Search This Blog

Beleiver seeks legel help to challenge death sentence


Islamabad (News correspondent)

Ashfaq Masih seeks legal help to challenge death sentence for blasphemy ... !!!

 Ashfaq Masih, allegedly arrested on false charges of blasphemy, was sentenced to death by a Lahore (Pakistan ) Sessions Court on Monday, July 4, 2022, after a five-year trial.

 According to details, Ashfaq Masih accused  of blasphemy for some harsh words while puncturing the bicycle of Maulvi Sahib (Quran- e- Pak teacher )of Ashfaq Masih in Green Town Lahore in 2017, after which the police took immediate action and arrested Ashfaq Masih for blasphemy.  Filed a lawsuit.

 according to reliable  sources  case was conducted on the basis of falsehood and Ashfaq Masih could not get justice for following the case negligently. Ashfaq Masih belongs to a very poor family, Ashfaq Masih (beleiver) was the sole breadwinner of his family. His family is living in extreme poverty. The family of Ashfaq Masih has appealed to the Christian nation of Pakistan and overseas to provide them with immediate legal and legal assistance so that they can file a review appeal in the High Court against the decision of the Sessions Court. 

A beleiver sentenced to death in Pakistan

A believer sentenced to death in Pakistan 


Islamabad (News reporter)

Ashfaq Masih, a very poor Cycle puncturer, in Pakistan ha been sentenced to death by a Lahore sessions court after being jailed for three years.

He was falsely accused of having verbal blasphemy during a conversation with a Holy Quran teacher, Ashfaq Masih a puncturer was arrested three years ago and sent to jail. Yesterday he was sentenced to death because he could not afford a lawyer.


خونی لانگ مارچ


امتیاز چغتائی

گذشتہ دودن سے میرے ذہن میں میرے بچپن کاایک واقعہ کھٹک رہا ہے۔ ہمارے محلے میں ہمارا ہم عمرایک لڑکارہتاتھا۔  وہ انتہائی چالاک، ہوشیار، باتوں باتوں میں سمندرعبورکردینے والا، مٹی کوسونابنادینے والاتھا۔  اس کاکام سارا دن آوارہ گردی کرنا، کبھی کسی کوچھیڑنا، کبھی کسی کوتنگ کرنا اورادھرادھرکی باتیں ہانکنا تھا۔ محلے والے کیااُس کے گھروالے بھی اکثراُس سیتنگ ہی رہتے تھے۔  ایک دن کاذکرہے کہ وہ کسی محلے والے کاموٹرسائیکل کسی بہانے سے لے گیااورموٹرسائیکل چلاناسیکھنے کی خاطرسارادن چلاتارہا۔  گھرواپس آیاتوحادثے کے باعث موٹرسائیکل تباہ ہوچکاتھااوراس کے جسم پرچندرگڑوں کے نشانات تھے۔ باپ نے پریشانی کے عالم میں پوچھا’’بیٹا، تمہیں کیاہواہے؟ وہ بولا،  ’’اباجی میں موٹرسائیکل چلانی سیکھنے گیاتھاتوحادثے کاشکارہوگیا۔ خوش قسمتی سے اسی دوران مجھے صرف چند رگڑیں لگی ہیں۔‘‘  والد نے پوچھا،  ’’موٹرسائیکل کاکیابنا؟‘‘ تواس نے جواب دیا  ’’وہ تومکمل تباہ ہوگیاہے۔‘‘

’’موٹرسائیکل کہاںہے؟‘‘ والد نے مزید پریشانی کے عالم میں سوال کیا۔ لڑکابولا  ’’اباجی، موٹرسائیکل پڑوسیوں کاتھااوراب وہ انہی کے گھرہے۔‘‘ والدنے زوردے کرپوچھا ’’موٹرسائیکل پڑوسیوں کاتھا؟‘‘  جی،اباجی  ’’اچھاچل فیرخیراے‘‘

