنوبی افریقہ، بوٹسوانا، زمبابوے، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینی، موزمبیق اور ملاوی سے سفر کرنے سے روک دیا جائے گا، جو یورپی یونین کے پہلے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ پیر سے نافذ العمل ہوں گے۔

آسٹریلیا نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو، ایسواتینی، سیشلز، ملاوی اور موزمبیق سے پروازیں 14 دن کے لیے معطل کر دی جائیں گی۔ غیر آسٹریلیائی باشندے جو پچھلے دو ہفتوں میں ان ممالک میں تھے اب ان کے آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جاپان نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز سے، جنوبی افریقہ کے بیشتر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو 10 دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا اور اس دوران کل چار ٹیسٹ لینے ہوں گے۔

ہندوستان نے جنوبی افریقہ، بوٹسوانا اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں کے لیے مزید سخت اسکریننگ اور جانچ کا حکم دیا ہے۔

کینیڈا ان تمام غیر ملکی شہریوں پر پابندی لگا رہا ہے جنہوں نے گزشتہ 14 دنوں میں جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو، ایسواتینی یا موزمبیق کے راستے سفر کیا ہے۔

 

 

Social cohesion & Interfaith Harmony

 Social cohesion & Interfaith Harmony 

By imtiaz Chughtai

Islamabad: Whenever I heard the news of violence being committed in the name of God; I am absolutely repulsed at the carnage caused by the radicals. The fact that the perpetrators espouse rhetoric linking their senseless murders to Islam disgusts me even further. 

Pakistan is a multi-religion country with major Muslim population; living in the advanced days of the latest technology and multicultural society. Dealing with the follow citizens justly and equally is need of day. Lack of insecurity, unjust distribution of socio-economic resource, and misuse of blasphemy laws are some of the challenges to interfaith harmony in Pakistan. This is result of the migration of non-Muslims, especially Christians, Hindus and Ahmadis to India and western countries. Misinterpretation of jihad, partial and prejudiced religious discourse, absence of non-Muslims’ literature in the national educational curriculum has created gap between the majority and minorities of the country.   

Pakistan can be better place to live if exchange of ideas keeps on taking place. There is not much difference in the original messages of love in different religions/faiths. Synthesis of philosophies of the genius, true lovers of humanity and Saints may bring heaven on this earth.

There is dire need to take immediate steps to ensure social justice and fair distribution of socio-economic resources in order to promote an environment for forbearance, tolerance and co-existence in our society and eliminate the sense of insecurity and injustice among the religious minorities. Interfaith harmony is the only way forwards in promoting peace and prosperity in the society in line with the spirit of the founder of the nation, Mohammad Ali Jinnah. Only tolerant society based on the principles of interfaith harmony can ensure social inclusion by providing all citizens equal opportunities to progress and grow irrespective of their faith.

Inhuman acts across the world have shaken the societies and under this situation, it is necessary to encourage tolerance, peace, patience and interfaith harmony in Pakistan. Religious minorities have right to enjoy a safe and secure environment as envisaged in the constitution of Pakistan and it must be provided unconditionally. To that end, there will be no harm in ammending the constitution, if such a need is felt. To my knowledge, Islam has issued severe warnings to those who infringe upon the rights of the minorities. Religiously motivated violence must be fought together and with passion. People from different faiths must continue to defend the faith and liberties of each other. The fanatics – weather at home or abroad – must be brought to justice, but that can only be done if people of all faiths and beliefs are united against them. Fundamentalists and extremists aim to kill people indiscriminately. Their only goal is to cause chaos, devastation and bloodshed. These types of violent actions are far removed from the teaching of any religion or faith. Every faith should start to defend the faith and liberties of each other. The cycle of hate and counter-hate, violence and counter-violence needs to be broken.

Youth should be engaged to build a future of enlightened and passionate Pakistan. Our young generation should understand that small acts of kindness can change lives. It is kindness that leads to a more secure and prosperous nation. I am confident that by working on these issues in our own communities, we can emerge as a model for the region as a whole.

COVENANT



The key points of the agreement between the government of Pakistan and the banned organization (Tehreek-e-Labek Pakistan) came to light.

Islamabad(Tanveer Kashif)

According to our sources, under the agreement, the banned organization will refrain from any future long march or sit-in and will join the political mainstream as a political party in future.

Sources said that the government under the agreement

 It will release the arrested activists of the banned outfit. However, the activists facing serious cases including terrorism will have to seek relief from the court. The activist of the banned outfit will end their sit-in by tonight Will not take any action.

Sources further said that Mufti Muneeb-ur-Rehman acted as the guarantor of the agreement on behalf of the banned organization while Shah Mehmood Qureshi(Foreign Minister), Asad Qaiser(Speaker National Assembly) and Ali Muhammad Khan(Member National Assembly) signed the agreement on behalf of the government of Pakistan.

It may be recalled that the banned TLP workers marching towards Islamabad have been present in Wazirabad for three days.

Life in various cities of Punjab, including Gujranwala and Wazirabad, has been paralyzed and internet service has been shut down due to sit-ins by workers of the banned outfit. Preparing to leave.


کنکریٹ کی قبریں

 کنکریٹ کی قبریں 


امتیازچغتائی
چند دن قبل کی بات ہے میں اپنے آفیشل وزٹ پر سپرنٹنڈٹ جیل سرگودھا کا انٹرویوکرنے سرگودھا گیا ہوا تھا۔ سرگودھا میرا آبائی شہر ہے یہی وجہ ہے کہ میرے ننیال اور دھدیال بھی وہی رہتے ہیں۔ کام سے فارغ ہوکر مجھے اپنے ماموں کے گھر اُن کی تیمارداری کیلئے جانا تھا۔ میں نے بڑے بھائی سے درخواست کی کہ میرے ساتھ چلیں۔ پھل خریدنے کی غرض سے ہم امین بازار کی طرف چلے گئے۔ بازار میں گھسے ہی تھے کہ ہر دو قدم پر مانگنے والے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب پیشہ ور بھکاری اور ضرورت مند انسان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ کہ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پرچھلانگیں میں ہی خوش ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ درختوں کی جڑوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔میں۔آپ اور ہم سب کہیں نہ کہیں ضرورت مند ہیں اور اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہم ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لئے ضرورت مند ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے حالات قدر ابتری کی جانب رواں دواں ہیں کہ سفید پوش افراد سر چھپاتے ہیں تو پاوں ننگے ہوجاتے ہیں اور پاوں چھپاتے ہیں توسرننگا ہوجاتا ہے۔ اسی کشمکش میں مبتلا ہم زندگی کی ضروریات پوری کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کسی کو دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی ضرورت ہے تو کسی کو بچوں کے سکول کی فیس ادا کرنی ہے۔ کسی کو بیماری کا اعلاج کرواناہے توکسی کو بیٹی کی شادی کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ضرورت مند افراد کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ضرورت پوری کرنے والوں کی شرح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نے انسان کو انسان کا محتاج بنا دیا ہے۔ معاشرتی حالات نے ہمیں اس قدرگنہگار کردیاہے کہ ہم دووقت کی روٹی کیلئے خداکی بجائے انسانوں پرتکیہ کرنے لگے ہیں۔ 
توبات ہورہی تھی امین بازار کی، بڑے بھائی ضرورت کے مطابق پھل لے کرابھی گاڑی میں بیٹھنے ہی لگے تھے کہ ایک بچہ آگے بڑھا اور بھائی سے کہنے لگا کہ میرے پاس کچھ پنسلز ہیں آپ یہ خرید لیں۔ بھائی نے بولا ایک پنسل دے دیں لیکن وہ بچہ ساری پنسلزبیچنے پر بضد تھا۔ بھائی نے ایک پنسل لی اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے بھائی سے پوچھا بچہ کیا کہہ رہا تھا؟ تو بھائی نے جواب دیا، بچہ کہہ رہا تھا” کہ امیرکو امیرکئے جارہے ہوغریب کا بھی خیال کرلیاکرو۔“ یہ محض الفاظ نہیں ہیں ، یہ جذبات ہیں، یہ آنسوہیں یہ ضرورت ہیں یہ کیفیت ہیں یہ صاحب حیثیت کے منہ پرتمانچاہیں۔ آج ایک ہفتہ گذرنے کو ہے لیکن یہ الفاظ میرے اندر چپک کررہ گئے ہیں۔ ملکی مالی اعشاریوں کو ایک طرف رکھ کراگر بات کی جائے توہمارے معاشرے میں ضرورت مند لوگوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا مخیرحضرات نے اپنا ہاتھ کھینچ لیاہے؟ کیا بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کھانے والے زیادہ ہوگئے اور اور کمانے والے کم: کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرے ۔ لیکن ہمارے ہاں ریاست کی بنیادی ذمہ داری امیرکا پیٹ بھرنا اور غریب کے منہ سے نوالہ چھینناہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی اموات کی شرح کم ہے اور ضمیرکی اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جسمانی قبریں مٹی سے بنائی جارہی ہیںاور ضمیرکی قبریں کنکریٹ سے پختہ کی جارہی ہیں۔ حوص ،لالچ اور خود غرضی نے ہمیں اس قدر اندھا کردیا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد ضرورت مند نظرنہیں آرہے۔ ریاست کی ناکامی اپنی جگہ لیکن اخلاقی فرائض اور اخلاقی قدروں کو ہم نے اپنے اندر جنم ہی نہیں لینے دیا۔ مخیرحضرات بھی سیاستدانوں اور بیورکریٹس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے پیٹ کی آگے بجھانے میں مصروف عمل ہیں۔ 
تحریک انصاف کی حکومت (نااہلوں کاٹولہ) نے ”گرتی ہوئی دیوار کوایک دھکہ اور دو“ کا نعرہ سچ ثابت کردیاہے۔ کیا خوب مثال ہے کہ ” زیادہ گرجنے والے برستے نہیں۔“ 
ہمیں یہ فرض اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا، اپنے ارد گرد ضرورت مندوں کی ضرورت بنناہوگا۔ اگر کوئی ضرورت بیان نہیں کرسکتا تواس کی ضرورت محسوس کرناہوگی۔ اپنے ارد گرد کسی کی ضرورت جاننے کیلئے بہت سے خفیہ اور سادہ طریقے میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ضرورت پوری کرتے وقت ارد گرد کے دوستوں اور رشتہ داروں کی اسی ضرورت کومحسوس کریں۔ اگر ہم ماہانہ راشن لینے جاتے ہیں توچند لمحوں کیلئے سوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کون بھوکاہے۔ اگر ہم بچوں کی فیس جمع کروانے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کونسابچہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول نہیں جاپارہا۔ اگر ہم موسمی کپڑے خریدنے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کس بچے کے پاس گرم کپڑے یا جوتے نہیں ہیں۔ 
اگر ہم دوسروں کی ضرورت کے لئے تھوڑا سوچیں گے توخدااس کی ضرورت پوری کرنے کی ہمت ہمیں خود عطا کرے گا۔ 
 

