کنکریٹ کی قبریں
ایک ہے گُل پری
ایک ہے گُل پری
تیسرا اور آخری حصہ
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“
Protests against landlords in front of Rawalpindi Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.
Protests against landlords in front of Rawalpindi Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.
f Pakistan, and the Chief Justice of Pakistan take immediate legal action against the accused. Protesters held banners and placards with slogans calling for justice.
خواجہ سرائاتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
خواجہ سرا اتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسجینڈرز الائنس کی چیئرپرسن صبا گل کہنا تھا کہ ہمارے کچھ خواجہ سرا ڈھوک کالا خان کے علاقے میں کراے کے ایک مکان مِیں رہائش پذیرہیں۔ آدھی رات کومالک مکان آیا اور زبردی گھرسے بے دخلی کا نوٹس دے دیا۔ جب خواجہ سراوں نے بے دخلی کی وجہ پوچھی تواس نے انہیں مارنا شروع کردیا۔ مارپیٹ کرنے کی اس نے وڈیوبھی بنائی جسے بعد ازاں اس نے انٹرنیٹ پروائرل کردیا۔ مالک مکان تاحال زبردستی گھر خالی کرانے کیلئے مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا رہاہے۔ صباگل نے صدر پاکستان ،وزیراعظم پاکستان ، اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کا فی الفورنوٹس کرملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف کی فراہمی کے نعرے درج تھے۔
ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)
ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)
امتیازچغتائی
نامعلوم کالزاور میسجزسے مَیں اِس قدر تنگ تھی کہ اب کال اٹینڈ کرنے سے پہلے ہزار باریہ بات ذہن مِیں آتی کہ ایک نئی آزمائش کا سامنا ہوگا۔ مَیں نے فون کی سکرین دیکھی تو پی ٹی سی ایل کا نمبردکھائی دیا۔ مَیں نے کال ریسیوکئے بغیر فون رکھ دیا اور سوگئی۔ بھوک کی شدت اِس قدر زیادہ تھی کہ رات کئی بھر آنکھ کھلی، پانی پیتی اور صبح ہونے کا انتظار کرتی۔ آج کی رات بہت بھاری تھی۔ صبح آنکھ کھلی، نمازپڑھی اور امید کی دنیا مِیں واپس چلی گئی۔ ٹھیک ساڑھے نو بجے اُسی پی ٹی سی ایل کے نمبرسے ایک بار پھر کال آئی۔ اِس بار مَیں سمجھ گئی تھی کہ یہ کال میرے روزگار کا باعث ہوسکتی ہے۔ آج صبح مَیں ذہنی طورپر بہت زیادہ تروتازہ تھی۔ ایک امید تھی کہ ”جب ہم مشکلات کا نیک نیتی، بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں تو یہی مشکلات ہمارے لئے آسانیوں کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ مَیں اِس بات کا تجربہ کرچکی تھی کہ وہی خوشی اور پیسہ آپ کا اپنا ہے جو آپ کی دسترس مِیں ہے۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ تنہائی مِیں اللہ کے ساتھ گذارا ہوا وقت کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔“
مَیں نے اللہ کا نام لے کر کال اٹینڈ کی تودوسری طرف سے ایک خاتون بڑے کرخت لہجے مِیںبولی، ”گل پری، G\10-3 اسلام آبادکے سیکٹرکے فلاں فلاں دفترمِیں آپ کی نوکری ہوگئی ہے، آج آپ دفترآئیں۔“ ابھی مَیں نے یہ الفاظ سنے ہی تھے کہ میرا دل دگنی رفتار سے دھڑکنے لگا۔ مَیں خوشی کے مارے پھولے نا سما رہی تھی۔ میرے ہاتھ خوشی سے کپکپا رہے تھے۔ اسی دوران میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے۔ ”اس خوشی کوایک ایسی عورت ہی محسوس کرسکتی ہے جس نے اس معاشرے کی ہر وہ ٹھوکر کھائی ہو جس کے بارے مِیں اس نے سوچا بھی نہ ہو۔“
