امتیازچغتائی
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بارھویں کلاس کاطالب علم تھاتوکالج کے جناح آڈیٹوریم میں ماہانہ ادبی فن کاانعقادہوا کرتا تھا۔ ہم تمام دوستوں کاگروپ جس میں ساجد چوہان، تنویرکاشف، لیاقت سرویااوردیگردوست شامل تھے اکثراس ادبی محفل میں شرکت کیلئے جایاکرتے تھے۔ آج جب ہم آڈیٹوریم پہنچے تو تقریری مقابلہ بڑے احسن اندازمیں جاری تھا۔ ہر مقرر اپنی باری پرآتا، تقریرپیش کرتا اور اپنے حصے کی داد وصول کرنے کے بعد اپنی نشست پرچلا جاتا۔ آج کے تقریری مقابلے کا موضوع ’’عورت اور اُس کی معاشرتی ذمہ داری ــ‘‘ پرمبنی تھا۔ اس مقابلے کے مہمانوں میں اردو ادب کے اساتذہ اور پرنسپل بھی شامل تھے۔ہال میں پہنچنے پرمناسب نشتوں کاجائزہ لے کرہم بھی بیٹھ گئے۔ جیساکہ میں نے اوپربھی ذکرکیاتقریری مقابلہ جاری تھا،خواتین مقررین بھی یکے بعد دیگرے آتیںاور اپنے خیالات کااظہارکرتیں۔ چھ سے سات مقررین اپنے خیالات کااظہارکرچکے تھے کہ اچانک ہال کی گیلری سے نازیباالفاظ میں داد دینے کا آغازہوا۔مقررین کوداد کی آڑ میں رسوا کیاجانے لگا۔ہلڑبازی اس نہج پرپہنچ گئی کہ سٹیج سیکرٹری کودخل اندازی کرناپڑی۔ سٹیج سیکرٹری نے باربارگیلری میں موجود شائقین سے درخواست کی کہ ہال کی فضا کوپرامن رکھا جائے اور مقررین کواپنے خیالات کاااظہارکرنے دیاجائے۔ شائقین کا یہ وہ ٹولا تھاجو ہر بارہال میں آتا اچھے بھلے ادبی پروگرام کو بے ادبی، بدمعاشی، نازیبازبان کے استعمال اور کالج میں اجارہ داری کے بل بوتے پرپروگرام کواپنے انجام تک نہ پہنچے دیتا۔ اگرکبھی کوئی پروفیسرسخت الفاظ میں اُن کی سرزنش کی کوشش کرتا تواسے مختلف طریقوں سے سنگین انجام کی دھمکیاں دی جاتیں۔ جب ان طلبہ کوخاموشی اختیارکرنے کے لیا کہا گیاتوانہوں نے کاغذ کے جہازبناکرگیلری سے ہال کی طرف اڑاناشروع کردیئے جس کے با عث تمام حاضرین کی توجہ مقررین کی بجائے ان کی طرف چلی گئی۔
اتنے میں ایک خاتون مقرر اپنی نشست سے اٹھی،مائیک پرآئی اورزوردار آوازمیں اپنے جذبات کااظہارکچھ یوں کیا۔
’’لچے سب توں اُچے‘‘
یہ الفاظ اُس اوباش ٹولے سمیت تمام حاضرین کے کانوںمیں اِس قدرگونجے کے ہرطرف سناٹاچھاگیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس ٹولے نیماحول اس قدر خراب کیاکہ انتظامیہ کوتقریری مقابلہ بند کرنا پڑا۔
اتنے سالوں بعدآج بھی ’’لچے سب توں اُچے‘‘ یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتیہیں جب کبھی ناحق کے مقابلے میں حقدار کی آوازدبادی جاتی ہے، جب جھوٹ اِس قدرڈھٹائی اوراعتماد سے بولاجاتاکہ سننے والااِسے سچ سمجھ بیٹھتاہے، جب کسی غریب کاحق ماراجاتاہے، جب رشوت اورسفارش کی بنیاد پراہل سے عہدہ چھین لیاجاتاہے، جب ٹریفک وارڈن کی جانب سے چلان کرنے پراُس کا گریبان پھاڑ دیاجاتاہے۔ مجھے اُس وقت بھی یہ الفاظ’’لچے سب توں اچے‘‘ یاد آتے ہیں جب مظلوم جیلوں میں ہواورظالم سٹرکوں پردھن دناتاپھرتاہو، جب غریب ساری عمرعدالتوں کے چکرلگاتاہو اور امیرچند دنوں میں انصاف خریدکرہمارے عدالتی نظام کامذاق اڑارہاہو، جب بندوق والے کومہب وطن اور عام شہری کوبلاوجہ غدارسمجھاجاتاہو۔جب سیاسی رہنماذاتی مفاد کیلئے اپنے کارکنوں کے جذبات کاغلط استعمال اور ملکی سلامتی کوداوپرلگارہاہو۔ ’’لچے سب توں اچے‘‘الفاظ کی گونج اُس وقت میرے کانوں کوپھاڑ نے دوڑتی ہے جب راتوں رات میرا ووٹ کسی اورکیتھیلے میں ڈال دیاجائے،جب آئین اورقانون کوگھرکی باندھی بناکرذاتی اوراجتماعی مفادات کیلئے استعمال کیاجائے،جب عوام کے ووٹ سے پارلیمنٹیرین اپنے ووٹرکوآنکھیں دکھائے،جب ڈاکوکے اکاونٹ کی رکھوالی کی جائے اور ایماندارکے اکاونٹ کی باربارجانچ پڑتال کی جائے،جب عقیدے، رنگ اورنسل کی بنیاد پرکسی شہری کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیاجائے۔ جب اقلیتی شہری سے ووٹ کاحق چھین لیاجائے۔ جب ایک آمرکے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے ایک اقلیتی نااہل شخص کواقلیتی شہری کے حقوق کاضامن بنادیاجائے۔ میں آج بھی اپنے کالج کے آڈیٹوریم کے اُس ماحول میں پہنچ جاتاہوں جسے اوباشوں کے ٹولے نے اپنی ہلڑبازی سے گرد آلود کردیاتھا، جب ہوا کی بیٹی کی عزت کوتارتارکیاجاتاہے،جب راہ جاتی خاتون پرجملے کسے جاتے ہیں، جب ساتھی مردخاتون ورکر کواِس قدربلیک میل کرتے ہیں کہ وہ گھربیٹھنے پرمجبورہوجاتی ہے۔مجھے آ ج بھی یاد ہے کہ ہمارے پروفیسرز سنگین نتائج کی دھمکیوں کے سامنے کمزورپڑ جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی غریب کے گھرپرقبضہ کرلیاجائے، جب پولیس غریب پرڈنڈے برسائے اوربدمعاش کوکرسی پربٹھائے،جب فیس کے بدلیغریب کے بچے کوسکول سے نکال دیاجائے،جب مزدورکی مزدوری ادا نہ کی جائیاورجب غیرت کے نام پرقتل کردیاجائیتومجھے یہ الفاظ بہت یاد آتے ہیں۔
کاش کہ آج بھی وہ مقرر خاتون ہر اس موقع پرجہاں ناانصافی ہے اس قدرزوردارآوازمیں یہ نعرہ لگائے کہ
لچے سب توں اوچے
اور یہ الفاظ انصاف کے ایوانوں تک پہنچ جائیں۔








0 Post a Comment:
Post a Comment