یہی حال پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین اوراُس کے دیگررہنماوں کاہے جب موڈ بناایک بیانیہ تیارکیا، چند چکنی چوپڑی، چند جذباتی اورمحب الوطنی کی تقریریں کی، ایک طرف سادہ اوردوسری طرف جذباتی نوجوانوں(کسی کابیٹا، کسی کابھائی، کسی کے خاوند اورکسی کیباپ) کو اکھٹاکرکے لانگ مارچ کی تاریخ دے دی۔  خان صاحب کوکسی سے کیاغرض،کوئی گن فائرسے مرے یازخمی ہو، کسی کوآنسو گیس کاشیل لگے یا کسی کی پیٹھ پرلاٹھیاںبرسیں، کوئی دریاکاپل پارکرتاگرے یاکوئی چلتی گاڑی کے نیچیکچلاجائے۔  ان سب واقعات پرعمران خان صاحب کارد عمل بھی کچھ ایساہی ہوگا۔

’’چل خیراے‘‘  اس لئے کہ وہ کون سااُن کے اپنے ہیں، وہ کونساان کے بھائی ہیں یاوہ کونساان کے بیٹے ہیں۔  لانگ مارچ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکارکی شہاد ت پرخان صاحب کارویہ بھی بالکل ایساہی تھا۔  

  ‘‘چل فیرخیراے’’

آج صبح عوامی مسلم لیگ کے ایک معتبررہنماسے میری بات ہوئی توانہوں نے لانگ مارچ کے اختتام  کی دکھ بھری حقیقت کچھ اس طرح بیان کی۔ کہنے لگے  ’’ اس وقت ڈی چوک اوربلیوایریامیں سیکڑوں یوتھیے کسمپرسی کی حالت میں موجود ہیں، ان کے پاس کھاناکھانے کے پیسے ہیں نہ آبائی علاقوں میں واپس جانے کیلئے کرایہ ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب اوردیگرقیادت انہیں یہاں چھوڑ کرجاچکی ہے۔  جن بسوں پریوتھیے آئے اُن میں سے زیادہ تررات کوہی قریبی بس اڈوں پرواپس چلی گئی تھیں۔عوامی مسلم لیگ کے رہنماکے مطابق گاڑیاں کرائے پرنہیں بلکہ ڈنڈے کے زورپرلائی گئیں تھیں۔ زیادہ یوتھیوں کاتعلق کے پی کے سے ہے۔  کچھ کی جیبیں کاٹ لی گئی ہیں،کچھ کے رات کوسوتے وقت جوتے اورکچھ کے موبائل چوری ہوگئے ہیں۔  اب وہ اسلام آباد کے مکینوں سے پیسے مانگ کراپنی ضرورت پوری کررہے ہیں۔‘‘ 

یہ وہ سادہ لواورجذباتی کارکن ہیں جواپنے محبوب لیڈرعمران خان کے ہمراہ انقلاب لانے، حقیقی آزادی لینے اور انتخابات کی تاریخ لینے اسلام آباد آئے تھے۔ تاہم عمران خان صاحب موقع کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے پہلے بنی گالااورپھرفوراپشاورچلے گئے۔  موجودہ لانگ مارچ میں تقریباً پانچ لوگ جان سے گئے سیکڑوں زخمی ہوئیجن کاخان صاحب نے اپنی تقریرمیں ذکرتک نہ کیا۔

دوہزارچودہ میں جب تحریک انصاف نے لانگ مارچ کیااس وقت میں وقت نیوزچینل میں بطورنیوررپورٹرکام کررہاتھا۔ اپنے ادارے کی جانب سے میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے مقام پراپنے فرائض منصبی اداکررہاتھا۔  اُس رات میں نے اپنی آنکھوں سے  پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اورپولیس اہلکاروں کے درمیان جنگ میں دونوں فریقین کے لوگوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھے۔  وہ رات اِس قدرخوفناک تھی کہ دو مخالف گروہ خون کی پیاس بجھانے کیلئے ایک دوسرے پروار کررہے تھے۔ پولی کلینک، پمزاور سی ڈی اے کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی آمد سے وارڈزبھرچکے تھے۔  سیکڑوں افراد وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سیاسی جدوجہد کی آڑ میں موت کے منہ چلے گئے۔ جن کاآج کہیں بھی ذکرنہیں ہے۔اُس خونی مارچ میں شیرخواربچے، خواتین، نوجوان اوربوڑھے کارکن بھی شامل تھے۔  