مَیں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔ تیار ہوئی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس دفتر پہنچ گئی۔ جب آپ نیک نیتی سے اللہ کے ساتھ چل رہے ہوں تودوسری طرف شیطان بھی آپ کو ہرطرح سے ورغلانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت مَیں آپ کوخودکو اور زیادہ مظبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مَیں دفتر جانے کیلئے لوکل گاڑی مِیں بیٹھی ہوئی تھی کہ مَیں نے ساتھ والی خاتون سے پوچھا کہ ”اس دفتر کی لوکیشن کیا ہے، وہ بولی: یہ دفتر آپ کے ہوسٹل سے بہت دور ہے آپ میرے ساتھ چلو مَیں آپ کواچھی نوکری لگوا دوں گی۔ کہنے لگی اسلام آباد مِیں ایک بہت معیاری مساج سنٹرہے وہاں آپ کی نوکری ہوجائے گی اور آپ کو آپ کی سوچ سے زیادہ پیسے ملےںگے۔“ مَیںایک لمحے کیلئے لالچ مِیں آگئی اور مَیں نے ہاں کردی۔ چند لمحوںبعد مَیں نے اسے صاف انکار کردیا۔
مَیں دفتر پہنچی تومجھے میرے باس نے بڑی عزت کے ساتھ میرے کام کے بارے مَیںسمجھایا۔ وہ انتہائی اچھے انسان تھے اور محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے معاشرے مِیںعورت کوعزت دینے والے مرد ابھی باقی ہیں۔ مَیں ہر روز باقاعدگی سے دفتر جاتی اپناکام پورا کرتی، میرے اخلاق اور رویے سے سب ساتھی مطمئن تھے۔ دو ماہ گذرنے کے بعد سب مرد اور خواتین ساتھیوں کو معلوم ہوناشروع ہوگیا کہ ”مَیں اس ملک مِیںتن تنہا ہوں، ہوسٹل مِیںرہائش پذیر ہوں، اورلوکل گاڑی مِیں دفتر آتی جاتی ہوں۔“ اب میرے ہی دفتر کے ساتھی جن کے پاس گاڑیاں یا موٹربائیک تھیں وہ چھٹی ہونے پرمختلف بہانوںسے پارکنگ یا دفتر کے گیٹ پرمیرا انتظارکرتے، براہ راست تو کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ مجھے لفٹ کی پیشکش کرے۔ لیکن ہمدردی کے عنصرکاسہارا لیتے ہوئے مجھے ہوسٹل چھوڑ دینے کی پیشکش کی جاتی۔ جب مَیں وہاں انکار کردیتی تومیرے ویگن سٹاپ پر میرے کچھ ساتھی اس انتظار مِیں ہوتے کہ ویگن نہ ملنے پرمجھے لفٹ دیں۔ ایک دن تو میرے ایک سنئیر ساتھی فوڈ کیبن مِیں آئے اور میرے پوچھے بنا اپنی بیگم کی میرے ساتھ خوب چغلیاں کرنے لگے۔ حالانکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اچھے صاف ستھرے استری کردہ کپڑے پہن کر آتے ۔ روزانہ اپنے ٹفن مِیں اچھے اچھے گھرکے تیار کردہ کھانے لے کرآتے۔ ایک دن ہم ساتھی خواتین میں ان سنئیر ساتھی کی بات ہورہی تھی تو خواتین ساتھیوں نے بتایا کہ ”اُن کی بیگم بہت اچھی ہے اور اُن کی شادی شدہ زندگی بھی بہترین اندازمِیں گذررہی ہے اورہم ایک دو تقاریب کے سلسلے مِیں ان کے گھردعوت پر بھی جاچکے ہیں۔“ میرے دفترمِیں میرے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی پر مبنی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن میرے ایک ساتھی نے براہ راست مجھے شادی کی پیشکش کردی۔ اور اِس پیشکش کا سلسلہ کافی دن تک جاری رہا۔ مَیں چند دن خاموش رہی، اُس کے بعد مَیں نے خواتین ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ جنہوں نے مجھے احساس دلایا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، ”آپ کوخاوند کی صورت مَیں ایک مرد کی ضرورت ہے جو آپ کو اپنانام دے، عزت دے اور آپ کے دکھ سکھ مِیں آپ کے کام آئے۔ مَیں نے بہت سوچنے کے بعد ہاں کردی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ آج کا ہمدرد شخص کل کومیرے ماتھے پر طلاق یافتہ کا ٹیکاسجادے گا۔
نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے تیسرا اور آخری حصہ دو دن بعد شائع کیاجائے گا۔
ایک ہے گُل پری
ایک ہے گُل پری
انٹرویو: امتیازچغتائی
گُل پَری افغانستان کے صوبہ کابل کے علاقے خیرآباد مِیں2003ءمِیں پیدا ہوئی۔ جب گل پری پیدا ہوئی تو امریکہ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرچکا تھا۔ گل پری کیلئے بم دھماکوں اور بندوق کی گولیوں کی آواز ایسے ہی ہے جیسے کسی پر امن علاقے مِیں پٹاخوں کا پھوٹنا: گل پری نے جب ہوش سنبھالا تو اُس کاباپ محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن گل پری کاباپ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا تو واپس نہ لوٹا۔ گل پری نے اپنی ماں اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر اپنے باپ کو بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔ اور کچھ دن بعد پتہ چلا کر اُس کے بابا جان کو گولی ماردی گئی ہے۔ 2014ءمِیں جس دن گل پری کے بابا جان قتل ہوئے اُس دن سے گل پری کی خوشیوں کے موتی بکھرنا شروع ہوئے: وہ موتی آج تک تنہا تنہا رقص سفر مِیں ہیں۔ بابا جان کی موت کے بعد گل پری کی ماں نے گھر کی مالی ذمہ داریاں اٹھائیں اور محنت مزدوری کرکے بچوں کاپیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سکول بھی بھیجا۔ علاقائی خونریزی اور گھریلو مشکلات بھی گل پری کی مسکراہٹیں نہ چھین سکیں۔ گل پری بتاتی ہے کہ وہ بچپن ہی سے بہت شرارتی تھی۔ اُس کی شرارتیں اس قدر حسین تھیں کہ مرجھائے ہوئے دل بھی کھل جاتے تھے۔ ایک دن گل پری سکول مِیں تفریح کے وقت اپنی سہلیوں کے ساتھ نشانہ لگاناکھیل رہی تھی۔ کہ گل کا نشانہ، نشانے پر لگنے کی بجائے اُس کے استاد نصراللہ کے ماتھے پرجا لگا۔ گل کا کہنا ہے کہ اس پتھر کا نشان آج بھی استاد نصراللہ کے ماتھے پرواضح ہے۔
گل پری کاکہناہے کہ ” وہ بچپن مِیں مردوں سے بہت لڑائی کیا کرتی تھی، کیا پتہ تھا کہ جوانی مِیں یہی مرد میرے لئے وبال جان بن جائیں گے۔“ 2017ءکی سردیوں کی شام گل کی اماں جان کوتیز بخار ہوا۔ خاطر خواہ علاج کے باوجود گل کی اماں جان زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اُس وقت گل کی عمر چودہ سال تھی۔ گل کی دونوں بڑی بہنوں کی خاندانی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق شادیاں ہوچکی تھیں۔ ماں کے فوت ہونے کہ بعد خاندان نے فیصلہ کیا کہ گل پری کی فی الفور شادی کرکے اسے پیا گھر سدھار دیاجائے۔ اِس طرح گل پری اپنے گھر والی ہوجائے گی اور زندگی کی مشکلات مِیں بتدریج کمی بھی واقع ہوگی۔
خاندان کے فیصلے کی خبرملی تو گل اُس فیصلے کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ گل نے اپنی بڑی بہن سے رابطہ کیا ”مَیں محض چودہ سال کی ہوں، مَیں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے چھوٹی عمر مِیں شادی نہیں کرنی اور نہ ہی مَیں اِس قدر کمزورہوں کہ مَیں زورزبردستی کے فیصلے قبول کروں گی۔“ گل کی بڑی بہن نے حق کا ساتھ دیا اور گل کو مشورہ دیا کہ راتوں رات سرحد پار کرکے پاکستان چلی جاے۔ گل نے راتوں رات اپنی ایمرجنسی ضروریات کی گھٹڑی باندھی اور پاکستان کا رخ کرلیا۔ باون گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد گل اپنے کامیاب مستقبل کے خوابوں کے ساتھ اسلام آبادپہنچ گئی۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد گل پری نے گرلزہوسٹل مِیں بسیراکیا۔ گل پری گھرسے اتنے پیسے لے کر آئی تھی کہ وہ دوتین ماہ ہوسٹل مِیں گذار سکتی۔
