Search This Blog

COVENANT



The key points of the agreement between the government of Pakistan and the banned organization (Tehreek-e-Labek Pakistan) came to light.

Islamabad(Tanveer Kashif)

According to our sources, under the agreement, the banned organization will refrain from any future long march or sit-in and will join the political mainstream as a political party in future.

Sources said that the government under the agreement

 It will release the arrested activists of the banned outfit. However, the activists facing serious cases including terrorism will have to seek relief from the court. The activist of the banned outfit will end their sit-in by tonight Will not take any action.

Sources further said that Mufti Muneeb-ur-Rehman acted as the guarantor of the agreement on behalf of the banned organization while Shah Mehmood Qureshi(Foreign Minister), Asad Qaiser(Speaker National Assembly) and Ali Muhammad Khan(Member National Assembly) signed the agreement on behalf of the government of Pakistan.

It may be recalled that the banned TLP workers marching towards Islamabad have been present in Wazirabad for three days.

Life in various cities of Punjab, including Gujranwala and Wazirabad, has been paralyzed and internet service has been shut down due to sit-ins by workers of the banned outfit. Preparing to leave.


کنکریٹ کی قبریں

 کنکریٹ کی قبریں 


امتیازچغتائی
چند دن قبل کی بات ہے میں اپنے آفیشل وزٹ پر سپرنٹنڈٹ جیل سرگودھا کا انٹرویوکرنے سرگودھا گیا ہوا تھا۔ سرگودھا میرا آبائی شہر ہے یہی وجہ ہے کہ میرے ننیال اور دھدیال بھی وہی رہتے ہیں۔ کام سے فارغ ہوکر مجھے اپنے ماموں کے گھر اُن کی تیمارداری کیلئے جانا تھا۔ میں نے بڑے بھائی سے درخواست کی کہ میرے ساتھ چلیں۔ پھل خریدنے کی غرض سے ہم امین بازار کی طرف چلے گئے۔ بازار میں گھسے ہی تھے کہ ہر دو قدم پر مانگنے والے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب پیشہ ور بھکاری اور ضرورت مند انسان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ کہ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پرچھلانگیں میں ہی خوش ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ درختوں کی جڑوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔میں۔آپ اور ہم سب کہیں نہ کہیں ضرورت مند ہیں اور اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہم ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لئے ضرورت مند ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے حالات قدر ابتری کی جانب رواں دواں ہیں کہ سفید پوش افراد سر چھپاتے ہیں تو پاوں ننگے ہوجاتے ہیں اور پاوں چھپاتے ہیں توسرننگا ہوجاتا ہے۔ اسی کشمکش میں مبتلا ہم زندگی کی ضروریات پوری کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کسی کو دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی ضرورت ہے تو کسی کو بچوں کے سکول کی فیس ادا کرنی ہے۔ کسی کو بیماری کا اعلاج کرواناہے توکسی کو بیٹی کی شادی کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ضرورت مند افراد کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ضرورت پوری کرنے والوں کی شرح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نے انسان کو انسان کا محتاج بنا دیا ہے۔ معاشرتی حالات نے ہمیں اس قدرگنہگار کردیاہے کہ ہم دووقت کی روٹی کیلئے خداکی بجائے انسانوں پرتکیہ کرنے لگے ہیں۔ 
توبات ہورہی تھی امین بازار کی، بڑے بھائی ضرورت کے مطابق پھل لے کرابھی گاڑی میں بیٹھنے ہی لگے تھے کہ ایک بچہ آگے بڑھا اور بھائی سے کہنے لگا کہ میرے پاس کچھ پنسلز ہیں آپ یہ خرید لیں۔ بھائی نے بولا ایک پنسل دے دیں لیکن وہ بچہ ساری پنسلزبیچنے پر بضد تھا۔ بھائی نے ایک پنسل لی اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے بھائی سے پوچھا بچہ کیا کہہ رہا تھا؟ تو بھائی نے جواب دیا، بچہ کہہ رہا تھا” کہ امیرکو امیرکئے جارہے ہوغریب کا بھی خیال کرلیاکرو۔“ یہ محض الفاظ نہیں ہیں ، یہ جذبات ہیں، یہ آنسوہیں یہ ضرورت ہیں یہ کیفیت ہیں یہ صاحب حیثیت کے منہ پرتمانچاہیں۔ آج ایک ہفتہ گذرنے کو ہے لیکن یہ الفاظ میرے اندر چپک کررہ گئے ہیں۔ ملکی مالی اعشاریوں کو ایک طرف رکھ کراگر بات کی جائے توہمارے معاشرے میں ضرورت مند لوگوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا مخیرحضرات نے اپنا ہاتھ کھینچ لیاہے؟ کیا بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کھانے والے زیادہ ہوگئے اور اور کمانے والے کم: کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرے ۔ لیکن ہمارے ہاں ریاست کی بنیادی ذمہ داری امیرکا پیٹ بھرنا اور غریب کے منہ سے نوالہ چھینناہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی اموات کی شرح کم ہے اور ضمیرکی اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جسمانی قبریں مٹی سے بنائی جارہی ہیںاور ضمیرکی قبریں کنکریٹ سے پختہ کی جارہی ہیں۔ حوص ،لالچ اور خود غرضی نے ہمیں اس قدر اندھا کردیا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد ضرورت مند نظرنہیں آرہے۔ ریاست کی ناکامی اپنی جگہ لیکن اخلاقی فرائض اور اخلاقی قدروں کو ہم نے اپنے اندر جنم ہی نہیں لینے دیا۔ مخیرحضرات بھی سیاستدانوں اور بیورکریٹس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے پیٹ کی آگے بجھانے میں مصروف عمل ہیں۔ 
تحریک انصاف کی حکومت (نااہلوں کاٹولہ) نے ”گرتی ہوئی دیوار کوایک دھکہ اور دو“ کا نعرہ سچ ثابت کردیاہے۔ کیا خوب مثال ہے کہ ” زیادہ گرجنے والے برستے نہیں۔“ 
ہمیں یہ فرض اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا، اپنے ارد گرد ضرورت مندوں کی ضرورت بنناہوگا۔ اگر کوئی ضرورت بیان نہیں کرسکتا تواس کی ضرورت محسوس کرناہوگی۔ اپنے ارد گرد کسی کی ضرورت جاننے کیلئے بہت سے خفیہ اور سادہ طریقے میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ضرورت پوری کرتے وقت ارد گرد کے دوستوں اور رشتہ داروں کی اسی ضرورت کومحسوس کریں۔ اگر ہم ماہانہ راشن لینے جاتے ہیں توچند لمحوں کیلئے سوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کون بھوکاہے۔ اگر ہم بچوں کی فیس جمع کروانے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کونسابچہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول نہیں جاپارہا۔ اگر ہم موسمی کپڑے خریدنے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کس بچے کے پاس گرم کپڑے یا جوتے نہیں ہیں۔ 
اگر ہم دوسروں کی ضرورت کے لئے تھوڑا سوچیں گے توخدااس کی ضرورت پوری کرنے کی ہمت ہمیں خود عطا کرے گا۔ 
 