اس میں کوئی شک نہیں کہ احتجاج ہر شہری کاحق ہے لیکن خدارا،سیاست کے کھیل کوسیاست کے طورطریقوں سے کھیلیں۔ اپنی انااورانتقام کیلئے سادہ اورجذباتی شہریوں کاغلط استعمال نہ کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ کارکن آپ کی اولاد نہیں،آپ کے بہن بھائی نہیں لیکن اس ملک کے شہری توہیں۔ خدارا  ’’چل فیرخیراے‘‘  کے بے حس الفاظ کوہمیشہ کیلئے دفن کردیجئے۔

آتشزدگی،بڑی شخصیت ٹک ٹاکر کوبچانے کیلئے سرگرم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ٹک ٹاک کے لیے مارگلہ کی پہاڑیوں پرآتشزدگی ،ملزمان کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔،بڑی شخصیت ٹک ٹاکر کوبچانے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے، مبینہ طور پر مارگلہ کی پہاڑیوں پر آتشزدگی کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی شکایت پر خاتون ماڈل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ ڈولی نامی ٹِک ٹاکر اور ماڈل نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹِک ٹاک ویڈیو بنانے کے لئے مارگلہ کے جنگلات میں آگ لگائی۔

سوشل میڈیا پر مذکورہ ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی حرکت میں آگئی اور ملزمان کیخلاف پولیس کو درخواست جمع کروائی۔اسلام آباد پولیس کے مطابق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی درخوست پر ضروری تفتیش کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔کیپٹیل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ ماحولیات کے اسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز الحسن نے پولیس کی دی گئی اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا علاقہ ہے۔جہاں پچھلے کچھ دونوں میں آتشزدگی کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ جس میں ایک وسیع رقبے پر پودوں، گھاس اور چرند پرند کو نقصاں ہوا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ٹک ٹاکر کے خلاف ماحولیات، وائلڈ لائف اور فارسٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ایف آئی آر میں لینڈ سکیپ ایکٹ1966,فاریسٹ ایکٹ1927،وائلڈ لائف ایکٹ1979 کی دفعات شامل ہیں۔ایف آئی آر میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ1997،تعزیرات پاکستان کی دفعات بھی شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر اندراج کے بعد ملزمہ ڈولی ٹک ٹاکر کے گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی گئیں۔واضح رہے کہ مبینہ طور پر خاتون ماڈل کی جانب سے جنگل میں آگ لگا کر بنائی جانے والی ٹک ٹاک ویڈیو ایسی پہلی وڈیو نہیں ہے بلکہ اس سے قبل وقت سوشل میڈیا پراسطرح کی کئی ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں۔ جس میں ٹک ٹاکر جنگل میں آگ لگا کر ویڈیوز بناتے نظر آئے۔خیال رہے کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی ماڈل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے صارفین نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔



Two members of the Sikh community were killed in Peshawar, Pakistan


Peshawar: (News Reporter)

In a statement, Peshawar Capital City Police Official Ijaz Khan told that the incident occurred within the jurisdiction of the Sarband police station.

He also identified the victims as 42-year-old Suljeet Singh and 38-year-old Ranjeet Singh, adding that they owned spice shops in the Batatal locality.

Police reached the scene after receiving information about the incident and shifted the bodies to the hospital for an autopsy, Khan said, adding that officials were also collecting evidence from the scene of the crime.

"CCTV cameras from surrounding areas are also being checked," He said, adding that a search operation had been launched in the area to nab the suspects who managed to escape.

"Those involved in the incident will soon be unmasked," the officer said.

KPK Chief Minister Mahmood Khan took notice of the incident and order the KP Inspector General of Police to arrest the perpetrators. He added that the incident was an attempt to disrupt the law and order of the KPK.

High Cholesterol: Symptoms and Disadvantages

  


High levels of cholesterol in the body can lead to cardiovascular disease, coronary artery disease, and stroke. High cholesterol has a lack of symptoms, due to which it is often dubbed a silent killer. A blood test is required to identify high cholesterol levels.