Most Christians in Afghanistan are underground

Most Christians in Afghanistan are underground

Pakistan(Imtiaz Chughtai)

Nehemiah told about one man named Abdor, who became a Christian with his whole family while in Pakistan. “He was with us for the last few months. He is from Afghanistan, studying in Pakistan, and he said last month that he was going to Afghanistan for evangelism purposes. And it’s been more than a week since we have been unable to hear from him. We have lost contact.”

The Taliban’s conquest of Afghanistan puts Afghan Christians in great danger. Nehemiah says it’s a small community, and many of them converted to Christianity from other faiths. “The number of Christians in the country is thought to be below 30,000, perhaps as low as 1,000. Because most Christians in Afghanistan are underground.”

Afghanistan has very little in the way of an organized church. There is a small Catholic church located in the Italian embassy in Kabul, but Nehemiah says that has been shut down.

Historically, Afghan Christians have belonged to the sprawling Church of the East, once the largest Christian communion in the world.

Despite these low numbers, the Taliban is keeping a close eye on Christians, even sending them letters warning them not to meet. Nehemiah says, “One man received a letter saying his house now belongs to the Taliban. He’s a simple man who makes crafts, and his entire savings are in his house. The Taliban will take the property and the assets of Christians.”

Pray for the safety of Christian women in Afghanistan, as the Taliban may seek to kidnap them as well. Nehemiah says, “Christians in Afghanistan will be bracing themselves. Will they be forced to convert back to other faiths? Will they be killed if they refuse?”

ایک ہے گُل پری

ایک ہے گُل پری

 تیسرا اور آخری حصہ



امتیازچغتائی


میں آج بہت خوش تھی، میں زندگی کے اس حصے میں شامل ہونے جارہی تھی جس کا ہر عورت خواب دیکھتی ہے۔ میں ”کبھی ہاں کبھی نہ“ کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ گذشتہ سالوں میں جومیرے ساتھ ہوا وہ ایک تنہا عورت کے لئے کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ دوسری طرف میں نے اپنے حسین خوابوں کا محل تعمیرکرنا شروع کردیا تھا۔ جس قدر اس شخص نے مجھ پر وفاداری نبھانے کے پے درپے وار کئے وہ کوئی مظبوط عورت بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ میں نے اس سے کچھ دن کا وقت مانگا۔ اس نے مجھے سوچنے کاوقت دیا۔ اس دوران وہ مجھ سے رابطے
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“ 
ایک دن اس نے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا تو میں نے اس سے سوال کیا ” تم میرے لئے کیاکرسکتے ہو؟“ محبت اور وفاداری کے دعووں کے بعد وہ بولا”میری پاس جو کچھ بھی ہے سب تمہارا ہے“ میں نے کہا پھربھی ، وہ بولا” میری نئی گاڑی تمہارے نام ، میرا گھر تمہارے نام ، اس کے علاوہ جو کچھ تم چاہو وہ سب تمہاراہوا۔“(میرے سوال کا مطلب کچھ اپنے نام لکھوانا نہیں تھا، یہ سوال محض ملاقات کا تقاضاتھا)
میں نے اس ملاقات میں ”ہاں“ کردی۔ اس نے مجھے ہوسٹل سے لینا ، آفس لے جانا ، آفس سے لینا اور ہوسٹل چھوڑدینا۔ یہ سلسلہ چار ماہ تک چلتا رہا۔ میں خود میں مظبوط ہوتی گئی۔ بات شادی تک پہنچ گئی۔ میں نے افغانستان میں اپنی بہن سے بات کی اور بڑی سادگی سے ہمارا نکاح ہوگیا۔ ہمارے نکاح کے بارے میں اس کے گھروالوں کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے اپنے گھروالوں کونکاح میں شامل کیاتویہ نکاح ممکن نہ ہوگا۔ یہاں مجھے احساس ہوگیا تھاکہ اس کے گھروالوں کے علم میں لائے بغیرنکاح کا فیصلہ غلط ہے۔ بہرحال میں اب چلتی گاڑی کوروکنا نہیں چاہتی تھی۔ 
نکاح کے ایک ماہ کے بعد بھی میں ابھی تک ہوسٹل میں مقیم تھی۔ بیوی ہونے کے ناطے جب بھی میں اس کے ساتھ رہنے کاتقاضاکرتی تووہ یہ کہہ کرٹال دیتا کہ تھوڑا صبرکرو، ابھی حالات ٹھیک نہیں۔ میں خاموش ہوجاتی۔ اس معاملے پرکئی بار ہماری بحث تکرار بھی ہوتی اور میں پھر تھک ہار کرخاموش ہوجاتی۔ میں نے اپنے نکاح کے گواہوں سے بھی بات کی لیکن کسی نے کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا۔
میں نے اسے کہا کہ میں خود تمہارے گھروالوں سے بات کروں؟ تو وہ مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دیتا۔ ہمارے نکاح کوایک سال ہوچکا تھا۔ اسی دوران ایک دن جب میں نے اسے امیدسے ہونے کی خوشخبری سنائی تووہ خوش ہونے کی بجائے مجھ سے لڑنے لگا۔اب میں ایک نئی مشکل کاشکارہوچکی تھی۔ میں اس کوباربار اپنے گھرلے جانے کی درخواست کرتی۔ وہ ہربارمجھے ٹال دیتااورمناسب وقت کاانتظارکرنے کوبولتا۔ 
آہستہ آہستہ اس کا رویہ مجھ سے جان چھڑانے والا ہوگیا۔ اس دوران میں نے نوکری بھی چھوڑ دی تھی۔ وہ کئی کئی دن تک میری کال نہ لیتااور جب میں زیادہ کالزکرتی تووہ میرا نمبربلاک کردیتا۔ میری مشکلات کا دورایک بار پھرشروع ہوچکاتھا۔ ایک شام میری طبعیت بہت خراب تھی، وہ میرے پاس آیا، مجھے کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ لیڈی ڈاکٹر کی ادویات لینے کے بعد میری طبعیت اور بگڑ گئی اور میری امید جاتی رہی۔ میں بہت روئی، میں دن رات جاگتی رہتی، کھانا پینا میرے لئے ناممکن ہوگیا۔ 
ایک دن میری ایک دوست مجھ سے ملنے آئی ، میں نے اسے سارا واقعہ سنایا وہ مجھے ہسپتال لے گئی۔ مجھے وہاںجا کہ پتہ چلا کہ میری ادویات زندگی دینے والی نہیں بلکہ زندگی لینے والی تھیں۔ میرے وجود کا حصہ مجھ سے الگ کردیا گیاتھا۔
اب میںایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے بمشکل اس کے ساتھ رابطہ کیااور اس سے طلاق کا تقاضا کردیا۔ وہ شائد پہلے ہی اس بات کے کیلئے تیار بیھٹا تھا۔ 
جو لوگ میرے نکاح کے گواہ تھے وہی میری طلاق کے گواہ بھی بنے۔ 
کچھ لوگوں نے مجھے پوچھا ” تم نے حق مہر کتنا لکھوایا تھا؟“ میں نے جواب دیا ”مجھے اتنی مہلت ہی نہ دی گئی کہ میں اپنے حق کی بات کرپاتی۔“
رفتہ رفتہ میرے لئے زمین اس قدر تنگ کردی گئی کہ میں خود کشی کی تیاریاں کرنے لگی۔ میں ایک خاوند کے ہوتے ہوئے بھی تنہا تھی اور وہ محفلوں کا گھڑسوار تھا۔ ایک دو بار میں نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی تومجھے بچا لیاگیا۔ 
طلاق ملنے کے بعد میں پھر اس موڑپر آ کھڑی ہوئی ہوں جس سے میں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب میں نے طلاق یافتہ کی حیثیت سے جینا شروع کیا۔ وہ شخص اس قدر کم ظرف نکلا کہ اس نے پیچھے مڑکے بھی نہ دیکھا۔ طلاق والے دن اس کے چہرے پر رتی بھر ندامت نہیں تھی۔ وہ ایسے انجان بنا ہوا تھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ اس کی غیرت مر چکی تھی اور میری روح مر چکی تھی۔ اس کا ضمیر مر چکا تھا اور میرا پیار مرچکا تھا۔ اس دوران میں نے امید، محبت، اہمیت کو بہت قریب سے دیکھا، میں نے اعتبار کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا، میں نے پھول کو خوشبوسے الگ ہوتے دیکھا۔ مرد ایک ایسا سمندر ہے جس میں دنیا کی سب ندیاں بھی جا گریں تو وہ کبھی نہیں بھرتا۔
”سب باطل ہی باطل ہے، سب کچھ بے معنی ہے“ 
آج میں نے وہ ہوسٹل چھوڑ دیا ہے، امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد افغانستان میںرہنے والی میری بہن اپنے خاوند کے ہمراہ پاکستان کے افغان سرحدی علاقے منتقل ہوگئی۔ گذشتہ مہینے میں اپنی بہن کے پاس چلی آئی۔ یہاں اس نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا اور اب میں نے ایک بار پھر اپنی پڑھائی شروع کردی ہے۔
میں نے اس شخص کو دل سے معاف کردیا ہے۔ جب تک میں نے اسے معاف نہیں کیا تھا اس وقت تک اس کے ظلم میرے جذبات پر سوار رہتے تھے۔ جب سے میںنے اسے معاف کردیا ہے میں خود کوآزاد محسوس کررہی ہوں۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔ میں پڑھ لکھ کر ایک دن بہت بڑی انسان بنوں گی اور ہر اس انسان کی مدد کروں گی جس کو میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

