ایک ہے گُل پری
تیسرا اور آخری حصہ
امتیازچغتائی
میں آج بہت خوش تھی، میں زندگی کے اس حصے میں شامل ہونے جارہی تھی جس کا ہر عورت خواب دیکھتی ہے۔ میں ”کبھی ہاں کبھی نہ“ کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ گذشتہ سالوں میں جومیرے ساتھ ہوا وہ ایک تنہا عورت کے لئے کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ دوسری طرف میں نے اپنے حسین خوابوں کا محل تعمیرکرنا شروع کردیا تھا۔ جس قدر اس شخص نے مجھ پر وفاداری نبھانے کے پے درپے وار کئے وہ کوئی مظبوط عورت بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ میں نے اس سے کچھ دن کا وقت مانگا۔ اس نے مجھے سوچنے کاوقت دیا۔ اس دوران وہ مجھ سے رابطے
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“
ایک دن اس نے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا تو میں نے اس سے سوال کیا ” تم میرے لئے کیاکرسکتے ہو؟“ محبت اور وفاداری کے دعووں کے بعد وہ بولا”میری پاس جو کچھ بھی ہے سب تمہارا ہے“ میں نے کہا پھربھی ، وہ بولا” میری نئی گاڑی تمہارے نام ، میرا گھر تمہارے نام ، اس کے علاوہ جو کچھ تم چاہو وہ سب تمہاراہوا۔“(میرے سوال کا مطلب کچھ اپنے نام لکھوانا نہیں تھا، یہ سوال محض ملاقات کا تقاضاتھا)
میں نے اس ملاقات میں ”ہاں“ کردی۔ اس نے مجھے ہوسٹل سے لینا ، آفس لے جانا ، آفس سے لینا اور ہوسٹل چھوڑدینا۔ یہ سلسلہ چار ماہ تک چلتا رہا۔ میں خود میں مظبوط ہوتی گئی۔ بات شادی تک پہنچ گئی۔ میں نے افغانستان میں اپنی بہن سے بات کی اور بڑی سادگی سے ہمارا نکاح ہوگیا۔ ہمارے نکاح کے بارے میں اس کے گھروالوں کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے اپنے گھروالوں کونکاح میں شامل کیاتویہ نکاح ممکن نہ ہوگا۔ یہاں مجھے احساس ہوگیا تھاکہ اس کے گھروالوں کے علم میں لائے بغیرنکاح کا فیصلہ غلط ہے۔ بہرحال میں اب چلتی گاڑی کوروکنا نہیں چاہتی تھی۔
نکاح کے ایک ماہ کے بعد بھی میں ابھی تک ہوسٹل میں مقیم تھی۔ بیوی ہونے کے ناطے جب بھی میں اس کے ساتھ رہنے کاتقاضاکرتی تووہ یہ کہہ کرٹال دیتا کہ تھوڑا صبرکرو، ابھی حالات ٹھیک نہیں۔ میں خاموش ہوجاتی۔ اس معاملے پرکئی بار ہماری بحث تکرار بھی ہوتی اور میں پھر تھک ہار کرخاموش ہوجاتی۔ میں نے اپنے نکاح کے گواہوں سے بھی بات کی لیکن کسی نے کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا۔
میں نے اسے کہا کہ میں خود تمہارے گھروالوں سے بات کروں؟ تو وہ مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دیتا۔ ہمارے نکاح کوایک سال ہوچکا تھا۔ اسی دوران ایک دن جب میں نے اسے امیدسے ہونے کی خوشخبری سنائی تووہ خوش ہونے کی بجائے مجھ سے لڑنے لگا۔اب میں ایک نئی مشکل کاشکارہوچکی تھی۔ میں اس کوباربار اپنے گھرلے جانے کی درخواست کرتی۔ وہ ہربارمجھے ٹال دیتااورمناسب وقت کاانتظارکرنے کوبولتا۔
