Search This Blog

ٹک ٹاکرز

 ٹک ٹاکرز


    جس معاشرے میں، میں نے، متاثرہ لڑکی (ٹک ٹاکر) اور چار سو مردوں کے ہوس پرست گروہ نے جنم لیا ہے۔ اس معاشرے میں دولت ، شہرت ، کرسی، جسم اور پیٹ کی ہوس نے ہمارے ضمیر حقیر بنا دیا ہے۔ہمارے معاشرے مِیں اِس بگاڑ کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے مِیں اخلاقیات کی پرورش کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دولت لوٹتے وقت ، شہرت کی بھیک مانگتے وقت ، کرسی چھینتے وقت ، پیٹ کو بھرتے وقت اور جسموں کونوچتے وقت اخلاقیات ، خداکے خوف ، قانون اور ضمیر کی آوازکونظرانداز کردیتے ہیں۔ ضمیر کی آواز نہ سننے والے انسانوں مِیں یہ منفی خصوصیات عام پائی جاتی ہیں۔

 وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی نا کسی طرح اپنی ہوس کو پورا کیا جائے۔ جیسا کہ مَیں نے اوپر بھی ذکر کیا کہ ٹک ٹاکر خاتون بھی اِسی معاشرے کا حصہ ہے اسے گھر سے نکلتے وقت اپنے منفی اور مثبت عمل کے ردعمل کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ شہرت اور دولت کی ہوس میں مصروف ٹک ٹاکر یہ بات کیوں بھول گئی تھی کہ جس پارک مِیں وہ اپنے فرائض منصبی ادا کررہی ہے اسی پارک میں جسم کی ہوس رکھنے والے سیکڑوں مرد موجود ہیں۔ اور یہ وہ مرد ہیں جو سوتے میں بھی اس خیال کی قید مِیں رہتے ہیں کہ کس طرح جسم کی ہوس کو پورا کیا جائے۔گریٹر اقبال پارک میں کچھ ایسا ہی ہوا ۔

 ہوس پرست ٹولہ گریٹر اقبال پارک مِیںکمزور ہدف کے انتظار مِیں تاک لگائے بیٹھا تھا کہ اچانک اُس کی نظر خاتون ٹک ٹاکر پر پڑی۔ جو اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹک ٹاک بنانے مِیں مصروف عمل تھی۔ اُس ٹیم مِیں ایسے غیرت مند مرد بھی شامل تھے جن کی غیرت واقعہ کے آغاز مِیں ہی جواب دے گئی۔ جنہوں نے ون فائیو کے انتظار مِیں بڑی آسانی کے ساتھ اپنی لیڈر کو ہوس پرستوں کے حوالے کر دیا۔ ورنہ چار غیرت مند مردوں کے سامنے چند بے غیرتوں کی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر اخلاقیات اور اپنی عزت کی چادر گھر چھوڑ آئی تھی اور بلا خوف وخطر گریٹر اقبال پارک مِیں موجود مردوں کو دعوت نظر دے رہی تھی۔ پارک مِیں اور خواتین بھی موجود تھیں جنہیں اپنی حدود و قیود کا احساس تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جب خاتون ٹک ٹاکر اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی تو رفتہ رفتہ ہوس پرست مردوں کے ٹولے اُس کے ارد گرد ”داد“ دینے کیلئے جمع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ بات ہوٹنگ پر آئی ، ہوٹنگ کے بعد چھیڑخانی اور پھر قانون نافد کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے یہ واقعہ پیش آ گیا۔ سوچا جائے تو سب سے پہلا مقدمہ گریٹر اقبال پارک کی انتظامیہ کے خلاف ہونا چاہیے جو سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے مِیں ناکام رہی۔اگر بات ذمہ داری کی کی جائے تو سب سے پہلے خاتون ٹک ٹاکر نے غیر معمولی عمل کرکے خود کو ہوس پرست مردوں کے حوالے کیا۔ اس کے بعد ہوس پرست مردوں نے لا حاصل کوشش مِیں خاتون ٹک ٹاکر کورسوا کیا۔ اور رہی سہی کسر ہمارے قانون نافد کرنے والے اداروں نے نکال دی۔ جنہیں بے گناہ ملزم کی بُو تو دور دور سے آجاتی ہے لیکن اقبال پارک مِیں بھیٹریوں کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔ 

خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ گریٹر اقبال پارک مِیں ہونے والے واقعہ پر ہر انسان افسردہ ہے۔ لیکن بات غور طلب ہے، کیا اس واقعہ کے بعد خاتون ٹک ٹاکر بھی خوف زدہ ہے۔ کیا اُس واقعہ کے بعداُس کی آنکھوں مِیں شرمندگی موجود ہے۔ کیا آئندہ وہ ایسے کھلے عام ٹک ٹاک بنانا چھوڑ دے گی۔ کیا وہ اُس کیمرے کے سامنے آنا چھوڑ دے گی جس کمیرے کی آنکھ نے اُسے پوری دنیا کے سامنے رسوا کیا۔ اِن سوالوں کا جوابات تو اُس کا ضمیرہی دے سکتا ہے۔ لیکن میرے لئے ایک بات لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔

 جس دن سے خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اُس دن کے بعد وہ میڈیا کے ہر کیمرے کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اُس کو اِس بات کا احساس نہیں کہ وہ اِس واقعہ کے بعد فخر کے ساتھ ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے اپنی شناخت پریڈ کروا رہی ہے۔ وہ لوگوں کو بتا رہی ہے کہ میں ہی وہ ہوں جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ نام نہاد ہمدرد اینکرپرسنز ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے ہمدردی کی آڑ مِیں اُس کے چرچے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 

بہر حال مَیں نے اپنی صحافتی زندگی مِیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھی ہیں۔ ”کہ ہواوں مِیں اڑنے والوں کے پیروں سے زمین نکل جایا کرتی ہے“ پھر وہ لوگ نہ تو آسمان کے رہتے ہیں اور نہ ہی زمین انہیں پاوں رکھنے کی جگہ دیتی ہے۔ 

خدارا شہرت اور دولت کمانے کے اور بھی ہزاروں عزت دار طریقے موجود ہیں۔ احتیاط کیجئے، جس معاشرے مِیں آپ رہتی ہیں اُس معاشرے مِیں جسم کی ہوس پوری کرنے کی لئے عمر، رنگ ،نسل اور خوبصورتی ، بدصورتی کوبالائے تاک رکھ کرخاتون کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ لہذا خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوس پرستی کی بھینٹ چڑھنے سے بچنے کیلئے گھر سے نکلتے وقت اپنی اخلاقی حدود کا خیال رکھیں، اپنے ماں باپ کی عزت سے قبل اپنی عزت کا خود احترام کریں۔

1 comment:

  1. Great, I agree with you.
    Women need to think before they go out for such kinds of activities.

    ReplyDelete