Local staff at foreign missions



Islamabad (Special Reporter):

Local staff at foreign missions risked the diplomats' reputation for personal gain. From administrative to consular section, even lower staff including drivers are busy in making money, ensnaring diplomats. Cases in embassies has rapidly increased. Local staff being deployed at missions including African, Central Asian, Middle East and in the European countries are reportedly involved in suspicious activities. 
No doubt, diplomats are specifically trained to maintain relations with other countries, but it is said that even angels would fall prey to such temptations if they are posted on a post that involves money! The Italian mission in Islamabad reported theft of 1000 visa stickers. The first information report (FIR) was being registered at the local police station but till the time no progress is seen in investigation. Either the mission is not interested or officials are not doing their job, but something fishy. Reportedly local security personal with its foreign facilitator was involved.
Earlier an ambassador from European country was terminated after he was found guilty of misusing his diplomatic status. Few years back, an ambassador was recalled after his involvement in misusing house rent facility. A charged’ Affair of a EU country was recalled for taking bribe in issuing visas and reportedly his secretary was indirectly involved in human trafficking. In these case local facilitators were involved and extra money was shared. In September, 2020, customs officials seized a consignment of goods imported in the name of embassy. When the ambassador refused to own it and action was taken against the local shipping and owners were sent to jail and their license was suspended. Reportedly, the same people are hunting with another name. 
Investigations in such cases proved that without the involvement of the local staff such incidents would have not been possible. Misuse of diplomatic immunity and involved in various illegal practices such as misuse of liquor quotas, import of duty free cars and other stuff, misuse of house rent facility and having illicit affairs with local ladies are common in diplomats. By the way, when it comes to misuse the liquor quotas, both Muslim and non-Muslim missions are equally involved and have benefited with the help of Foreign Affairs’ protocol department. 
So much so, there are number of examples of such cases and involvement of local staff and having illicit relations with girls. Interestingly, this practice is on to lure attention of all. Corruptions is the biggest challenge of the day, either moral or money. A man can be part when there is opportunity of making money through illegal practices.

غیر ملکی سفارت خانے



اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)  

غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات مقامی عملے نے ذاتی مفادات کی خاطر سفارتکاروں کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا. انتظامی امور سے لیکر ڈرائیور طبقہ مال بنانے کے چکر سفارتکاروں کو سہانے سپنے دکھانے اور شیشے میں اتارنے کی کوشش میں مصروف. سفارت خانوں میں کیسز روز بروز بڑھنے لگے. براعظم افریقہ, وسطی ایشیائی ممالک, اور یورپی ممالک کا عملہ مشکوک کارروائیوں میں ملوث. اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے سے تقریباً ایک ہزار ویزہ اسٹیکر چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ سفارت خانے نے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے  مقامی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروائی۔ کہا جاتا ہے کہ سفارت خانے میں کام کرنے والے مقامی عملہ ملوث تھا لیکن تاحال اس واقعے سے متعلق کسی قسم کی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس سے قبل یورپ ہی کے ایک اور ملک کے سفیر کو وطن واپس بلایا گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ موصوف ویانا کنونشن کے تحت حاصل ہونے والی سہولیات کو مقامی سہولت کار کے توسط سے ناجائز استعمال کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے تھے۔ اس سے قبل کسٹم حکام نے کاروائی کرتے ہوئے خلیجی ملک کے ایک سفارت خانے کے نام پر منگوائی جانے والی اشیاء کی بڑی کھیپ پکڑی۔ جس کے بارے میں متعلقہ سفیر نے لاعلمی کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں نے اشیاء درآمد کرنے والی کمپنی کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے انہیں جیل یاترا کیلئے بھیج دیا گیا اور بتایا گیا کہ کمپنی کا لائسنس بھی معطل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس واقعے میں ملوث افراد پولیس کے ساتھ مُک مکا کرکے رہا ہوگئے۔ سننے میں آیا ہے کہ ”وہی لوگ“ نئے نام کے ساتھ دھندہ پھر سے شروع کرچکے ہیں۔ یہ چند ایک واقعات ہیں لیکن یہ قصہ پرانا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا. 

چند ماہ قبل ہمارے ہم پیشہ ایک  ساتھی نے اسی موضوع پر قلم کشائی کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح سے سفارتکاروں کو ورغلا کر ایسے کاموں میں پھنسایا جاتا ہے۔ مطلب وہ تو معصوم ہیں. لیکن میرا مشاہدہ ذرا مختلف ہے. قصہ کچھ یوں ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرتے ہوئے بعض کاموں میں چھوٹ حاصل ہوتی ہے مثلاً انہیں دوسرے ممالک میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جاتے وقت گھریلو سامان یا روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کو دوسرے ممالک سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی سمیت چیکنگ وغیرہ سے اِستثناء حاصل ہوتا ہے اس میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت گاڑیاں تک درآمد یا برآمد کرنے کی دقت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جہاں الکوحل ملے مشروبات کے استعمال پر پابندی عائد ہو لیکن سفارتکاروں کو یہ اِستثناء حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان ممالک میں تعیناتی کے دوران اپنی ضرورت کیلئے ایسے اشیاء بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ہر سفارتکار کی حیثیت کے مطابق حدود مقرر ہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں پر مقامی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں الکوحل ملے مشروبات کی سرِعام تیاری اور خریدوفروخت پر پابندی ہے تاہم یہ دھندہ ملک میں بسنے والے غیرمسلم کے نام پر زوروشور سے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کے نام پر درآمد کی جانے والے اشیاء قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آشرباد سے مہنگے داموں بازار میں بکتی ہیں اور اس بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھوتے ہیں (مطلب سفارتکار بھی ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرنے کیلئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات سے لیکر اپنے ملک کی نیک نامی اور ترجیحات نہایت اہم ہوتی ہیں۔پاکستان کی حیثیت دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے، اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے والے غیر ملکی سفارتکاروں کو حاصل ہونے والے استثناء کی بدولت نہ صرف سفارتکار بلکہ مقامی عملہ بھی فیضیاب ہوتا ہے۔ ایک سفارت کار نے تو یہ بھی بتایا کہ سفارت خانوں میں کام کرنے والے مقامی ڈرائیورز بھی سفر کے دوران اس سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ آپ فلاں کمپنی یا بندے کے ساتھ کام کریں یا فلاں کے ساتھ کام نہ کریں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مقامی عملہ ان کمپنیوں کے پے رول پر ہوتا ہے اور چونکہ غیر ملکی سفارت کار مقامی عملہ پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور وہ یہ کام رازداری سے کرنا چاہتے ہیں لہذا مقامی عملہ اپنے مفادات کی خاطر انہیں ورغلا لے لیتا ہے.

وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کے مابین اختیارات کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا




اسلام آباد  (شمیم محمود، سپیشل رپورٹر):  سابق سفراء نے اہم بین الاقوامی مشنز پر پسند ناپسند پر تعیناتیاں اور سیکرٹری خارجہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہا رکردیا۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کو عملی طوپر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں تعینا ت سابق ہائی کمشنر عبدالباسط، سابق سفیر ندیم عاقل اور برہان السلام نے کہا کہ وزارت خارجہ کو انتظامی امور کو پھر سے دیکھنا پڑے گا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوگا۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں انسانی وسائل کو بہتر طور پر استعمال نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ سینئرافسران کو کھڈے لائن لگانے کی روایت نامناسب ہے۔سینئر افسران کو بے توقیر کیا جارہا ہے۔سابق سفیر برہان السلام نے کہا کہ موجود ہ حالات میں کچھ غیر معمولی کام ہورہے ہیں جو سابقہ روایات کے منافی ہے۔انہوں نے اس خدشہ کے اظہار کیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے درمیان اختیارات کے معاملے میں ٹکراؤ کی صورتحال ہے۔عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تاہم موجودہ حالات میں صورتحال خراب نظر آتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ رولز اینڈ بزنس کے تحت تمام تر انتظامی امور کو سنبھالتا ہے۔لیکن وزیر خارجہ تمام اختیار پر قابض ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سابقہ دور میں وزارت خارجہ میں سیاسی تعیناتیاں کی اور ایسے معاملات پر آج بھی مشکلات پائی جاتی ہیں۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد اچھے عہدے کے لالچ میں وزیر خارجہ کی من مرضی کے مطابق کام کررہے ہیں۔ عام طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اداروں یا بیرون ملک تعیناتیاں کرواتے ہیں جس کی وجہ سے سروس کے دوران انکی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہوتاہے۔اس طرح کے حالات میں ان کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ گزشتہ 124سال سے وزارت خارجہ کی روایات کو خراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ موجودہ حالات میں درباری سفارتکاری نظر آ رہی ہے۔بیرونی ممالک سے ایگریما حاصل کرنے سے پہلے کسی بھی سفیر کی تعیناتی کرنا سابقہ روایات کو خراب کررہا ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں پسند ناپسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔افغانستان نے سفیر کو واپس بلا کر ایک سال تک فارغ رکھا گیا ہے اور فارن سروس اکیڈمی میں جونیئر افسر کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف پروٹوکول کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے تعیناتی نہیں کی گئی اور اس سلسلے میں سیکرٹری خارجہ کو ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ حالیہ دور کے دوران بیرونی ممالک میں اہم مشنز پر جونیئرافسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برلن، پیرس، واشنگٹن، نئی دہلی، نیویارک اور جنیوا جیسے اہم مشنز میں گریڈ بیس کے ناتجربہ کار افسران کو پہلی پوسٹنگ پر تعینات کیا گیا ہے۔عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک میں جونیئرافسران کو تعینات کرنا پاکستان کی سفارتکاری کو کمزور کرتا ہے۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری خارجہ کو اپنی ذمہ داریاں عملی طور پر ادا کرنی چاہیے۔رولز اینڈ بزنس کے تحت انہیں جو اختیارات حاصل ہیں انہیں استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظا م درست ہے تاہم اسے چلانے کیلئے ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔ وزیر خارجہ کو سیکرٹری خارجہ کے معاملات دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اور سیکرٹری خارجہ کو بھی اپنے اختیارات استعمال کرنا چاہیے۔سابق سفیر عبدالسلام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری خارجہ کے انتظامی امو رکے اختیارات کو وزیر خارجہ کے دفتر کو دینانامناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سابق سفراء کی ایک تنظیم ہے اور یہ ایک تھنک ٹینک ہے اور ان سے مشورے لیے جاسکتے ہیں۔ ندیم عاقل نے کہا کہ سابق سفراء کی تنظیم نے گزشہ دنوں میں سفیروں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم کو خط لکھا اور جس کے بعد وزیر اعظم کو احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابق سفیروں کی تنظیم کی رائے لینے سے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔

Protests against landlords in front of Rawalpindi Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.


                   

Protests against landlords in front of Rawalpindi  Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.



Pakistan (Rawalpindi) Addressing the protesters, Transgender Alliance chairperson Saba Gul said that some of our Transgenders were living in a rented house in the Dhok Kala Khan area of Rawalpindi. The landlord came to the house in the middle of the night and gave notice of eviction. When the Transgenders asked the reason for the eviction, he started beating them. He also made a video of the beating, which he later shared on the Internet. The landlord is still threatening to vacate the house in various ways. Saba Gal has demanded the President of Pakistan, the Prime Minister o

f Pakistan, and the Chief Justice of Pakistan take immediate legal action against the accused. Protesters held banners and placards with slogans calling for justice.

خواجہ سرائاتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔


 

 خواجہ سرا اتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

 


مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسجینڈرز الائنس کی چیئرپرسن صبا گل کہنا تھا کہ ہمارے کچھ خواجہ سرا ڈھوک کالا خان کے علاقے میں کراے کے ایک مکان مِیں رہائش پذیرہیں۔ آدھی رات کومالک مکان آیا اور زبردی گھرسے بے دخلی کا نوٹس دے دیا۔ جب خواجہ سراوں نے بے دخلی کی وجہ پوچھی تواس نے انہیں مارنا شروع کردیا۔ مارپیٹ کرنے کی اس نے وڈیوبھی بنائی جسے بعد ازاں اس نے انٹرنیٹ پروائرل کردیا۔ مالک مکان تاحال زبردستی گھر خالی کرانے کیلئے مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا رہاہے۔ صباگل نے صدر پاکستان ،وزیراعظم پاکستان ، اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کا فی الفورنوٹس کرملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف کی فراہمی کے نعرے درج تھے۔ 


ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)


ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)

امتیازچغتائی

 

نامعلوم کالزاور میسجزسے مَیں اِس قدر تنگ تھی کہ اب کال اٹینڈ کرنے سے پہلے ہزار باریہ بات ذہن مِیں آتی کہ ایک نئی آزمائش کا سامنا ہوگا۔ مَیں نے فون کی سکرین دیکھی تو پی ٹی سی ایل کا نمبردکھائی دیا۔ مَیں نے کال ریسیوکئے بغیر فون رکھ دیا اور سوگئی۔ بھوک کی شدت اِس قدر زیادہ تھی کہ رات کئی بھر آنکھ کھلی، پانی پیتی اور صبح ہونے کا انتظار کرتی۔ آج کی رات بہت بھاری تھی۔ صبح آنکھ کھلی، نمازپڑھی اور امید کی دنیا مِیں واپس چلی گئی۔ ٹھیک ساڑھے نو بجے اُسی پی ٹی سی ایل کے نمبرسے ایک بار پھر کال آئی۔ اِس بار مَیں سمجھ گئی تھی کہ یہ کال میرے روزگار کا باعث ہوسکتی ہے۔ آج صبح مَیں ذہنی طورپر بہت زیادہ تروتازہ تھی۔ ایک امید تھی کہ ”جب ہم مشکلات کا نیک نیتی، بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں تو یہی مشکلات ہمارے لئے آسانیوں کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ مَیں اِس بات کا تجربہ کرچکی تھی کہ وہی خوشی اور پیسہ آپ کا اپنا ہے جو آپ کی دسترس مِیں ہے۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ تنہائی مِیں اللہ کے ساتھ گذارا ہوا وقت کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔“

مَیں نے اللہ کا نام لے کر کال اٹینڈ کی تودوسری طرف سے ایک خاتون بڑے کرخت لہجے مِیںبولی، ”گل پری، G\10-3 اسلام آبادکے سیکٹرکے فلاں فلاں دفترمِیں آپ کی نوکری ہوگئی ہے، آج آپ دفترآئیں۔“ ابھی مَیں نے یہ الفاظ سنے ہی تھے کہ میرا دل دگنی رفتار سے دھڑکنے لگا۔ مَیں خوشی کے مارے پھولے نا سما رہی تھی۔ میرے ہاتھ خوشی سے کپکپا رہے تھے۔ اسی دوران میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے۔ ”اس خوشی کوایک ایسی عورت ہی محسوس کرسکتی ہے جس نے اس معاشرے کی ہر وہ ٹھوکر کھائی ہو جس کے بارے مِیں اس نے سوچا بھی نہ ہو۔“

مَیں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔ تیار ہوئی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس دفتر پہنچ گئی۔ جب آپ نیک نیتی سے اللہ کے ساتھ چل رہے ہوں تودوسری طرف شیطان بھی آپ کو ہرطرح سے ورغلانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت مَیں آپ کوخودکو اور زیادہ مظبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مَیں دفتر جانے کیلئے لوکل گاڑی مِیں بیٹھی ہوئی تھی کہ مَیں نے ساتھ والی خاتون سے پوچھا کہ ”اس دفتر کی لوکیشن کیا ہے، وہ بولی: یہ دفتر آپ کے ہوسٹل سے بہت دور ہے آپ میرے ساتھ چلو مَیں آپ کواچھی نوکری لگوا دوں گی۔ کہنے لگی اسلام آباد مِیں ایک بہت معیاری مساج سنٹرہے وہاں آپ کی نوکری ہوجائے گی اور آپ کو آپ کی سوچ سے زیادہ پیسے ملےںگے۔“ مَیںایک لمحے کیلئے لالچ مِیں آگئی اور مَیں نے ہاں کردی۔ چند لمحوںبعد مَیں نے اسے صاف انکار کردیا۔

مَیں دفتر پہنچی تومجھے میرے باس نے بڑی عزت کے ساتھ میرے کام کے بارے مَیںسمجھایا۔ وہ انتہائی اچھے انسان تھے اور محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے معاشرے مِیںعورت کوعزت دینے والے مرد ابھی باقی ہیں۔ مَیں ہر روز باقاعدگی سے دفتر جاتی اپناکام پورا کرتی، میرے اخلاق اور رویے سے سب ساتھی مطمئن تھے۔ دو ماہ گذرنے کے بعد سب مرد اور خواتین ساتھیوں کو معلوم ہوناشروع ہوگیا کہ ”مَیں اس ملک مِیںتن تنہا ہوں، ہوسٹل مِیںرہائش پذیر ہوں، اورلوکل گاڑی مِیں دفتر آتی جاتی ہوں۔“ اب میرے ہی دفتر کے ساتھی جن کے پاس گاڑیاں یا موٹربائیک تھیں وہ چھٹی ہونے پرمختلف بہانوںسے پارکنگ یا دفتر کے گیٹ پرمیرا انتظارکرتے، براہ راست تو کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ مجھے لفٹ کی پیشکش کرے۔ لیکن ہمدردی کے عنصرکاسہارا لیتے ہوئے مجھے ہوسٹل چھوڑ دینے کی پیشکش کی جاتی۔ جب مَیں وہاں انکار کردیتی تومیرے ویگن سٹاپ پر میرے کچھ ساتھی اس انتظار مِیں ہوتے کہ ویگن نہ ملنے پرمجھے لفٹ دیں۔ ایک دن تو میرے ایک سنئیر ساتھی فوڈ کیبن مِیں آئے اور میرے پوچھے بنا اپنی بیگم کی میرے ساتھ خوب چغلیاں کرنے لگے۔ حالانکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اچھے صاف ستھرے استری کردہ کپڑے پہن کر آتے ۔ روزانہ اپنے ٹفن مِیں اچھے اچھے گھرکے تیار کردہ کھانے لے کرآتے۔ ایک دن ہم ساتھی خواتین میں ان سنئیر ساتھی کی بات ہورہی تھی تو خواتین ساتھیوں نے بتایا کہ ”اُن کی بیگم بہت اچھی ہے اور اُن کی شادی شدہ زندگی بھی بہترین اندازمِیں گذررہی ہے اورہم ایک دو تقاریب کے سلسلے مِیں ان کے گھردعوت پر بھی جاچکے ہیں۔“ میرے دفترمِیں میرے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی پر مبنی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن میرے ایک ساتھی نے براہ راست مجھے شادی کی پیشکش کردی۔ اور اِس پیشکش کا سلسلہ کافی دن تک جاری رہا۔ مَیں چند دن خاموش رہی، اُس کے بعد مَیں نے خواتین ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ جنہوں نے مجھے احساس دلایا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، ”آپ کوخاوند کی صورت مَیں ایک مرد کی ضرورت ہے جو آپ کو اپنانام دے، عزت دے اور آپ کے دکھ سکھ مِیں آپ کے کام آئے۔ مَیں نے بہت سوچنے کے بعد ہاں کردی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ آج کا ہمدرد شخص کل کومیرے ماتھے پر طلاق یافتہ کا ٹیکاسجادے گا۔ 


نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے تیسرا اور آخری حصہ دو دن بعد شائع کیاجائے گا۔









 

ایک ہے گُل پری

 

ایک ہے گُل پری


  


انٹرویو: امتیازچغتائی


گُل پَری افغانستان کے صوبہ کابل کے علاقے خیرآباد مِیں2003ءمِیں پیدا ہوئی۔ جب  گل پری پیدا ہوئی تو امریکہ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرچکا تھا۔ گل پری کیلئے بم دھماکوں اور بندوق کی گولیوں کی آواز ایسے ہی ہے جیسے کسی پر امن علاقے مِیں پٹاخوں کا پھوٹنا: گل پری نے جب ہوش سنبھالا تو اُس کاباپ محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن گل پری کاباپ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا تو واپس نہ لوٹا۔ گل پری نے اپنی ماں اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر اپنے باپ کو بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔ اور کچھ دن بعد پتہ چلا کر اُس کے بابا جان کو گولی ماردی گئی ہے۔ 2014ءمِیں جس دن گل پری کے بابا جان قتل ہوئے اُس دن سے گل پری کی خوشیوں کے موتی بکھرنا شروع ہوئے: وہ موتی آج تک تنہا تنہا رقص سفر مِیں ہیں۔ بابا جان کی موت کے بعد گل پری کی ماں نے گھر کی مالی ذمہ داریاں اٹھائیں اور محنت مزدوری کرکے بچوں کاپیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سکول بھی بھیجا۔ علاقائی خونریزی اور گھریلو مشکلات بھی گل پری کی مسکراہٹیں نہ چھین سکیں۔ گل پری بتاتی ہے کہ وہ بچپن ہی سے بہت شرارتی تھی۔ اُس کی شرارتیں اس قدر حسین تھیں کہ مرجھائے ہوئے دل بھی کھل جاتے تھے۔ ایک دن گل پری سکول مِیں تفریح کے وقت اپنی سہلیوں کے ساتھ نشانہ لگاناکھیل رہی تھی۔ کہ گل کا نشانہ، نشانے پر لگنے کی بجائے اُس کے استاد نصراللہ کے ماتھے پرجا لگا۔ گل کا کہنا ہے کہ اس پتھر کا نشان آج بھی استاد نصراللہ کے ماتھے پرواضح ہے۔

 گل پری کاکہناہے کہ ” وہ بچپن مِیں مردوں سے بہت لڑائی کیا کرتی تھی، کیا پتہ تھا کہ جوانی مِیں یہی مرد میرے لئے وبال جان بن جائیں گے۔“ 2017ءکی سردیوں کی شام گل کی اماں جان کوتیز بخار ہوا۔ خاطر خواہ علاج کے باوجود گل کی اماں جان زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اُس وقت گل کی عمر چودہ سال تھی۔ گل کی دونوں بڑی بہنوں کی خاندانی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق شادیاں ہوچکی تھیں۔ ماں کے فوت ہونے کہ بعد خاندان نے فیصلہ کیا کہ گل پری کی فی الفور شادی کرکے اسے پیا گھر سدھار دیاجائے۔ اِس طرح گل پری اپنے گھر والی ہوجائے گی اور زندگی کی مشکلات مِیں بتدریج کمی بھی واقع ہوگی۔

 خاندان کے فیصلے کی خبرملی تو گل اُس فیصلے کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ گل نے اپنی بڑی بہن سے رابطہ کیا ”مَیں محض چودہ سال کی ہوں، مَیں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے چھوٹی عمر مِیں شادی نہیں کرنی اور نہ ہی مَیں اِس قدر کمزورہوں کہ مَیں زورزبردستی کے فیصلے قبول کروں گی۔“ گل کی بڑی بہن نے حق کا ساتھ دیا اور گل کو مشورہ دیا کہ راتوں رات سرحد پار کرکے پاکستان چلی جاے۔ گل نے راتوں رات اپنی ایمرجنسی ضروریات کی گھٹڑی باندھی اور پاکستان کا رخ کرلیا۔ باون گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد گل اپنے کامیاب مستقبل کے خوابوں کے ساتھ اسلام آبادپہنچ گئی۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد گل پری نے گرلزہوسٹل مِیں بسیراکیا۔ گل پری گھرسے اتنے پیسے لے کر آئی تھی کہ وہ دوتین ماہ ہوسٹل مِیں گذار سکتی۔

اتنے مِیں ہوسٹل کی دیگر خواتین سے گل کی جان پہچان ہوگئی۔ گل کے مطابق ” مَیں نے نوکری کیلئے اگلے دن جونہی ہوسٹل سے قدم باہر رکھا تو جسم پرست، ہوس پرست، موقع پرست، موقع شناس اور پیشہ وردلال میرے ارد گرد منڈلانے لگے۔ افغانستان مِیں مَیں جنگی جہازوں کی گھن گرج، بم دھماکوں کی گونج اورگولیوں کی بوچھاڑ سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن یہاں ہوس پرست خون خوار بھیڑیوں کی نظریں جب میری آنکھوں سے ہوکر میرے جسم تک جاتیں تومَیں حواس کھو بیٹھتی۔ جب پیشہ ور دلال کی گاڑی اچانک میرے سامنے رکتی تو میرے قدم لڑکھڑا جاتے اور اُن لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ مَیں راستہ بدل لیتی۔ جب مَیں کسی دفتر مِیں نوکری کیلئے جاتی توملکہ دو جہاں کی ساری آسائشیں مجھے دینے کی یقین دھانی کرائی جاتی۔ مَیں سمجھ جاتی کہ دوبارہ یہاں آنا میرے لئے اچھا نہیں۔ کیونکہ مَیں کابل مِیں اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنے باپ اور خاندان کی عزت ساتھ لے کر آئی تھی۔ اِس لئے مجھے اِس بات کا احساس تھا کہ عزت لٹوانے سے بہترہے کہ جس اللہ نے سانسیں دی ہیں یہ سانسیں اسے واپس لوٹا دی جائیں۔ مَیں واپس اپنے روم مِیں آکر زار و قطار روتی۔ ہوسٹل کی بہت ساری خواتین نے مجھے بیچنے کی کوشش کی لیکن مَیں جلد ہی اگلے شخص کی نیت جان جاتی۔ ایک صبح مَیں نوکری کے لئے نکلی تو اُس دن میرے پاس آخری چند روپے تھے۔ کیونکہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، مَیں راستہ بھول گئی۔ اُس دن مجھے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔ مَیں واپس ہوسٹل پہنچی تو میرے جوتوں نے میرے پاوں کاٹ ڈالے تھے۔ بھوک کی شدت میرا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ پیاس کی شدت میری سانس روک رہی تھی۔ مَیں اپنے بیڈ پر آکر گرگئی۔ ابھی مَیں نیم بہوشی مِیں تھی کہ اچانک میرے پستہ حال فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔دوسرا حصہ کچھ دن بعد

نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے چند دن قبل میں نے گل پری کاانٹرویوکیاتھا

روح پرستی سے جسم پرستی تک

  


روح پرستی سے جسم پرستی تک 

امتیازچغتائی 




ہمارے ایک بڑے پیارے دوست عمران قریشی صاحب ملتان مِیںرہتے ہیں۔ عمران قریشی سیاسی شخصیت ہونے کے ناطے ہر موضوع پر بات کرنے کی گرفت رکھتے ہیں۔ اکثرموضوعات پر اُن سے بحث و تکرار لگی رہتی ہے ۔ آج اُن کی خیریت دریافت کرنے کیلئے انہیں ٹیلی فون کال کی توبات عمران خان کی حکومت مِیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہوتی ہوئی خاتون ٹک ٹا کر کے واقعہ تک جاپہنچی۔ مَیں نے عرض کیا قریشی صاحب تحریک انصاف کی گذشتہ تین سالہ کارکردگی کے بارے مِیں کچھ کہنا پسند کرینگے؟ کہنے لگے تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے مِیں ناکام رہی۔ مزید زور دے کرکہنے لگے کہ مہنگائی نے غریب انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی بہترین ہوگئی ہے۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ میرے ذہن مِیں ایک بڑا معروف لطیفہ گھومنے لگا۔ جسے زیادہ تردوستوں نے سن رکھا ہوگا۔