 People usually find excessive weight or body fat as indicators of high cholesterol. However, there are some warning signs that might crop up in other parts of your body, such as your legs. The blockage of the arteries in the extremities is known as peripheral arterial disease or PAD, and some of the arteries that might be impacted may be supplying blood to the legs. Therefore, it is advised to not ignore these signs and consult a doctor if you experience them.

Cold feet and legs

High cholesterol levels can make your feet or legs feel cold or chilly all around the year, even in summers. This may be an indicator that you have PAD, though it does not necessarily mean PAD only. However, if you feel like one leg or foot is cold, but not the other, it could be time to talk to your doctor.

Skin color alteration

A decrease in the flow of the blood due to high cholesterol can also change the color of your skin. That's because the cells are not getting proper nourishment due to decreased flow of blood carrying nutrients and oxygen. Trying to elevate the legs, for example, can lead the skin to look pale, but hanging it from a table can cause the skin to seem purple or bluish.

Pain

Leg pain is among the most common symptoms of PAD. When the arteries of your legs are clogged, a sufficient, required amount of oxygen-rich blood does not reach your lower part. It can make your leg feel heavy and tired. Most people with high cholesterol levels complain about burning pain in the lower limbs. One may feel pain in any part of the leg, from the calf to the thigh or buttock, and it may be in one or both legs. This happens most often from taking part in physical activities such as walking, jogging, and stair climbing. This discomfort is usually gone when you take a rest and may be felt again when you start moving your legs again.

Cramps during night

Intense leg cramps when sleeping is another common symptom of high cholesterol levels damaging the arteries of the lower limbs. The condition gets worse at night while sleeping. People with PAD may have cramps or spasms when sleeping, most commonly in the heel, forefoot, or toes. Dangling the foot off the bed or sitting can be the option to get relief from it, which allows gravity to assist blood flow to the feet.

After one has been diagnosed with high cholesterol one should make changes in diet and lifestyle manners in order to bring down the level of the low-density lipoprotein or the bad cholesterol.

ہائی کولیسٹرول کی علامات اور نقصانات


اسلام آباد(مانٹرنگ ڈیسک)
آج کل، زیادہ سے زیادہ بالغ افراد مختلف وجوہات کی بنا پر ہائی کولیسٹرول کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں۔
غیر صحت بخش غذا اور سیر شدہ چربی کا استعمال ہائی کولیسٹرول کا سبب بن سکتا ہے۔ سیر شدہ چربی کھانے میں پائی جاتی ہے جس میں کولیسٹرول اور چربی زیادہ ہوتی ہے۔ سرخ چربی والا گوشت، مکھن، پنیر، کیک، گھی وغیرہ میں کولیسٹرول زیادہ پایا جاتاہے۔
سیر شدہ چکنائی والی کھانے کی اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں یاکم کریں۔
ہائی کولیسٹرول کی سب سے عام وجوہات کی فہرست نیچے دی گئی ہے۔
موروثی عوامل
اگر ہائی کولیسٹرول کی خاندانی تاریخ ہے، تو شاید یہ آپ کے لیے پریشان ہونے کی ایک وجہ ہے۔ ہائی کولیسٹرول کی موروثی شکل ابتدائی خون کے بہاو میں رکاوٹوں یا فالج کا باعث بن سکتی ہے۔
موٹاپا
موٹاپا یا یہاں تک کہ محض زیادہ وزن ہونا ہائی کولیسٹرول کی ایک اور وجہ ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کی سماجی زندگی کو نقصان پہنچاتے ہوئے، یہ ٹرائگلیسرائیڈز کو بڑھاتا ہے جو مزید رکاوٹوں کا باعث بنتا ہے۔
اس لیے ہائی کولیسٹرول کے خطرے سے بچنے کے لیے اپنا وزن برقرار رکھیں۔

سستی،کاہلی

وہ لوگ جو سارا دن بیٹھے بیٹھے یا لیٹ کر گزارتے ہیں ان میں کولیسٹرول کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایک فعال زندگی ٹرائگلیسرائڈز کو کم کر سکتی ہے اور آپ کے وزن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔

تمباکو نوشی

سگریٹ نوشی آپ کے کولیسٹرول کی سطح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اچھے کولیسٹرول کی سطح کونقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ آپ کی عمر کو بھی کم کرتی ہے۔
لہذا، اپنے کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے سگریٹ نوشی ترک کریں۔

