Search This Blog

Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts

خونی لانگ مارچ


امتیاز چغتائی

گذشتہ دودن سے میرے ذہن میں میرے بچپن کاایک واقعہ کھٹک رہا ہے۔ ہمارے محلے میں ہمارا ہم عمرایک لڑکارہتاتھا۔  وہ انتہائی چالاک، ہوشیار، باتوں باتوں میں سمندرعبورکردینے والا، مٹی کوسونابنادینے والاتھا۔  اس کاکام سارا دن آوارہ گردی کرنا، کبھی کسی کوچھیڑنا، کبھی کسی کوتنگ کرنا اورادھرادھرکی باتیں ہانکنا تھا۔ محلے والے کیااُس کے گھروالے بھی اکثراُس سیتنگ ہی رہتے تھے۔  ایک دن کاذکرہے کہ وہ کسی محلے والے کاموٹرسائیکل کسی بہانے سے لے گیااورموٹرسائیکل چلاناسیکھنے کی خاطرسارادن چلاتارہا۔  گھرواپس آیاتوحادثے کے باعث موٹرسائیکل تباہ ہوچکاتھااوراس کے جسم پرچندرگڑوں کے نشانات تھے۔ باپ نے پریشانی کے عالم میں پوچھا’’بیٹا، تمہیں کیاہواہے؟ وہ بولا،  ’’اباجی میں موٹرسائیکل چلانی سیکھنے گیاتھاتوحادثے کاشکارہوگیا۔ خوش قسمتی سے اسی دوران مجھے صرف چند رگڑیں لگی ہیں۔‘‘  والد نے پوچھا،  ’’موٹرسائیکل کاکیابنا؟‘‘ تواس نے جواب دیا  ’’وہ تومکمل تباہ ہوگیاہے۔‘‘

’’موٹرسائیکل کہاںہے؟‘‘ والد نے مزید پریشانی کے عالم میں سوال کیا۔ لڑکابولا  ’’اباجی، موٹرسائیکل پڑوسیوں کاتھااوراب وہ انہی کے گھرہے۔‘‘ والدنے زوردے کرپوچھا ’’موٹرسائیکل پڑوسیوں کاتھا؟‘‘  جی،اباجی  ’’اچھاچل فیرخیراے‘‘

یہی حال پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین اوراُس کے دیگررہنماوں کاہے جب موڈ بناایک بیانیہ تیارکیا، چند چکنی چوپڑی، چند جذباتی اورمحب الوطنی کی تقریریں کی، ایک طرف سادہ اوردوسری طرف جذباتی نوجوانوں(کسی کابیٹا، کسی کابھائی، کسی کے خاوند اورکسی کیباپ) کو اکھٹاکرکے لانگ مارچ کی تاریخ دے دی۔  خان صاحب کوکسی سے کیاغرض،کوئی گن فائرسے مرے یازخمی ہو، کسی کوآنسو گیس کاشیل لگے یا کسی کی پیٹھ پرلاٹھیاںبرسیں، کوئی دریاکاپل پارکرتاگرے یاکوئی چلتی گاڑی کے نیچیکچلاجائے۔  ان سب واقعات پرعمران خان صاحب کارد عمل بھی کچھ ایساہی ہوگا۔

’’چل خیراے‘‘  اس لئے کہ وہ کون سااُن کے اپنے ہیں، وہ کونساان کے بھائی ہیں یاوہ کونساان کے بیٹے ہیں۔  لانگ مارچ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکارکی شہاد ت پرخان صاحب کارویہ بھی بالکل ایساہی تھا۔  

  ‘‘چل فیرخیراے’’

آج صبح عوامی مسلم لیگ کے ایک معتبررہنماسے میری بات ہوئی توانہوں نے لانگ مارچ کے اختتام  کی دکھ بھری حقیقت کچھ اس طرح بیان کی۔ کہنے لگے  ’’ اس وقت ڈی چوک اوربلیوایریامیں سیکڑوں یوتھیے کسمپرسی کی حالت میں موجود ہیں، ان کے پاس کھاناکھانے کے پیسے ہیں نہ آبائی علاقوں میں واپس جانے کیلئے کرایہ ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب اوردیگرقیادت انہیں یہاں چھوڑ کرجاچکی ہے۔  جن بسوں پریوتھیے آئے اُن میں سے زیادہ تررات کوہی قریبی بس اڈوں پرواپس چلی گئی تھیں۔عوامی مسلم لیگ کے رہنماکے مطابق گاڑیاں کرائے پرنہیں بلکہ ڈنڈے کے زورپرلائی گئیں تھیں۔ زیادہ یوتھیوں کاتعلق کے پی کے سے ہے۔  کچھ کی جیبیں کاٹ لی گئی ہیں،کچھ کے رات کوسوتے وقت جوتے اورکچھ کے موبائل چوری ہوگئے ہیں۔  اب وہ اسلام آباد کے مکینوں سے پیسے مانگ کراپنی ضرورت پوری کررہے ہیں۔‘‘ 