”کسی شخص کی سڑک حادثے مِیں موت واقع ہوگئی۔ اُس کی لعش گھر لائی گئی۔ تدفین کے عمل سے کچھ دیر قبل اعلان کیاگیا کہ سب لوگ باری باری آئیں اور فوت ہونے والے شخص کاآخری دیدارکر لیں۔ سب مرد باری باری آئے چہرہ دیکھا اور چلے گئے۔ اب خواتین فوت ہونے والے شخص کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ ایک خاتون بین کرتے ہوئے آئی، مرنے والے شخص کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، غور سے دیکھا اور روتے روتے مرنے والے شخص کی اہلیہ سے مخاطب ہوکرکہنے لگی۔ ” بہن،شکر ہے،بھائی کی آنکھ توبچ گئی۔“ تو مختصربات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت نے غریب عوام کو قبرمِیں اتار دیاہے اور خان صاحب ابھی تک آنکھ بچ جانے کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ خان صاحب مہنگائی نے لوگوں کو اِس قدر مشکل مِیں ڈال دیا ہے کہ اب لوگ اپنے کسی پیارے کی بیماری سے توکم پریشان ہوتے ہیں لیکن زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی ہے کہ اگراُن کا پیارا اللہ کوپیارا ہوگیاتووہ کفن دفن کا انتظام کہاں سے کرینگے۔ 

ابھی ٹیلی فون کال بند نہیں ہوئی تھی کہ بات خاتون ٹک ٹاکر کے واقعہ تک پہنچ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اُس واقعہ کا افسوس کرنے لگے۔ مَیں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے رُوح پرستی سے جسم پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے مِیں روح سے محبت کا تصور ختم ہوگیا ہے،اب ہم چھو کریقین کرنے کے نظریات کے قیدی ہوگئے ہیں۔ اِس کے بجائے کہ ہم رُوح سے گذرکر امر ہوجائیں ہم یک طرفہ تسکین کیلئے جسموںکونوچ کرخُدا اور اِنسان دونوں کے گناہ گار ہوتے جارہے ہیں۔ ذہنی تسکین،آنکھ کے لالچ،دل کی حسرت،پیٹ کی ہوس اور جسم پرستی نے ہمیں انسان نماگِد بنادیاہے۔ ہم روحوں کے عشق کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے جسموں کی حسرت پوری کررہے ہیں۔ میری تمام باتیں وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ مَیں نے اِس دوران انہیں لیڈی گاگا کے کنسرٹ کا حوالہ بھی دیا۔ جس مِیں لیڈی گاگا گانا گاتے گاتے اپنے مداہوںمِیں پہنچ گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے روکا تو کہنے لگی ”یہ میرے لوگ ہیںمجھے اِن سے کوئی خطرہ نہیں“ اور وہ چند منٹوں تک مداحوں مِیں رہی۔ اِس دوران مداحوں نے اُسے اپنے کندھوں پر بھی اٹھایا اور وہ واپس سٹیج پر آکر معمول کے مطابق پرفارم کرنے لگی۔ میری یہ بات سن کروہ بولے۔ چند سالوں کی بات ہے، ایک شخص نے گھر مِیں پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگوایا ہوا تھا۔ گذشتہ کئی سالوں سے ایک ترتیب مِیں ماہانہ پانچ چھ ہزار بل آرہا تھاکہ اچانک ایک ماہ بل دس ہزارتک پہنچ گیا۔ موصوف بل لے کر پی ٹی سی ایل کے دفتر پہنچ گئے۔ شکایت کرنے پر خاصی بحث ہوئی۔ انکوائری کرنے پر موصوف کویاد آیا کہ اس ماہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا رہ گیا تھا۔ لہذا جس بھی شخص کو پتہ چلا کہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا ہے اس نے خوب دل بھر کے فون کااستعمال کیا۔ کہنے لگے کہ ایشیاءہو یا یورپ ،امریکہ ہو یا آسٹریلیا، عورت کی بے پردگی جسم پرست انسان کی ذہنی تسکین کے لئے ہمیشہ سے آسان ہدف رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ روح پرستی کی داستانیں عام تھیں آج آئے روز ہمیں ہوس پرستی کے واقعات سننے کوملتے ہیں۔

میں نے پوچھا تو پھر جو لوگ چھوٹی چھوٹی بچیوں اوربچوں کوزیادتی کا نشانہ بناتے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟کہنے لگے” دراصل وہ ذہنی بیمار ہیں۔ وہ اپنی احساس کی حس کھو چکے ہیں،وہ جہالت کے اِس درجے مِیں آتے ہیں جس مِیں انسان اور حیوان کا موازنہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔کہنے لگے ایسے لوگ اس مادہ سانپ کی مانند ہیں جو اپنے بچے خود کھا جاتی ہے۔ 

پس بات اِس نتیجے پر پہنچی کہ کسی بھی معاشرے کے شہری کی ہر قسم کی غربت کی ذمہ داری اِس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ معاشی غربت ہویا ذہنی غربت دونوں ہی معاشرے مِیں بگا ڑ کے ساتھ ساتھ روح پرستی سے ہوس پرستی کی طرف لےکرجاتی ہیں۔ 


A report on the plight of local Christians in Afghanistan

 

A report on the plight of local Christians in Afghanistan

Imtiaz Chughtai

Since the Taliban took over Afghanistan, governments around the world have been making plans to rescue endangered Afghans. Germany, has vowed to evacuate as many as 10,000 people. The UK is currently liaising with civil society partners to find out what kind of people need rescue and how they can be evacuated.

India announced last week that it would give priority to expelling Hindus and Sikhs. The operation is underway

Canada has agreed to issue visas to religious minorities whose lives are in danger under the Taliban. Christians are among Afghanistan's weakest minorities. But over time, the Christian community has become increasingly difficult to trace. Concerns are growing that it is too late and there is no way out.

According to a conservative estimate, the number of Christians in Afghanistan is between ten and twelve thousand. The majority of Christians in Afghanistan are "secret believers." Secret honest people are unable to reveal themselves for fear of dangerous consequences. On a large scale, these people have been hiding their faith for decades, because the believers who appear are punished by death under the Shari'a. Among the secret believers are those who have converted to Christianity from other religions.

Since the fall of the Taliban in 2001, there has been an increase in Christianity in Afghanistan, partly due to a change in security principles due to the US presence in Afghanistan. As the number of converts increased in 2019, dozens of Afghan Christians decided to add their religious affiliation to their national identity cards so that future generations would not have to hide their faith. Before the Taliban took over in 2021, 30 Christians changed their identity cards.

Now the US withdrawal has left Afghan Christians with no choice but to cooperate with the Taliban. The sudden withdrawal of the United States has pushed many innocent lives to the brink of premature death. The United States had no idea of ​​the consequences. The United States had no idea that the Afghan army it had built for a hefty sum of money would be a mountain of sand to the Taliban.

Well, the Taliban are reportedly working to locate Christians. Some local church leaders have sheltered Christians in their homes. With the hope that they will be able to flee the country at any moment. Other Christians are turning to the mountains to save themselves.

According to credible sources, Christians in Kabul have expressed fears that they will soon be killed. During a telephone conversation, a Christian family in Afghanistan said that the Taliban were targeting Christians and other minorities. Christians are also afraid to protect their children.

We know where you are and what you are doing. "Since the Taliban's announcement, many Christians have turned off their phones and moved to unknown locations. During official assignments in Peshawar and Parachinar recently. I met with an Afghan family, details of which I will include in the next report.

Most Christians in Afghanistan do not have passports. Only 20 to 30 percent of people have a passport. Now the question is which country will accept these Christians without passports. The world is considering providing travel facilities for Christians without passports.

Many Afghan Christians are unwilling to risk the perilous journey from Taliban checkpoints to airports.

 And, for now, passports and safe arrivals at the airport are not enough. Some Christian passport holders who have arrived at the airport have not yet been able to leave the country.

افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ

 افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ 

امتیازچغتائی


طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ، دنیا بھر کی حکومتیں خطرے سے دوچار افغانیوں کو بچانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہیں۔ جرمنی ، جس نے زیادہ سے زیادہ دس ہزار لوگوں کو نکالنے کا عزم کیا ہے۔ برطانیہ فی الحال سول سوسائٹی کے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح کے لوگ ریسکیو کا محتاج ہیں اور انہیں کیسے نکالا جا سکتا ہے۔

بھارت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندووں اور سکھوں کو نکالنے کو ترجیح دے گا۔ جس کے لئے آپریشن جاری ہے

کینیڈا نے مذہبی اقلیتوں کو ویزے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے جن کی زندگی طالبان کے تحت خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ افغانستان کی سب سے کمزور اقلیتوں میں مسیحی بھی شامل ہیں۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری کا سراغ لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بہت دیر ہوچکی ہے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان مِیں مسیحیوں کی تعداد دس سے بارہ ہزار کے درمیان ہے۔ افغانستان مِیں زیادہ تر مسیحیوں کی تعداد ”خفیہ ایمانداروں“کی ہے۔ خفیہ ایماندار خطرناک نتائج کے خدشہ کے باعث اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑے پیمانے پرکئی دہائیوں سے یہ لوگ اپنے عقیدے کو چھپائے ہوئے ہیں ۔کیونکہ ظاہر ہوجانے والے ایمانداروں کو شریعت کے تحت موت کی سزا دی جاتی ہے۔ خفیہ ایمانداروں میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو دیگر مذاہب سے مسیحیت میں شامل ہوئے ہیں۔

2001 مِیں طالبان کے زوال کے بعد افغانستان کی مسیحی برداری مِیں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان پر امریکی موجودگی کی وجہ سے سیکورٹی کے اصولوں مِیں تبدیلی کی گئی۔ 2019 میں جیسے جیسے مذہب تبدیل کرنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ، درجنوں افغان مسیحیوں نے اپنی مذہبی وابستگی کو اپنے قومی شناختی کارڈ مِیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنا عقیدہ چھپانا نہ پڑے۔ 2021 مِیں طالبان کے قبضہ کرنے سے قبل 30 مسیحیوں نے اپنے شناختی کارڈ میں تبدیلی کی۔ 