اتنے مِیں ہوسٹل کی دیگر خواتین سے گل کی جان پہچان ہوگئی۔ گل کے مطابق ” مَیں نے نوکری کیلئے اگلے دن جونہی ہوسٹل سے قدم باہر رکھا تو جسم پرست، ہوس پرست، موقع پرست، موقع شناس اور پیشہ وردلال میرے ارد گرد منڈلانے لگے۔ افغانستان مِیں مَیں جنگی جہازوں کی گھن گرج، بم دھماکوں کی گونج اورگولیوں کی بوچھاڑ سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن یہاں ہوس پرست خون خوار بھیڑیوں کی نظریں جب میری آنکھوں سے ہوکر میرے جسم تک جاتیں تومَیں حواس کھو بیٹھتی۔ جب پیشہ ور دلال کی گاڑی اچانک میرے سامنے رکتی تو میرے قدم لڑکھڑا جاتے اور اُن لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ مَیں راستہ بدل لیتی۔ جب مَیں کسی دفتر مِیں نوکری کیلئے جاتی توملکہ دو جہاں کی ساری آسائشیں مجھے دینے کی یقین دھانی کرائی جاتی۔ مَیں سمجھ جاتی کہ دوبارہ یہاں آنا میرے لئے اچھا نہیں۔ کیونکہ مَیں کابل مِیں اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنے باپ اور خاندان کی عزت ساتھ لے کر آئی تھی۔ اِس لئے مجھے اِس بات کا احساس تھا کہ عزت لٹوانے سے بہترہے کہ جس اللہ نے سانسیں دی ہیں یہ سانسیں اسے واپس لوٹا دی جائیں۔ مَیں واپس اپنے روم مِیں آکر زار و قطار روتی۔ ہوسٹل کی بہت ساری خواتین نے مجھے بیچنے کی کوشش کی لیکن مَیں جلد ہی اگلے شخص کی نیت جان جاتی۔ ایک صبح مَیں نوکری کے لئے نکلی تو اُس دن میرے پاس آخری چند روپے تھے۔ کیونکہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، مَیں راستہ بھول گئی۔ اُس دن مجھے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔ مَیں واپس ہوسٹل پہنچی تو میرے جوتوں نے میرے پاوں کاٹ ڈالے تھے۔ بھوک کی شدت میرا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ پیاس کی شدت میری سانس روک رہی تھی۔ مَیں اپنے بیڈ پر آکر گرگئی۔ ابھی مَیں نیم بہوشی مِیں تھی کہ اچانک میرے پستہ حال فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔دوسرا حصہ کچھ دن بعد
نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے چند دن قبل میں نے گل پری کاانٹرویوکیاتھا
روح پرستی سے جسم پرستی تک
روح پرستی سے جسم پرستی تک
امتیازچغتائی
ہمارے ایک بڑے پیارے دوست عمران قریشی صاحب ملتان مِیںرہتے ہیں۔ عمران قریشی سیاسی شخصیت ہونے کے ناطے ہر موضوع پر بات کرنے کی گرفت رکھتے ہیں۔ اکثرموضوعات پر اُن سے بحث و تکرار لگی رہتی ہے ۔ آج اُن کی خیریت دریافت کرنے کیلئے انہیں ٹیلی فون کال کی توبات عمران خان کی حکومت مِیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہوتی ہوئی خاتون ٹک ٹا کر کے واقعہ تک جاپہنچی۔ مَیں نے عرض کیا قریشی صاحب تحریک انصاف کی گذشتہ تین سالہ کارکردگی کے بارے مِیں کچھ کہنا پسند کرینگے؟ کہنے لگے تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے مِیں ناکام رہی۔ مزید زور دے کرکہنے لگے کہ مہنگائی نے غریب انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی بہترین ہوگئی ہے۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ میرے ذہن مِیں ایک بڑا معروف لطیفہ گھومنے لگا۔ جسے زیادہ تردوستوں نے سن رکھا ہوگا۔