یہ وہ سادہ لواورجذباتی کارکن ہیں جواپنے محبوب لیڈرعمران خان کے ہمراہ انقلاب لانے، حقیقی آزادی لینے اور انتخابات کی تاریخ لینے اسلام آباد آئے تھے۔ تاہم عمران خان صاحب موقع کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے پہلے بنی گالااورپھرفوراپشاورچلے گئے۔  موجودہ لانگ مارچ میں تقریباً پانچ لوگ جان سے گئے سیکڑوں زخمی ہوئیجن کاخان صاحب نے اپنی تقریرمیں ذکرتک نہ کیا۔

دوہزارچودہ میں جب تحریک انصاف نے لانگ مارچ کیااس وقت میں وقت نیوزچینل میں بطورنیوررپورٹرکام کررہاتھا۔ اپنے ادارے کی جانب سے میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے مقام پراپنے فرائض منصبی اداکررہاتھا۔  اُس رات میں نے اپنی آنکھوں سے  پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اورپولیس اہلکاروں کے درمیان جنگ میں دونوں فریقین کے لوگوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھے۔  وہ رات اِس قدرخوفناک تھی کہ دو مخالف گروہ خون کی پیاس بجھانے کیلئے ایک دوسرے پروار کررہے تھے۔ پولی کلینک، پمزاور سی ڈی اے کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی آمد سے وارڈزبھرچکے تھے۔  سیکڑوں افراد وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سیاسی جدوجہد کی آڑ میں موت کے منہ چلے گئے۔ جن کاآج کہیں بھی ذکرنہیں ہے۔اُس خونی مارچ میں شیرخواربچے، خواتین، نوجوان اوربوڑھے کارکن بھی شامل تھے۔  

اس میں کوئی شک نہیں کہ احتجاج ہر شہری کاحق ہے لیکن خدارا،سیاست کے کھیل کوسیاست کے طورطریقوں سے کھیلیں۔ اپنی انااورانتقام کیلئے سادہ اورجذباتی شہریوں کاغلط استعمال نہ کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ کارکن آپ کی اولاد نہیں،آپ کے بہن بھائی نہیں لیکن اس ملک کے شہری توہیں۔ خدارا  ’’چل فیرخیراے‘‘  کے بے حس الفاظ کوہمیشہ کیلئے دفن کردیجئے۔

لچے سب توں اُچے، حقائق پرمبنی ایک آرٹیکل


 امتیازچغتائی

           مجھے آج بھی یاد ہے جب میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بارھویں کلاس کاطالب علم تھاتوکالج کے جناح آڈیٹوریم میں ماہانہ ادبی فن کاانعقادہوا کرتا تھا۔  ہم تمام دوستوں کاگروپ جس میں ساجد چوہان، تنویرکاشف، لیاقت سرویااوردیگردوست شامل تھے اکثراس ادبی محفل میں شرکت کیلئے جایاکرتے تھے۔  آج جب ہم آڈیٹوریم پہنچے تو تقریری مقابلہ بڑے احسن اندازمیں جاری تھا۔  ہر مقرر اپنی باری پرآتا، تقریرپیش کرتا اور اپنے حصے کی داد وصول کرنے کے بعد اپنی نشست پرچلا جاتا۔  آج کے تقریری مقابلے کا موضوع  ’’عورت اور اُس کی معاشرتی ذمہ داری ــ‘‘  پرمبنی تھا۔  اس مقابلے کے مہمانوں میں اردو ادب کے اساتذہ اور پرنسپل بھی  شامل تھے۔ہال میں پہنچنے پرمناسب نشتوں کاجائزہ لے کرہم بھی بیٹھ گئے۔ جیساکہ میں نے اوپربھی ذکرکیاتقریری مقابلہ جاری تھا،خواتین مقررین بھی یکے بعد دیگرے آتیںاور اپنے خیالات کااظہارکرتیں۔ چھ سے سات مقررین اپنے خیالات کااظہارکرچکے تھے کہ اچانک ہال کی گیلری سے نازیباالفاظ میں داد دینے کا آغازہوا۔مقررین کوداد کی آڑ میں رسوا کیاجانے لگا۔ہلڑبازی اس نہج پرپہنچ گئی کہ سٹیج سیکرٹری کودخل اندازی کرناپڑی۔  سٹیج سیکرٹری نے باربارگیلری میں موجود شائقین سے درخواست کی کہ ہال کی فضا کوپرامن رکھا جائے اور مقررین کواپنے خیالات کاااظہارکرنے دیاجائے۔  شائقین کا یہ وہ ٹولا تھاجو ہر بارہال میں آتا اچھے بھلے ادبی پروگرام کو بے ادبی، بدمعاشی، نازیبازبان کے استعمال اور کالج میں اجارہ داری کے بل بوتے پرپروگرام کواپنے انجام تک نہ پہنچے دیتا۔ اگرکبھی کوئی پروفیسرسخت الفاظ میں اُن کی سرزنش کی کوشش کرتا تواسے مختلف طریقوں سے سنگین انجام کی دھمکیاں دی جاتیں۔ جب ان طلبہ کوخاموشی اختیارکرنے کے لیا کہا گیاتوانہوں نے کاغذ کے جہازبناکرگیلری سے ہال کی طرف اڑاناشروع کردیئے جس کے با عث تمام حاضرین کی توجہ مقررین کی بجائے ان کی طرف چلی گئی۔