اب امریکہ کے انخلا نے افغان مسیحیوں کے پاس طالبان کے ساتھ تعاون کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ امریکہ کے اچانک انخلا نے بہت ساری معصوم جانوں کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ امریکہ کو ہر گز اس نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ امریکہ کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس افغان فوج کو اس نے بھاری رقم کے بدلے تیار کیا ہے وہ طالبان کے سامنے ریت کا پہاڑ ثابت ہوگی۔ 

خیر مبینہ طور پر طالبان مسیحیوں کا پتہ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کچھ مقامی چرچز کے رہنماوں نے مسیحیوں کو اپنے گھروں مِیں پناہ دے رکھی ہے۔ اِس امید کے ساتھ کہ وہ کسی بھی وقت ملک سے بھاگ جانے مِیں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسرے مسیحی خود کوبچانے کیلئے پہاڑوں کا رخ کررہے ہیں۔

معتبر ذرائع کے مطابق کابل شہر مِیں موجود مسیحیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہت جلد انہیں قتل کردیاجائے گا۔ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران افغانستان مِیں موجود ایک مسیحی خاندان نے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔ مسیحی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بھی خوفزدہ ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں اور آپ کیا کر رہے ہیں۔" طالبان کے اِس اعلان کے بعد بہت سارے مسیحیوں نے اپنے فون بند کردیئے ہیں اور وہ نامعلوم مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ گذشتہ دنوں پشاور اور پارہ چنار کی آفیشل اسائنمنٹ کے دوران افغان خاندان سے میری ملاقات ہوئی۔ اِس ملاقات کی تفصیل مَیں اگلی رپورٹ مِیں شامل کروں گا۔ 

افغانستان مِیں رہنے والے زیادہ تر مسیحیوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں۔ صرف 20سے 30فیصد لوگوں کے پاس پاسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بغیر پاسپورٹ کے اِن مسیحیوں کو کونسا ملک قبول کرے گا۔ عالمی دنیا پاسپورٹ نہ رکھنے والے مسیحیوں کیلئے سفری سہولیات دینے پرغورکررہی ہے۔ 

بہت سے افغان مسیحی طالبان کی چوکیوں سے ہوائی اڈے تک کے خطرناک سفر کو خطرے مِیں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

 اور ، فی الحال ، ہوائی اڈے پر پاسپورٹ اور محفوظ آمد کافی نہیں ہے۔ کچھ پاسپورٹ رکھنے والے مسیحی جو ہوائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں وہ ابھی تک ملک سے باہر نہیں جا سکے ہیں۔


Religious harmony in Pakistan, India after 1947

 Religious harmony in  Pakistan, India after 1947

Imtiaz Chughtai


Pakistan and India enjoy a shared and shining history when it came to religious harmony, relationships with minorities as well as religious tolerance, and interfaith. Despite being a multi-racial, multi-lingual, multi-cultural, multi-religious, and multi-ethnic society various religions, sects and faiths co-existed here for decades sharing common grounds, cultures, and values in the subcontinent. The decade-old local culture, norms, and values have proven enough to tie various religions, communities, and faiths in sheer bonds of care, love, and mutual respect.

Local culture was stronger enough to defuse and neutralize several colliding points present between various thoughts and ideologies. It also provided a strong bond between various religions for co-existence.
At the time of partition, Hinduism, Islam, Christianity, and Sikhism were among the top religions besides many other big and small faiths, customs, and cultures. After the partition, the majorities in the sub-continent started victimizing the smaller religions and communities. Within no time the hate griped the whole continent. Millions of Muslims, Sikhs, Hindus, Christians and Scheduled Castes were killed in the violence.
Pakistan after her creation provided shelter to various religions, faiths, ideologies, and cultures who became prey to violence and hatred. Within the boundaries of a new state, various multi-religious societies and groups started living incoherent and complete religious harmony. Unlike India, the Christians, Hindus and Sikhs, and other minorities were given rights and protection in the constitution of Pakistan. The minorities on the other hand left no stone unturned in playing their due role for the development of the country. A large number of non-Muslims especially Pakistani Christians have laid down their lives while defending Pakistan against Indian aggressions. The Prime Minister recently has inaugurated the opening of the Kartarpur corridor and Gurdwara Darbar Sahib, which is in line with the vision given by Mohammad Ali Jinnah, the founder of the nation.
Since 1947, the majority of governments have gone an extra mile in maintaining relationship minorities in Pakistan. Gurdwara Darbar Sahib in Kartarpur is now the world’s largest Sikh temple. Pakistani Government has also facilitated a large number of the Indian Sikhs pilgrims visiting Gurdwara Darbar Sahib, Kartarpur without any discrimination. On the very first day of its opening, 12 thousand Sikh pilgrims were allowed to visit the corridor and the Gurdwara Darbar Sahib. All the past governments have made efforts in establishing coherence among various religions, cultures, and ethnicities present here. The efforts were made to bring various ideologies close as well as to create a society based upon principles of love mutual respect and co-existence under the green flag.
It was widely perceived, that after her birth, the Secular state of India will learn from her horrific past experiences and violence against minorities. However the said perception failed and India failed to continue as a truly secular state where each religion, ethnicity, and faith may enjoy freedom, religious harmony based upon the concept of co-existence. Due to the worst treatment of minorities’ number of separatist movements have become active in various parts of India. The cultural diversity was of mighty India was rapidly dominated by religious extremism and hate ousting love and mutual respect from the land of Gandhi.
The BJP led government in India is now attempting to promote the decades-old extremist ideology of ‘Hinutva’ amid targeting Muslims, Christians, Dalits, Sikhs, Nagas, and other minorities. Instead of promoting peace and inter-faith, the ruling Party and her allies are provoking religious sentiments based upon religious animosities. The religious minorities in India are not saving anymore and the government has failed in providing them protection. As the big breakthrough of Kartarpur, in neighboring Pakistan boasted the morale of minorities there, the hardcore verdict of the Indian Supreme Court on the Babri Mosque case has triggered more fears and uncertainty among the minorities all over India. Brutal lock-down in Indian Occupied Kashmir has crossed over 100 days and the genocide of Kashmiris continues in the hands of Indian security forces. Now the minorities in India are feeling insecure as well as orphans. The Sikh community that is pleased with the opening of the Kartarpur corridor, is still unable to forget the brutal use of force by India during ‘Operation Blue Star’ targeting her most sacred ‘Golden Temple.’ As a state, India has failed to protect its minorities which Pakistan has done magnificently.
Instead of adopting the hostile approach towards minorities, the need of the time is that India should revise its policies before it’s too late. When it comes to the treatment of minorities, India should learn from the shining experiences of Pakistan. The Minorities in Pakistan are in much better condition as compared to her.
Any state always must ensure the protection of its citizens as well as provide them with chances for better growth and improved living conditions. Like Pakistan, India has to pay more respect to its minorities. Despite efforts, it will take some time for various religions, communities, and faiths to find and re-gain mutual trust in South East Asia.

بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم ضرورت

 

  بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم ضرورت  

امتیاز چغتائی


دنیا میں ایسا کوئی معاشرہ نہیں جہاں بنیادی طور پہ الگ الگ نسلی، مذہبی اور ثقافتی گروہ نہ بستے ہوں۔ جن معاشروں میں بین المذاہب تعظیم کی روایات یاقوانین پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ان معاشروں کو دنیا کی کوئی طاقت کسی بھی پہلو سے شکست نہیں دے سکتی۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کثیر

