بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم ضرورت
امتیاز چغتائی
دنیا میں ایسا کوئی معاشرہ نہیں جہاں بنیادی طور پہ الگ الگ نسلی، مذہبی اور ثقافتی گروہ نہ بستے ہوں۔ جن معاشروں میں بین المذاہب تعظیم کی روایات یاقوانین پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ان معاشروں کو دنیا کی کوئی طاقت کسی بھی پہلو سے شکست نہیں دے سکتی۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کثیر
المذاہب معاشروں میں بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم خیال ہے ۔یورپ ہو یا امریکہ انگلستان دنیا کے تمام حصوں میں مذہبی بقائے باہمی میں ہر وقت بہتری کی ضرورت رہتی ہے ۔ عالمی سطح پر مذہبی تضادات نے دنیا کے امن کو داو پر لگا دیاہے، جس کا ذمہ دار کوئی ایک مذہب،قوم، فرقہ یا گروہ نہیں بلکہ اس نقص امن میں تمام فریقین نے کسی نہ کسی شکل میں حصہ ڈالا ہے۔ جس کا خمیازہ کسی ایک مذہب، قوم یا فرقے کو نہیں بلکہ عالمی دنیا کو بھگتنا پڑا۔پوری دنیا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور دیگر واقعات نے معاشروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔نیوزی لینڈ مسجد حملے کے بعد بین المذاہب مکالمے کو یورپ کی تمام حکومتوں بشمول انگلستان نے باہمی تعاون کے ساتھ ترقی کرنے والی حکومتوں کے لئے ضروری قرار دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے معاشرتی، مذہبی اور مالی معاملات کے پس منظرمیں بین المذاہب ہم آہنگی کی فکرنے پاکستان میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کر لی ہے۔ملک بھر میں گزشتہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات نے مذہبی پیشواؤں کوبین العقائد ہم آہنگی کی حمایت کےلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کے لئے مجبور کر دیا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات قابل فکر ہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر امن کے دشمنوں نے کمر کس لی ہے۔ جس کی تازہ مثال بلوچستان میں زائرین کی بس پر فائرنگ کا واقعہ اور خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما پر قاتلانہ حملہ ہے ۔اس صورتحال میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ صبر، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں ۔ہمارے مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح کرائسٹ چرچ مسجد میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد وہاں کی حکومت نے اپنے ملک میں بین العقائد ہم آہنگی کو فروغ دیا اور مذہبی انتہاپسندی کو باہمی مذہبی تعاون کے ذریعے فی الفور شکست دی, اسی طرح بحثیت قوم ہم امن دشمنوں کو شکست سے دوچار کریں ۔پاکستان ایک کثیر المذہب ریاست ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ہندوستان، چین، افغانستان اور ایران شامل ہیں۔ان ممالک کے ساتھ باہمی مذہبی تعلقات کو مزید وسعت دے کر خطے میں امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔جس سے پاکستان کے اندر خاطرخواہ فوائد حاصل ہوں گے ۔کرتارپور راہداری اس کی ایک مثبت مثال ہے۔ کثیر المذہبی قربت کو پاکستان کے تمام طبقات کو دل سے قبول کرنا چاہئے کیونکہ بین العقائد ہم آہنگی ملک میں مثبت ترقی اور اخلاقی انقلاب کاباعث بنے گی۔اقلیتوں کے لئے غیر منصفانہ طریقہ انتخاب، اجتماعی سوچ کا فقدان، مذہبی غلط فہمیاں، متعصبانہ گفتگو، غربت، ناخواندگی، سماجی اقتصادی وسائل کی غلط تقسیم اور احساس کمتری میں دن بدن اضافہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بڑے چیلنج ثابت ہوئے ہیں ۔مذہبی فرقہ واریت اورعدم رواداری نے ہمارے معاشرے کو بیچوں بیچ بری طرح تقسیم کر دیا ہے ۔ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا مہذب معاشرہ ہوناچاہئے جو بلا مذہبی تفریق عام آدمی کا خدمت گار ہو۔آئین کی روح سے تمام شہری برابر ہیں اور وطن عزیز کے لئے ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مگر ملک میں موجود بعض قانونی اور سیاسی ناہمواریوں نے نفرت اور تعصب کو جنم دیا ہے ۔1977کے بعد مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور مصائب میں بےپناہ اضافہ ہواہے ۔اس دور نے پاکستان کے عوام کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم کیا۔ جس کے بعد اکثریت کا تسلط مختلف اشکال میں طول پکڑ گیا۔ اس سے قطع نظر قیام پاکستان کے بعد مسیحیوں اور پارسیوں نے ہندوستان کے گردونواح سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان مہاجرین کو دوبارہ آباد کرانے، انہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کے بچوں کو رہائشی سہولتوں سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بھی مذہبی اقلیتوں کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔انہی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کو ملکی ترقی کے لئے کام کرنا ہوگا۔مسلمان پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کا95% ہیں جبکہ باقی پانچ فیصد میں مسیحی، سکھ، پارسی، ہندو، بہائی اور دیگر مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔کسی بھی ملک کے ریاستی مذہب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں بسنے والے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ بین المذاہب مکالمے، مذہبی غلط فہمیوں کو دورکرنے اور مذہبی تعظیم کے لئے وفاقی سطح پر آئینی کمیٹی قائم کرے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے پاس ہو ۔اور پھر اس کے آگے صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کرنچلی سطح پربین المذاہب غلط فہمیوں کو دور کریں۔مذہبی رہنما گلی محلے کی سطح پر ایک دوسرے کےخلاف نفرت اور کدورت کو دور کریں ۔کمیٹیاں مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے قانون سازی کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کریں۔اگر مذہبی رہنما نماز جمعہ، اتوار کی عبادات میں بین العقائد پیار، محبت اور رواداری کا درس دیں تو مساجد، گرجا گھر، مندر اور دیگر عبادت گاہیں گلی محلے کی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کی بڑھوتری کابہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔پاکستان کو جس قدراندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں ملک مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی طرح کاامتیازی سلوک، عدم استحکام، عدم توازن اورانہیں نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔







Very True
ReplyDeleteImtiaz bro you have done good job