 اتنے میں ایک خاتون مقرر اپنی نشست سے اٹھی،مائیک پرآئی اورزوردار آوازمیں اپنے جذبات کااظہارکچھ یوں کیا۔

’’لچے سب توں اُچے‘‘ 

 یہ الفاظ اُس اوباش ٹولے سمیت تمام حاضرین کے کانوںمیں اِس قدرگونجے کے ہرطرف سناٹاچھاگیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس ٹولے نیماحول اس قدر خراب کیاکہ انتظامیہ کوتقریری مقابلہ بند کرنا پڑا۔

اتنے سالوں بعدآج بھی ’’لچے سب توں اُچے‘‘ یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتیہیں جب کبھی ناحق کے مقابلے میں حقدار کی آوازدبادی جاتی ہے،  جب جھوٹ اِس قدرڈھٹائی اوراعتماد سے بولاجاتاکہ سننے والااِسے سچ سمجھ بیٹھتاہے، جب کسی غریب کاحق ماراجاتاہے، جب رشوت اورسفارش کی بنیاد پراہل سے عہدہ چھین لیاجاتاہے،  جب ٹریفک وارڈن کی جانب سے چلان کرنے پراُس کا گریبان پھاڑ دیاجاتاہے۔  مجھے اُس وقت بھی یہ الفاظ’’لچے سب توں اچے‘‘ یاد آتے ہیں جب مظلوم جیلوں میں ہواورظالم سٹرکوں پردھن دناتاپھرتاہو، جب غریب ساری عمرعدالتوں کے چکرلگاتاہو اور امیرچند دنوں میں انصاف خریدکرہمارے عدالتی نظام کامذاق اڑارہاہو، جب بندوق والے کومہب وطن اور عام شہری کوبلاوجہ غدارسمجھاجاتاہو۔جب سیاسی رہنماذاتی مفاد کیلئے اپنے کارکنوں کے جذبات  کاغلط استعمال اور ملکی سلامتی کوداوپرلگارہاہو۔  ’’لچے سب توں اچے‘‘الفاظ کی گونج اُس وقت میرے کانوں کوپھاڑ نے دوڑتی ہے جب راتوں رات میرا ووٹ کسی اورکیتھیلے میں ڈال دیاجائے،جب آئین اورقانون کوگھرکی باندھی بناکرذاتی اوراجتماعی مفادات کیلئے استعمال کیاجائے،جب عوام کے ووٹ سے پارلیمنٹیرین اپنے ووٹرکوآنکھیں دکھائے،جب ڈاکوکے اکاونٹ کی رکھوالی کی جائے اور ایماندارکے اکاونٹ کی باربارجانچ پڑتال کی جائے،جب عقیدے، رنگ اورنسل کی بنیاد پرکسی شہری کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیاجائے۔  جب اقلیتی شہری سے ووٹ کاحق چھین لیاجائے۔  جب ایک آمرکے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے ایک اقلیتی نااہل شخص کواقلیتی شہری کے حقوق کاضامن بنادیاجائے۔  میں آج بھی اپنے کالج کے آڈیٹوریم کے اُس ماحول میں پہنچ جاتاہوں جسے اوباشوں کے ٹولے نے اپنی ہلڑبازی سے گرد آلود کردیاتھا،  جب ہوا کی بیٹی کی عزت کوتارتارکیاجاتاہے،جب راہ جاتی خاتون پرجملے کسے جاتے ہیں، جب ساتھی مردخاتون ورکر کواِس قدربلیک میل کرتے ہیں کہ وہ گھربیٹھنے پرمجبورہوجاتی ہے۔مجھے آ ج بھی یاد ہے کہ ہمارے پروفیسرز سنگین نتائج کی دھمکیوں کے سامنے کمزورپڑ جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی غریب کے گھرپرقبضہ کرلیاجائے، جب پولیس غریب پرڈنڈے برسائے اوربدمعاش کوکرسی پربٹھائے،جب فیس کے بدلیغریب کے بچے کوسکول سے نکال دیاجائے،جب مزدورکی مزدوری ادا نہ کی جائیاورجب غیرت کے نام پرقتل کردیاجائیتومجھے یہ الفاظ بہت یاد آتے ہیں۔

کاش کہ آج بھی وہ مقرر خاتون ہر اس موقع پرجہاں ناانصافی ہے اس قدرزوردارآوازمیں یہ نعرہ لگائے کہ 

لچے سب توں اوچے

اور یہ الفاظ انصاف کے ایوانوں تک پہنچ جائیں۔