 المذاہب معاشروں میں بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم خیال ہے ۔یورپ ہو یا امریکہ  انگلستان دنیا کے تمام حصوں میں مذہبی بقائے باہمی میں ہر وقت بہتری کی ضرورت رہتی ہے ۔ عالمی سطح پر مذہبی تضادات نے دنیا کے امن کو داو پر لگا دیاہے، جس کا ذمہ دار کوئی ایک مذہب،قوم، فرقہ یا گروہ نہیں بلکہ اس نقص امن میں تمام فریقین نے کسی نہ کسی شکل میں حصہ ڈالا ہے۔ جس کا خمیازہ کسی ایک مذہب، قوم یا فرقے کو نہیں بلکہ عالمی دنیا کو بھگتنا پڑا۔پوری دنیا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور دیگر واقعات نے معاشروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔نیوزی لینڈ مسجد حملے کے بعد بین المذاہب مکالمے کو یورپ کی تمام حکومتوں بشمول انگلستان نے باہمی تعاون کے ساتھ ترقی کرنے والی حکومتوں کے لئے ضروری قرار دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے معاشرتی، مذہبی اور مالی معاملات کے پس منظرمیں بین المذاہب ہم آہنگی کی فکرنے پاکستان میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کر لی ہے۔ملک بھر میں گزشتہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات نے مذہبی پیشواؤں کوبین العقائد ہم آہنگی کی حمایت کےلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کے لئے مجبور کر دیا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات قابل فکر ہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر امن کے دشمنوں نے کمر کس لی ہے۔ جس کی تازہ مثال بلوچستان میں زائرین کی بس پر فائرنگ کا واقعہ اور خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما پر قاتلانہ حملہ ہے ۔اس صورتحال میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ صبر، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں ۔ہمارے مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح کرائسٹ چرچ مسجد میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد وہاں کی حکومت نے اپنے ملک میں بین العقائد ہم آہنگی کو فروغ دیا اور مذہبی انتہاپسندی کو  باہمی مذہبی تعاون کے ذریعے فی الفور شکست دی, اسی طرح بحثیت قوم ہم امن دشمنوں کو شکست سے دوچار کریں ۔پاکستان ایک کثیر المذہب ریاست ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ہندوستان، چین، افغانستان اور ایران شامل ہیں۔ان ممالک کے ساتھ باہمی مذہبی تعلقات کو مزید وسعت دے کر خطے میں امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔جس سے پاکستان کے اندر خاطرخواہ فوائد حاصل ہوں گے ۔کرتارپور راہداری اس کی ایک مثبت مثال ہے۔ کثیر المذہبی قربت کو پاکستان کے تمام طبقات کو دل سے قبول کرنا چاہئے کیونکہ بین العقائد ہم آہنگی ملک میں مثبت ترقی اور اخلاقی انقلاب کاباعث بنے گی۔اقلیتوں کے لئے غیر منصفانہ طریقہ انتخاب، اجتماعی سوچ کا فقدان، مذہبی غلط فہمیاں، متعصبانہ گفتگو، غربت، ناخواندگی، سماجی اقتصادی وسائل کی غلط تقسیم اور احساس کمتری میں دن بدن اضافہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بڑے چیلنج ثابت ہوئے ہیں ۔مذہبی فرقہ واریت اورعدم رواداری نے ہمارے معاشرے کو بیچوں بیچ بری طرح تقسیم کر دیا ہے ۔ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا مہذب معاشرہ ہوناچاہئے جو بلا مذہبی تفریق عام آدمی کا خدمت گار ہو۔آئین کی روح سے تمام شہری برابر ہیں اور وطن عزیز کے لئے ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مگر ملک میں موجود بعض قانونی اور سیاسی ناہمواریوں نے نفرت اور تعصب کو جنم دیا ہے ۔1977کے بعد مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور مصائب میں بےپناہ اضافہ ہواہے ۔اس دور نے پاکستان کے عوام کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم کیا۔ جس کے بعد اکثریت کا تسلط مختلف اشکال میں طول پکڑ گیا۔ اس سے قطع نظر قیام پاکستان کے بعد مسیحیوں اور پارسیوں نے ہندوستان کے گردونواح سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان مہاجرین کو دوبارہ آباد کرانے، انہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کے بچوں کو رہائشی سہولتوں سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بھی مذہبی اقلیتوں کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔انہی روایات  کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کو ملکی ترقی کے لئے کام کرنا ہوگا۔مسلمان پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کا95% ہیں جبکہ باقی پانچ فیصد میں مسیحی، سکھ، پارسی، ہندو، بہائی اور دیگر مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔کسی بھی ملک کے ریاستی مذہب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں بسنے والے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ بین المذاہب مکالمے، مذہبی غلط فہمیوں کو دورکرنے اور مذہبی تعظیم کے لئے وفاقی سطح پر آئینی کمیٹی قائم کرے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے پاس ہو ۔اور پھر اس کے آگے صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کرنچلی سطح پربین المذاہب غلط فہمیوں کو دور کریں۔مذہبی رہنما گلی محلے کی سطح پر ایک دوسرے کےخلاف نفرت اور کدورت کو دور کریں ۔کمیٹیاں مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے قانون سازی کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کریں۔اگر مذہبی رہنما نماز جمعہ، اتوار کی عبادات میں بین العقائد پیار، محبت اور رواداری کا درس دیں تو مساجد، گرجا گھر، مندر اور دیگر عبادت گاہیں گلی محلے کی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کی بڑھوتری کابہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔پاکستان کو جس قدراندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں ملک مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی طرح کاامتیازی سلوک، عدم استحکام، عدم توازن اورانہیں نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔

ٹک ٹاکرز

 ٹک ٹاکرز


    جس معاشرے میں، میں نے، متاثرہ لڑکی (ٹک ٹاکر) اور چار سو مردوں کے ہوس پرست گروہ نے جنم لیا ہے۔ اس معاشرے میں دولت ، شہرت ، کرسی، جسم اور پیٹ کی ہوس نے ہمارے ضمیر حقیر بنا دیا ہے۔ہمارے معاشرے مِیں اِس بگاڑ کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے مِیں اخلاقیات کی پرورش کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دولت لوٹتے وقت ، شہرت کی بھیک مانگتے وقت ، کرسی چھینتے وقت ، پیٹ کو بھرتے وقت اور جسموں کونوچتے وقت اخلاقیات ، خداکے خوف ، قانون اور ضمیر کی آوازکونظرانداز کردیتے ہیں۔ ضمیر کی آواز نہ سننے والے انسانوں مِیں یہ منفی خصوصیات عام پائی جاتی ہیں۔

 وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی نا کسی طرح اپنی ہوس کو پورا کیا جائے۔ جیسا کہ مَیں نے اوپر بھی ذکر کیا کہ ٹک ٹاکر خاتون بھی اِسی معاشرے کا حصہ ہے اسے گھر سے نکلتے وقت اپنے منفی اور مثبت عمل کے ردعمل کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ شہرت اور دولت کی ہوس میں مصروف ٹک ٹاکر یہ بات کیوں بھول گئی تھی کہ جس پارک مِیں وہ اپنے فرائض منصبی ادا کررہی ہے اسی پارک میں جسم کی ہوس رکھنے والے سیکڑوں مرد موجود ہیں۔ اور یہ وہ مرد ہیں جو سوتے میں بھی اس خیال کی قید مِیں رہتے ہیں کہ کس طرح جسم کی ہوس کو پورا کیا جائے۔گریٹر اقبال پارک میں کچھ ایسا ہی ہوا ۔

 ہوس پرست ٹولہ گریٹر اقبال پارک مِیںکمزور ہدف کے انتظار مِیں تاک لگائے بیٹھا تھا کہ اچانک اُس کی نظر خاتون ٹک ٹاکر پر پڑی۔ جو اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹک ٹاک بنانے مِیں مصروف عمل تھی۔ اُس ٹیم مِیں ایسے غیرت مند مرد بھی شامل تھے جن کی غیرت واقعہ کے آغاز مِیں ہی جواب دے گئی۔ جنہوں نے ون فائیو کے انتظار مِیں بڑی آسانی کے ساتھ اپنی لیڈر کو ہوس پرستوں کے حوالے کر دیا۔ ورنہ چار غیرت مند مردوں کے سامنے چند بے غیرتوں کی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر اخلاقیات اور اپنی عزت کی چادر گھر چھوڑ آئی تھی اور بلا خوف وخطر گریٹر اقبال پارک مِیں موجود مردوں کو دعوت نظر دے رہی تھی۔ پارک مِیں اور خواتین بھی موجود تھیں جنہیں اپنی حدود و قیود کا احساس تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جب خاتون ٹک ٹاکر اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی تو رفتہ رفتہ ہوس پرست مردوں کے ٹولے اُس کے ارد گرد ”داد“ دینے کیلئے جمع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ بات ہوٹنگ پر آئی ، ہوٹنگ کے بعد چھیڑخانی اور پھر قانون نافد کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے یہ واقعہ پیش آ گیا۔ سوچا جائے تو سب سے پہلا مقدمہ گریٹر اقبال پارک کی انتظامیہ کے خلاف ہونا چاہیے جو سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے مِیں ناکام رہی۔اگر بات ذمہ داری کی کی جائے تو سب سے پہلے خاتون ٹک ٹاکر نے غیر معمولی عمل کرکے خود کو ہوس پرست مردوں کے حوالے کیا۔ اس کے بعد ہوس پرست مردوں نے لا حاصل کوشش مِیں خاتون ٹک ٹاکر کورسوا کیا۔ اور رہی سہی کسر ہمارے قانون نافد کرنے والے اداروں نے نکال دی۔ جنہیں بے گناہ ملزم کی بُو تو دور دور سے آجاتی ہے لیکن اقبال پارک مِیں بھیٹریوں کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔ 

خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ گریٹر اقبال پارک مِیں ہونے والے واقعہ پر ہر انسان افسردہ ہے۔ لیکن بات غور طلب ہے، کیا اس واقعہ کے بعد خاتون ٹک ٹاکر بھی خوف زدہ ہے۔ کیا اُس واقعہ کے بعداُس کی آنکھوں مِیں شرمندگی موجود ہے۔ کیا آئندہ وہ ایسے کھلے عام ٹک ٹاک بنانا چھوڑ دے گی۔ کیا وہ اُس کیمرے کے سامنے آنا چھوڑ دے گی جس کمیرے کی آنکھ نے اُسے پوری دنیا کے سامنے رسوا کیا۔ اِن سوالوں کا جوابات تو اُس کا ضمیرہی دے سکتا ہے۔ لیکن میرے لئے ایک بات لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔

 جس دن سے خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اُس دن کے بعد وہ میڈیا کے ہر کیمرے کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اُس کو اِس بات کا احساس نہیں کہ وہ اِس واقعہ کے بعد فخر کے ساتھ ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے اپنی شناخت پریڈ کروا رہی ہے۔ وہ لوگوں کو بتا رہی ہے کہ میں ہی وہ ہوں جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ نام نہاد ہمدرد اینکرپرسنز ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے ہمدردی کی آڑ مِیں اُس کے چرچے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 

بہر حال مَیں نے اپنی صحافتی زندگی مِیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھی ہیں۔ ”کہ ہواوں مِیں اڑنے والوں کے پیروں سے زمین نکل جایا کرتی ہے“ پھر وہ لوگ نہ تو آسمان کے رہتے ہیں اور نہ ہی زمین انہیں پاوں رکھنے کی جگہ دیتی ہے۔ 

خدارا شہرت اور دولت کمانے کے اور بھی ہزاروں عزت دار طریقے موجود ہیں۔ احتیاط کیجئے، جس معاشرے مِیں آپ رہتی ہیں اُس معاشرے مِیں جسم کی ہوس پوری کرنے کی لئے عمر، رنگ ،نسل اور خوبصورتی ، بدصورتی کوبالائے تاک رکھ کرخاتون کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ لہذا خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوس پرستی کی بھینٹ چڑھنے سے بچنے کیلئے گھر سے نکلتے وقت اپنی اخلاقی حدود کا خیال رکھیں، اپنے ماں باپ کی عزت سے قبل اپنی عزت کا خود احترام کریں۔