”کسی شخص کی سڑک حادثے مِیں موت واقع ہوگئی۔ اُس کی لعش گھر لائی گئی۔ تدفین کے عمل سے کچھ دیر قبل اعلان کیاگیا کہ سب لوگ باری باری آئیں اور فوت ہونے والے شخص کاآخری دیدارکر لیں۔ سب مرد باری باری آئے چہرہ دیکھا اور چلے گئے۔ اب خواتین فوت ہونے والے شخص کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ ایک خاتون بین کرتے ہوئے آئی، مرنے والے شخص کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، غور سے دیکھا اور روتے روتے مرنے والے شخص کی اہلیہ سے مخاطب ہوکرکہنے لگی۔ ” بہن،شکر ہے،بھائی کی آنکھ توبچ گئی۔“ تو مختصربات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت نے غریب عوام کو قبرمِیں اتار دیاہے اور خان صاحب ابھی تک آنکھ بچ جانے کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ خان صاحب مہنگائی نے لوگوں کو اِس قدر مشکل مِیں ڈال دیا ہے کہ اب لوگ اپنے کسی پیارے کی بیماری سے توکم پریشان ہوتے ہیں لیکن زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی ہے کہ اگراُن کا پیارا اللہ کوپیارا ہوگیاتووہ کفن دفن کا انتظام کہاں سے کرینگے۔
ابھی ٹیلی فون کال بند نہیں ہوئی تھی کہ بات خاتون ٹک ٹاکر کے واقعہ تک پہنچ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اُس واقعہ کا افسوس کرنے لگے۔ مَیں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے رُوح پرستی سے جسم پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے مِیں روح سے محبت کا تصور ختم ہوگیا ہے،اب ہم چھو کریقین کرنے کے نظریات کے قیدی ہوگئے ہیں۔ اِس کے بجائے کہ ہم رُوح سے گذرکر امر ہوجائیں ہم یک طرفہ تسکین کیلئے جسموںکونوچ کرخُدا اور اِنسان دونوں کے گناہ گار ہوتے جارہے ہیں۔ ذہنی تسکین،آنکھ کے لالچ،دل کی حسرت،پیٹ کی ہوس اور جسم پرستی نے ہمیں انسان نماگِد بنادیاہے۔ ہم روحوں کے عشق کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے جسموں کی حسرت پوری کررہے ہیں۔ میری تمام باتیں وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ مَیں نے اِس دوران انہیں لیڈی گاگا کے کنسرٹ کا حوالہ بھی دیا۔ جس مِیں لیڈی گاگا گانا گاتے گاتے اپنے مداہوںمِیں پہنچ گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے روکا تو کہنے لگی ”یہ میرے لوگ ہیںمجھے اِن سے کوئی خطرہ نہیں“ اور وہ چند منٹوں تک مداحوں مِیں رہی۔ اِس دوران مداحوں نے اُسے اپنے کندھوں پر بھی اٹھایا اور وہ واپس سٹیج پر آکر معمول کے مطابق پرفارم کرنے لگی۔ میری یہ بات سن کروہ بولے۔ چند سالوں کی بات ہے، ایک شخص نے گھر مِیں پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگوایا ہوا تھا۔ گذشتہ کئی سالوں سے ایک ترتیب مِیں ماہانہ پانچ چھ ہزار بل آرہا تھاکہ اچانک ایک ماہ بل دس ہزارتک پہنچ گیا۔ موصوف بل لے کر پی ٹی سی ایل کے دفتر پہنچ گئے۔ شکایت کرنے پر خاصی بحث ہوئی۔ انکوائری کرنے پر موصوف کویاد آیا کہ اس ماہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا رہ گیا تھا۔ لہذا جس بھی شخص کو پتہ چلا کہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا ہے اس نے خوب دل بھر کے فون کااستعمال کیا۔ کہنے لگے کہ ایشیاءہو یا یورپ ،امریکہ ہو یا آسٹریلیا، عورت کی بے پردگی جسم پرست انسان کی ذہنی تسکین کے لئے ہمیشہ سے آسان ہدف رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ روح پرستی کی داستانیں عام تھیں آج آئے روز ہمیں ہوس پرستی کے واقعات سننے کوملتے ہیں۔