آہستہ آہستہ اس کا رویہ مجھ سے جان چھڑانے والا ہوگیا۔ اس دوران میں نے نوکری بھی چھوڑ دی تھی۔ وہ کئی کئی دن تک میری کال نہ لیتااور جب میں زیادہ کالزکرتی تووہ میرا نمبربلاک کردیتا۔ میری مشکلات کا دورایک بار پھرشروع ہوچکاتھا۔ ایک شام میری طبعیت بہت خراب تھی، وہ میرے پاس آیا، مجھے کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ لیڈی ڈاکٹر کی ادویات لینے کے بعد میری طبعیت اور بگڑ گئی اور میری امید جاتی رہی۔ میں بہت روئی، میں دن رات جاگتی رہتی، کھانا پینا میرے لئے ناممکن ہوگیا۔
ایک دن میری ایک دوست مجھ سے ملنے آئی ، میں نے اسے سارا واقعہ سنایا وہ مجھے ہسپتال لے گئی۔ مجھے وہاںجا کہ پتہ چلا کہ میری ادویات زندگی دینے والی نہیں بلکہ زندگی لینے والی تھیں۔ میرے وجود کا حصہ مجھ سے الگ کردیا گیاتھا۔
اب میںایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے بمشکل اس کے ساتھ رابطہ کیااور اس سے طلاق کا تقاضا کردیا۔ وہ شائد پہلے ہی اس بات کے کیلئے تیار بیھٹا تھا۔
جو لوگ میرے نکاح کے گواہ تھے وہی میری طلاق کے گواہ بھی بنے۔
کچھ لوگوں نے مجھے پوچھا ” تم نے حق مہر کتنا لکھوایا تھا؟“ میں نے جواب دیا ”مجھے اتنی مہلت ہی نہ دی گئی کہ میں اپنے حق کی بات کرپاتی۔“
رفتہ رفتہ میرے لئے زمین اس قدر تنگ کردی گئی کہ میں خود کشی کی تیاریاں کرنے لگی۔ میں ایک خاوند کے ہوتے ہوئے بھی تنہا تھی اور وہ محفلوں کا گھڑسوار تھا۔ ایک دو بار میں نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی تومجھے بچا لیاگیا۔
طلاق ملنے کے بعد میں پھر اس موڑپر آ کھڑی ہوئی ہوں جس سے میں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب میں نے طلاق یافتہ کی حیثیت سے جینا شروع کیا۔ وہ شخص اس قدر کم ظرف نکلا کہ اس نے پیچھے مڑکے بھی نہ دیکھا۔ طلاق والے دن اس کے چہرے پر رتی بھر ندامت نہیں تھی۔ وہ ایسے انجان بنا ہوا تھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ اس کی غیرت مر چکی تھی اور میری روح مر چکی تھی۔ اس کا ضمیر مر چکا تھا اور میرا پیار مرچکا تھا۔ اس دوران میں نے امید، محبت، اہمیت کو بہت قریب سے دیکھا، میں نے اعتبار کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا، میں نے پھول کو خوشبوسے الگ ہوتے دیکھا۔ مرد ایک ایسا سمندر ہے جس میں دنیا کی سب ندیاں بھی جا گریں تو وہ کبھی نہیں بھرتا۔
”سب باطل ہی باطل ہے، سب کچھ بے معنی ہے“
آج میں نے وہ ہوسٹل چھوڑ دیا ہے، امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد افغانستان میںرہنے والی میری بہن اپنے خاوند کے ہمراہ پاکستان کے افغان سرحدی علاقے منتقل ہوگئی۔ گذشتہ مہینے میں اپنی بہن کے پاس چلی آئی۔ یہاں اس نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا اور اب میں نے ایک بار پھر اپنی پڑھائی شروع کردی ہے۔
میں نے اس شخص کو دل سے معاف کردیا ہے۔ جب تک میں نے اسے معاف نہیں کیا تھا اس وقت تک اس کے ظلم میرے جذبات پر سوار رہتے تھے۔ جب سے میںنے اسے معاف کردیا ہے میں خود کوآزاد محسوس کررہی ہوں۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔ میں پڑھ لکھ کر ایک دن بہت بڑی انسان بنوں گی اور ہر اس انسان کی مدد کروں گی جس کو میری مدد کی ضرورت ہوگی۔








0 Post a Comment:
Post a Comment