Search This Blog

افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ

 افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ 

امتیازچغتائی


طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ، دنیا بھر کی حکومتیں خطرے سے دوچار افغانیوں کو بچانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہیں۔ جرمنی ، جس نے زیادہ سے زیادہ دس ہزار لوگوں کو نکالنے کا عزم کیا ہے۔ برطانیہ فی الحال سول سوسائٹی کے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح کے لوگ ریسکیو کا محتاج ہیں اور انہیں کیسے نکالا جا سکتا ہے۔

بھارت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندووں اور سکھوں کو نکالنے کو ترجیح دے گا۔ جس کے لئے آپریشن جاری ہے

کینیڈا نے مذہبی اقلیتوں کو ویزے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے جن کی زندگی طالبان کے تحت خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ افغانستان کی سب سے کمزور اقلیتوں میں مسیحی بھی شامل ہیں۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری کا سراغ لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بہت دیر ہوچکی ہے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان مِیں مسیحیوں کی تعداد دس سے بارہ ہزار کے درمیان ہے۔ افغانستان مِیں زیادہ تر مسیحیوں کی تعداد ”خفیہ ایمانداروں“کی ہے۔ خفیہ ایماندار خطرناک نتائج کے خدشہ کے باعث اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑے پیمانے پرکئی دہائیوں سے یہ لوگ اپنے عقیدے کو چھپائے ہوئے ہیں ۔کیونکہ ظاہر ہوجانے والے ایمانداروں کو شریعت کے تحت موت کی سزا دی جاتی ہے۔ خفیہ ایمانداروں میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو دیگر مذاہب سے مسیحیت میں شامل ہوئے ہیں۔

2001 مِیں طالبان کے زوال کے بعد افغانستان کی مسیحی برداری مِیں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان پر امریکی موجودگی کی وجہ سے سیکورٹی کے اصولوں مِیں تبدیلی کی گئی۔ 2019 میں جیسے جیسے مذہب تبدیل کرنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ، درجنوں افغان مسیحیوں نے اپنی مذہبی وابستگی کو اپنے قومی شناختی کارڈ مِیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنا عقیدہ چھپانا نہ پڑے۔ 2021 مِیں طالبان کے قبضہ کرنے سے قبل 30 مسیحیوں نے اپنے شناختی کارڈ میں تبدیلی کی۔ 

اب امریکہ کے انخلا نے افغان مسیحیوں کے پاس طالبان کے ساتھ تعاون کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ امریکہ کے اچانک انخلا نے بہت ساری معصوم جانوں کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ امریکہ کو ہر گز اس نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ امریکہ کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس افغان فوج کو اس نے بھاری رقم کے بدلے تیار کیا ہے وہ طالبان کے سامنے ریت کا پہاڑ ثابت ہوگی۔ 

خیر مبینہ طور پر طالبان مسیحیوں کا پتہ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کچھ مقامی چرچز کے رہنماوں نے مسیحیوں کو اپنے گھروں مِیں پناہ دے رکھی ہے۔ اِس امید کے ساتھ کہ وہ کسی بھی وقت ملک سے بھاگ جانے مِیں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسرے مسیحی خود کوبچانے کیلئے پہاڑوں کا رخ کررہے ہیں۔

معتبر ذرائع کے مطابق کابل شہر مِیں موجود مسیحیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہت جلد انہیں قتل کردیاجائے گا۔ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران افغانستان مِیں موجود ایک مسیحی خاندان نے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔ مسیحی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بھی خوفزدہ ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں اور آپ کیا کر رہے ہیں۔" طالبان کے اِس اعلان کے بعد بہت سارے مسیحیوں نے اپنے فون بند کردیئے ہیں اور وہ نامعلوم مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ گذشتہ دنوں پشاور اور پارہ چنار کی آفیشل اسائنمنٹ کے دوران افغان خاندان سے میری ملاقات ہوئی۔ اِس ملاقات کی تفصیل مَیں اگلی رپورٹ مِیں شامل کروں گا۔ 

افغانستان مِیں رہنے والے زیادہ تر مسیحیوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں۔ صرف 20سے 30فیصد لوگوں کے پاس پاسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بغیر پاسپورٹ کے اِن مسیحیوں کو کونسا ملک قبول کرے گا۔ عالمی دنیا پاسپورٹ نہ رکھنے والے مسیحیوں کیلئے سفری سہولیات دینے پرغورکررہی ہے۔ 

بہت سے افغان مسیحی طالبان کی چوکیوں سے ہوائی اڈے تک کے خطرناک سفر کو خطرے مِیں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

 اور ، فی الحال ، ہوائی اڈے پر پاسپورٹ اور محفوظ آمد کافی نہیں ہے۔ کچھ پاسپورٹ رکھنے والے مسیحی جو ہوائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں وہ ابھی تک ملک سے باہر نہیں جا سکے ہیں۔


0 Post a Comment:

Post a Comment