میں نے پوچھا تو پھر جو لوگ چھوٹی چھوٹی بچیوں اوربچوں کوزیادتی کا نشانہ بناتے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟کہنے لگے” دراصل وہ ذہنی بیمار ہیں۔ وہ اپنی احساس کی حس کھو چکے ہیں،وہ جہالت کے اِس درجے مِیں آتے ہیں جس مِیں انسان اور حیوان کا موازنہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔کہنے لگے ایسے لوگ اس مادہ سانپ کی مانند ہیں جو اپنے بچے خود کھا جاتی ہے۔
پس بات اِس نتیجے پر پہنچی کہ کسی بھی معاشرے کے شہری کی ہر قسم کی غربت کی ذمہ داری اِس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ معاشی غربت ہویا ذہنی غربت دونوں ہی معاشرے مِیں بگا ڑ کے ساتھ ساتھ روح پرستی سے ہوس پرستی کی طرف لےکرجاتی ہیں۔
ٹک ٹاکرز
ٹک ٹاکرز
جس معاشرے میں، میں نے، متاثرہ لڑکی (ٹک ٹاکر) اور چار سو مردوں کے ہوس پرست گروہ نے جنم لیا ہے۔ اس معاشرے میں دولت ، شہرت ، کرسی، جسم اور پیٹ کی ہوس نے ہمارے ضمیر حقیر بنا دیا ہے۔ہمارے معاشرے مِیں اِس بگاڑ کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے مِیں اخلاقیات کی پرورش کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دولت لوٹتے وقت ، شہرت کی بھیک مانگتے وقت ، کرسی چھینتے وقت ، پیٹ کو بھرتے وقت اور جسموں کونوچتے وقت اخلاقیات ، خداکے خوف ، قانون اور ضمیر کی آوازکونظرانداز کردیتے ہیں۔ ضمیر کی آواز نہ سننے والے انسانوں مِیں یہ منفی خصوصیات عام پائی جاتی ہیں۔
وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی نا کسی طرح اپنی ہوس کو پورا کیا جائے۔ جیسا کہ مَیں نے اوپر بھی ذکر کیا کہ ٹک ٹاکر خاتون بھی اِسی معاشرے کا حصہ ہے اسے گھر سے نکلتے وقت اپنے منفی اور مثبت عمل کے ردعمل کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ شہرت اور دولت کی ہوس میں مصروف ٹک ٹاکر یہ بات کیوں بھول گئی تھی کہ جس پارک مِیں وہ اپنے فرائض منصبی ادا کررہی ہے اسی پارک میں جسم کی ہوس رکھنے والے سیکڑوں مرد موجود ہیں۔ اور یہ وہ مرد ہیں جو سوتے میں بھی اس خیال کی قید مِیں رہتے ہیں کہ کس طرح جسم کی ہوس کو پورا کیا جائے۔گریٹر اقبال پارک میں کچھ ایسا ہی ہوا ۔
ہوس پرست ٹولہ گریٹر اقبال پارک مِیںکمزور ہدف کے انتظار مِیں تاک لگائے بیٹھا تھا کہ اچانک اُس کی نظر خاتون ٹک ٹاکر پر پڑی۔ جو اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹک ٹاک بنانے مِیں مصروف عمل تھی۔ اُس ٹیم مِیں ایسے غیرت مند مرد بھی شامل تھے جن کی غیرت واقعہ کے آغاز مِیں ہی جواب دے گئی۔ جنہوں نے ون فائیو کے انتظار مِیں بڑی آسانی کے ساتھ اپنی لیڈر کو ہوس پرستوں کے حوالے کر دیا۔ ورنہ چار غیرت مند مردوں کے سامنے چند بے غیرتوں کی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر اخلاقیات اور اپنی عزت کی چادر گھر چھوڑ آئی تھی اور بلا خوف وخطر گریٹر اقبال پارک مِیں موجود مردوں کو دعوت نظر دے رہی تھی۔ پارک مِیں اور خواتین بھی موجود تھیں جنہیں اپنی حدود و قیود کا احساس تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جب خاتون ٹک ٹاکر اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی تو رفتہ رفتہ ہوس پرست مردوں کے ٹولے اُس کے ارد گرد ”داد“ دینے کیلئے جمع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ بات ہوٹنگ پر آئی ، ہوٹنگ کے بعد چھیڑخانی اور پھر قانون نافد کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے یہ واقعہ پیش آ گیا۔ سوچا جائے تو سب سے پہلا مقدمہ گریٹر اقبال پارک کی انتظامیہ کے خلاف ہونا چاہیے جو سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے مِیں ناکام رہی۔اگر بات ذمہ داری کی کی جائے تو سب سے پہلے خاتون ٹک ٹاکر نے غیر معمولی عمل کرکے خود کو ہوس پرست مردوں کے حوالے کیا۔ اس کے بعد ہوس پرست مردوں نے لا حاصل کوشش مِیں خاتون ٹک ٹاکر کورسوا کیا۔ اور رہی سہی کسر ہمارے قانون نافد کرنے والے اداروں نے نکال دی۔ جنہیں بے گناہ ملزم کی بُو تو دور دور سے آجاتی ہے لیکن اقبال پارک مِیں بھیٹریوں کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔
خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ گریٹر اقبال پارک مِیں ہونے والے واقعہ پر ہر انسان افسردہ ہے۔ لیکن بات غور طلب ہے، کیا اس واقعہ کے بعد خاتون ٹک ٹاکر بھی خوف زدہ ہے۔ کیا اُس واقعہ کے بعداُس کی آنکھوں مِیں شرمندگی موجود ہے۔ کیا آئندہ وہ ایسے کھلے عام ٹک ٹاک بنانا چھوڑ دے گی۔ کیا وہ اُس کیمرے کے سامنے آنا چھوڑ دے گی جس کمیرے کی آنکھ نے اُسے پوری دنیا کے سامنے رسوا کیا۔ اِن سوالوں کا جوابات تو اُس کا ضمیرہی دے سکتا ہے۔ لیکن میرے لئے ایک بات لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔
جس دن سے خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اُس دن کے بعد وہ میڈیا کے ہر کیمرے کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اُس کو اِس بات کا احساس نہیں کہ وہ اِس واقعہ کے بعد فخر کے ساتھ ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے اپنی شناخت پریڈ کروا رہی ہے۔ وہ لوگوں کو بتا رہی ہے کہ میں ہی وہ ہوں جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ نام نہاد ہمدرد اینکرپرسنز ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے ہمدردی کی آڑ مِیں اُس کے چرچے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
بہر حال مَیں نے اپنی صحافتی زندگی مِیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھی ہیں۔ ”کہ ہواوں مِیں اڑنے والوں کے پیروں سے زمین نکل جایا کرتی ہے“ پھر وہ لوگ نہ تو آسمان کے رہتے ہیں اور نہ ہی زمین انہیں پاوں رکھنے کی جگہ دیتی ہے۔
خدارا شہرت اور دولت کمانے کے اور بھی ہزاروں عزت دار طریقے موجود ہیں۔ احتیاط کیجئے، جس معاشرے مِیں آپ رہتی ہیں اُس معاشرے مِیں جسم کی ہوس پوری کرنے کی لئے عمر، رنگ ،نسل اور خوبصورتی ، بدصورتی کوبالائے تاک رکھ کرخاتون کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ لہذا خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوس پرستی کی بھینٹ چڑھنے سے بچنے کیلئے گھر سے نکلتے وقت اپنی اخلاقی حدود کا خیال رکھیں، اپنے ماں باپ کی عزت سے قبل اپنی عزت کا خود احترام کریں۔