عمر اور جنس

جیسے ہی آپ 20 سال کے ہوتے ہیں کولیسٹرول کی سطح قدرتی طور پر بڑھنے لگتی ہے، کولیسٹرول کی سطح عام طور پر دونوں جنسوں میں 60-65 سال کی عمر تک بڑھ جاتی ہے۔
حیض سے قبل خواتین میں عام طور پر کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔
لیکن حیض کے بعد، خواتین میں کولیسٹرول کی سطح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ لہذا، آپ کی عمر ایک صحت مند طرز زندگی اور غذا کو برقرار رکھتی ہے

دوائیاں

کچھ دوائیں ٹرائگلیسرائڈز کی سطح کو بڑھا سکتی ہیں۔ لہذا، ادویات استعمال  کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

شراب

شراب کا باقاعدگی سے استعمال جگر اور دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے اور جسم میں کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

تناؤ،ڈپریشن

جب لوگ تناؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ عام طور پر سگریٹ نوشی، الکوحل پینے یا چکنائی والی اشیاء کھا کر خود کو تسلی دیتے ہیں۔ لہذا، طویل کشیدگی خون میں کولیسٹرول کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے.

بیماریاں

ذیابیطس اور ہائپوتھائیرائڈزم جیسی بعض بیماریاں جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتی ہیں۔
اس وجہ سےاپنے کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں۔
جسم میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار دل کی بیماری، دل کی شریانوں کی بیماری اور فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ ہائی کولیسٹرول میں علامات کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ ہائی کولیسٹرول کی سطح کی شناخت کے لیے خون کا ٹیسٹ ضروری ہے۔
لوگ عام طور پر ضرورت سے زیادہ وزن یا جسم کی چربی کو ہائی کولیسٹرول کے علامات کے طور پر پاتے ہیں۔  تاہم، کچھ انتہاہی علامات ہیں جو آپ کے جسم کے دوسرے حصوں، جیسے آپ کی ٹانگوں میں پیدا ہو سکتی ہیں۔  اعضاء میں شریانوں کی رکاوٹ کو پیریفرل آرٹیریل بیماری، یا پی اے ڈی کے نام سے جانا جاتا ہے، اور کچھ شریانیں جو متاثر ہو سکتی ہیں وہ ٹانگوں کو خون فراہم کر رہی ہیں۔ 

 ٹھنڈے پاؤں اور ٹانگیں

 ہائی کولیسٹرول کی سطح آپ کے پاؤں یا ٹانگوں کو سال بھر سرد یا سردی محسوس کر سکتی ہے، یہاں تک کہ گرمیوں میں بھی۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ ایک ٹانگ یا پاؤں ٹھنڈا ہے، لیکن دوسرا نہیں، تو یہ آپ کے ڈاکٹر سے بات کرنے کا وقت ہوسکتا ہے۔

جلد کے رنگ میں تبدیلی

ہائی کولیسٹرول کی وجہ سے خون کے بہاومیں کمی بھی آپ کی جلد کارنگ بدل سکتی ہے اس کی وجہ سے ہی کہ غذائی اجزا اور آکسیجن لے جانے والے خون کے بہاومیں کمی کی وجہ سے خلیوں کومناسب غدائیت نہیں مل رہی ہے۔
ٹانگوں میں درد کولیسٹرول کی سب سے عام اعلامات سے ہےجب آپ کی ٹانگوں کی شریانیں بند ہوجاتیں ہیں توآکسیجن سے بھرپورخون کی مطلوبہ مقدارآپ کے نچلے حصے تک نہیں پہنچ پاتی۔ یہ آپ کی ٹانگ کوبھاری اور تھکاہوامحسوس کرواسکتاہے۔ زیادہ کولیسٹرول کی سطح والے زیادہ ترلوگ نچلے عضا جلن کے درد کی شکایت کرتے ہیں۔ کسی کوٹانگ کے کسی بھی حصے میں درد محسوس ہوسکتاہے۔پنڈلی سے ران یاکولہےتک ایک یا دونوں ٹانگوں میں ہوسکتاہے۔
ایسااکثرجسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ہوتا ہے جیساکہ چہل قدمی ، جاگنگاورسیٹرھیاں چڑھنا
عام طورپریہ تکلیف آرام کرنے سے ختم ہوجاتی ہے۔
سوتے وقت ٹانگوں میں شدید دررکولیسٹرول میں اضافے کی ایک عام علامت ہے۔ 
درد ایڑی ، پیشانی یاٹانگوں میں ہوتی ہے۔ بسترسے پاوں کولٹکانایابیٹھنااس میں
سکون دے سکتاہے۔
جسم کے مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے کولیسٹرول کی مطلوبہ مقدار ضروری ہے۔ جب جسم کے اندر کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے تو یہ خون کی شریانوں میں رکاوٹ اور دیگر امراض قلب کا باعث بنتی ہے۔