Most Christians in Afghanistan are underground

Most Christians in Afghanistan are underground

Pakistan(Imtiaz Chughtai)

Nehemiah told about one man named Abdor, who became a Christian with his whole family while in Pakistan. “He was with us for the last few months. He is from Afghanistan, studying in Pakistan, and he said last month that he was going to Afghanistan for evangelism purposes. And it’s been more than a week since we have been unable to hear from him. We have lost contact.”

The Taliban’s conquest of Afghanistan puts Afghan Christians in great danger. Nehemiah says it’s a small community, and many of them converted to Christianity from other faiths. “The number of Christians in the country is thought to be below 30,000, perhaps as low as 1,000. Because most Christians in Afghanistan are underground.”

Afghanistan has very little in the way of an organized church. There is a small Catholic church located in the Italian embassy in Kabul, but Nehemiah says that has been shut down.

Historically, Afghan Christians have belonged to the sprawling Church of the East, once the largest Christian communion in the world.

Despite these low numbers, the Taliban is keeping a close eye on Christians, even sending them letters warning them not to meet. Nehemiah says, “One man received a letter saying his house now belongs to the Taliban. He’s a simple man who makes crafts, and his entire savings are in his house. The Taliban will take the property and the assets of Christians.”

Pray for the safety of Christian women in Afghanistan, as the Taliban may seek to kidnap them as well. Nehemiah says, “Christians in Afghanistan will be bracing themselves. Will they be forced to convert back to other faiths? Will they be killed if they refuse?”