لچے سب توں اُچے، حقائق پرمبنی ایک آرٹیکل


 امتیازچغتائی

           مجھے آج بھی یاد ہے جب میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بارھویں کلاس کاطالب علم تھاتوکالج کے جناح آڈیٹوریم میں ماہانہ ادبی فن کاانعقادہوا کرتا تھا۔  ہم تمام دوستوں کاگروپ جس میں ساجد چوہان، تنویرکاشف، لیاقت سرویااوردیگردوست شامل تھے اکثراس ادبی محفل میں شرکت کیلئے جایاکرتے تھے۔  آج جب ہم آڈیٹوریم پہنچے تو تقریری مقابلہ بڑے احسن اندازمیں جاری تھا۔  ہر مقرر اپنی باری پرآتا، تقریرپیش کرتا اور اپنے حصے کی داد وصول کرنے کے بعد اپنی نشست پرچلا جاتا۔  آج کے تقریری مقابلے کا موضوع  ’’عورت اور اُس کی معاشرتی ذمہ داری ــ‘‘  پرمبنی تھا۔  اس مقابلے کے مہمانوں میں اردو ادب کے اساتذہ اور پرنسپل بھی  شامل تھے۔ہال میں پہنچنے پرمناسب نشتوں کاجائزہ لے کرہم بھی بیٹھ گئے۔ جیساکہ میں نے اوپربھی ذکرکیاتقریری مقابلہ جاری تھا،خواتین مقررین بھی یکے بعد دیگرے آتیںاور اپنے خیالات کااظہارکرتیں۔ چھ سے سات مقررین اپنے خیالات کااظہارکرچکے تھے کہ اچانک ہال کی گیلری سے نازیباالفاظ میں داد دینے کا آغازہوا۔مقررین کوداد کی آڑ میں رسوا کیاجانے لگا۔ہلڑبازی اس نہج پرپہنچ گئی کہ سٹیج سیکرٹری کودخل اندازی کرناپڑی۔  سٹیج سیکرٹری نے باربارگیلری میں موجود شائقین سے درخواست کی کہ ہال کی فضا کوپرامن رکھا جائے اور مقررین کواپنے خیالات کاااظہارکرنے دیاجائے۔  شائقین کا یہ وہ ٹولا تھاجو ہر بارہال میں آتا اچھے بھلے ادبی پروگرام کو بے ادبی، بدمعاشی، نازیبازبان کے استعمال اور کالج میں اجارہ داری کے بل بوتے پرپروگرام کواپنے انجام تک نہ پہنچے دیتا۔ اگرکبھی کوئی پروفیسرسخت الفاظ میں اُن کی سرزنش کی کوشش کرتا تواسے مختلف طریقوں سے سنگین انجام کی دھمکیاں دی جاتیں۔ جب ان طلبہ کوخاموشی اختیارکرنے کے لیا کہا گیاتوانہوں نے کاغذ کے جہازبناکرگیلری سے ہال کی طرف اڑاناشروع کردیئے جس کے با عث تمام حاضرین کی توجہ مقررین کی بجائے ان کی طرف چلی گئی۔

 اتنے میں ایک خاتون مقرر اپنی نشست سے اٹھی،مائیک پرآئی اورزوردار آوازمیں اپنے جذبات کااظہارکچھ یوں کیا۔

’’لچے سب توں اُچے‘‘ 

 یہ الفاظ اُس اوباش ٹولے سمیت تمام حاضرین کے کانوںمیں اِس قدرگونجے کے ہرطرف سناٹاچھاگیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس ٹولے نیماحول اس قدر خراب کیاکہ انتظامیہ کوتقریری مقابلہ بند کرنا پڑا۔

اتنے سالوں بعدآج بھی ’’لچے سب توں اُچے‘‘ یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتیہیں جب کبھی ناحق کے مقابلے میں حقدار کی آوازدبادی جاتی ہے،  جب جھوٹ اِس قدرڈھٹائی اوراعتماد سے بولاجاتاکہ سننے والااِسے سچ سمجھ بیٹھتاہے، جب کسی غریب کاحق ماراجاتاہے، جب رشوت اورسفارش کی بنیاد پراہل سے عہدہ چھین لیاجاتاہے،  جب ٹریفک وارڈن کی جانب سے چلان کرنے پراُس کا گریبان پھاڑ دیاجاتاہے۔  مجھے اُس وقت بھی یہ الفاظ’’لچے سب توں اچے‘‘ یاد آتے ہیں جب مظلوم جیلوں میں ہواورظالم سٹرکوں پردھن دناتاپھرتاہو، جب غریب ساری عمرعدالتوں کے چکرلگاتاہو اور امیرچند دنوں میں انصاف خریدکرہمارے عدالتی نظام کامذاق اڑارہاہو، جب بندوق والے کومہب وطن اور عام شہری کوبلاوجہ غدارسمجھاجاتاہو۔جب سیاسی رہنماذاتی مفاد کیلئے اپنے کارکنوں کے جذبات  کاغلط استعمال اور ملکی سلامتی کوداوپرلگارہاہو۔  ’’لچے سب توں اچے‘‘الفاظ کی گونج اُس وقت میرے کانوں کوپھاڑ نے دوڑتی ہے جب راتوں رات میرا ووٹ کسی اورکیتھیلے میں ڈال دیاجائے،جب آئین اورقانون کوگھرکی باندھی بناکرذاتی اوراجتماعی مفادات کیلئے استعمال کیاجائے،جب عوام کے ووٹ سے پارلیمنٹیرین اپنے ووٹرکوآنکھیں دکھائے،جب ڈاکوکے اکاونٹ کی رکھوالی کی جائے اور ایماندارکے اکاونٹ کی باربارجانچ پڑتال کی جائے،جب عقیدے، رنگ اورنسل کی بنیاد پرکسی شہری کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیاجائے۔  جب اقلیتی شہری سے ووٹ کاحق چھین لیاجائے۔  جب ایک آمرکے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے ایک اقلیتی نااہل شخص کواقلیتی شہری کے حقوق کاضامن بنادیاجائے۔  میں آج بھی اپنے کالج کے آڈیٹوریم کے اُس ماحول میں پہنچ جاتاہوں جسے اوباشوں کے ٹولے نے اپنی ہلڑبازی سے گرد آلود کردیاتھا،  جب ہوا کی بیٹی کی عزت کوتارتارکیاجاتاہے،جب راہ جاتی خاتون پرجملے کسے جاتے ہیں، جب ساتھی مردخاتون ورکر کواِس قدربلیک میل کرتے ہیں کہ وہ گھربیٹھنے پرمجبورہوجاتی ہے۔مجھے آ ج بھی یاد ہے کہ ہمارے پروفیسرز سنگین نتائج کی دھمکیوں کے سامنے کمزورپڑ جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی غریب کے گھرپرقبضہ کرلیاجائے، جب پولیس غریب پرڈنڈے برسائے اوربدمعاش کوکرسی پربٹھائے،جب فیس کے بدلیغریب کے بچے کوسکول سے نکال دیاجائے،جب مزدورکی مزدوری ادا نہ کی جائیاورجب غیرت کے نام پرقتل کردیاجائیتومجھے یہ الفاظ بہت یاد آتے ہیں۔

کاش کہ آج بھی وہ مقرر خاتون ہر اس موقع پرجہاں ناانصافی ہے اس قدرزوردارآوازمیں یہ نعرہ لگائے کہ 

لچے سب توں اوچے

اور یہ الفاظ انصاف کے ایوانوں تک پہنچ جائیں۔