Search This Blog

ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)


ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)

امتیازچغتائی

 

نامعلوم کالزاور میسجزسے مَیں اِس قدر تنگ تھی کہ اب کال اٹینڈ کرنے سے پہلے ہزار باریہ بات ذہن مِیں آتی کہ ایک نئی آزمائش کا سامنا ہوگا۔ مَیں نے فون کی سکرین دیکھی تو پی ٹی سی ایل کا نمبردکھائی دیا۔ مَیں نے کال ریسیوکئے بغیر فون رکھ دیا اور سوگئی۔ بھوک کی شدت اِس قدر زیادہ تھی کہ رات کئی بھر آنکھ کھلی، پانی پیتی اور صبح ہونے کا انتظار کرتی۔ آج کی رات بہت بھاری تھی۔ صبح آنکھ کھلی، نمازپڑھی اور امید کی دنیا مِیں واپس چلی گئی۔ ٹھیک ساڑھے نو بجے اُسی پی ٹی سی ایل کے نمبرسے ایک بار پھر کال آئی۔ اِس بار مَیں سمجھ گئی تھی کہ یہ کال میرے روزگار کا باعث ہوسکتی ہے۔ آج صبح مَیں ذہنی طورپر بہت زیادہ تروتازہ تھی۔ ایک امید تھی کہ ”جب ہم مشکلات کا نیک نیتی، بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں تو یہی مشکلات ہمارے لئے آسانیوں کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ مَیں اِس بات کا تجربہ کرچکی تھی کہ وہی خوشی اور پیسہ آپ کا اپنا ہے جو آپ کی دسترس مِیں ہے۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ تنہائی مِیں اللہ کے ساتھ گذارا ہوا وقت کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔“

مَیں نے اللہ کا نام لے کر کال اٹینڈ کی تودوسری طرف سے ایک خاتون بڑے کرخت لہجے مِیںبولی، ”گل پری، G\10-3 اسلام آبادکے سیکٹرکے فلاں فلاں دفترمِیں آپ کی نوکری ہوگئی ہے، آج آپ دفترآئیں۔“ ابھی مَیں نے یہ الفاظ سنے ہی تھے کہ میرا دل دگنی رفتار سے دھڑکنے لگا۔ مَیں خوشی کے مارے پھولے نا سما رہی تھی۔ میرے ہاتھ خوشی سے کپکپا رہے تھے۔ اسی دوران میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے۔ ”اس خوشی کوایک ایسی عورت ہی محسوس کرسکتی ہے جس نے اس معاشرے کی ہر وہ ٹھوکر کھائی ہو جس کے بارے مِیں اس نے سوچا بھی نہ ہو۔“

مَیں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔ تیار ہوئی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس دفتر پہنچ گئی۔ جب آپ نیک نیتی سے اللہ کے ساتھ چل رہے ہوں تودوسری طرف شیطان بھی آپ کو ہرطرح سے ورغلانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت مَیں آپ کوخودکو اور زیادہ مظبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مَیں دفتر جانے کیلئے لوکل گاڑی مِیں بیٹھی ہوئی تھی کہ مَیں نے ساتھ والی خاتون سے پوچھا کہ ”اس دفتر کی لوکیشن کیا ہے، وہ بولی: یہ دفتر آپ کے ہوسٹل سے بہت دور ہے آپ میرے ساتھ چلو مَیں آپ کواچھی نوکری لگوا دوں گی۔ کہنے لگی اسلام آباد مِیں ایک بہت معیاری مساج سنٹرہے وہاں آپ کی نوکری ہوجائے گی اور آپ کو آپ کی سوچ سے زیادہ پیسے ملےںگے۔“ مَیںایک لمحے کیلئے لالچ مِیں آگئی اور مَیں نے ہاں کردی۔ چند لمحوںبعد مَیں نے اسے صاف انکار کردیا۔

مَیں دفتر پہنچی تومجھے میرے باس نے بڑی عزت کے ساتھ میرے کام کے بارے مَیںسمجھایا۔ وہ انتہائی اچھے انسان تھے اور محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے معاشرے مِیںعورت کوعزت دینے والے مرد ابھی باقی ہیں۔ مَیں ہر روز باقاعدگی سے دفتر جاتی اپناکام پورا کرتی، میرے اخلاق اور رویے سے سب ساتھی مطمئن تھے۔ دو ماہ گذرنے کے بعد سب مرد اور خواتین ساتھیوں کو معلوم ہوناشروع ہوگیا کہ ”مَیں اس ملک مِیںتن تنہا ہوں، ہوسٹل مِیںرہائش پذیر ہوں، اورلوکل گاڑی مِیں دفتر آتی جاتی ہوں۔“ اب میرے ہی دفتر کے ساتھی جن کے پاس گاڑیاں یا موٹربائیک تھیں وہ چھٹی ہونے پرمختلف بہانوںسے پارکنگ یا دفتر کے گیٹ پرمیرا انتظارکرتے، براہ راست تو کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ مجھے لفٹ کی پیشکش کرے۔ لیکن ہمدردی کے عنصرکاسہارا لیتے ہوئے مجھے ہوسٹل چھوڑ دینے کی پیشکش کی جاتی۔ جب مَیں وہاں انکار کردیتی تومیرے ویگن سٹاپ پر میرے کچھ ساتھی اس انتظار مِیں ہوتے کہ ویگن نہ ملنے پرمجھے لفٹ دیں۔ ایک دن تو میرے ایک سنئیر ساتھی فوڈ کیبن مِیں آئے اور میرے پوچھے بنا اپنی بیگم کی میرے ساتھ خوب چغلیاں کرنے لگے۔ حالانکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اچھے صاف ستھرے استری کردہ کپڑے پہن کر آتے ۔ روزانہ اپنے ٹفن مِیں اچھے اچھے گھرکے تیار کردہ کھانے لے کرآتے۔ ایک دن ہم ساتھی خواتین میں ان سنئیر ساتھی کی بات ہورہی تھی تو خواتین ساتھیوں نے بتایا کہ ”اُن کی بیگم بہت اچھی ہے اور اُن کی شادی شدہ زندگی بھی بہترین اندازمِیں گذررہی ہے اورہم ایک دو تقاریب کے سلسلے مِیں ان کے گھردعوت پر بھی جاچکے ہیں۔“ میرے دفترمِیں میرے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی پر مبنی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن میرے ایک ساتھی نے براہ راست مجھے شادی کی پیشکش کردی۔ اور اِس پیشکش کا سلسلہ کافی دن تک جاری رہا۔ مَیں چند دن خاموش رہی، اُس کے بعد مَیں نے خواتین ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ جنہوں نے مجھے احساس دلایا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، ”آپ کوخاوند کی صورت مَیں ایک مرد کی ضرورت ہے جو آپ کو اپنانام دے، عزت دے اور آپ کے دکھ سکھ مِیں آپ کے کام آئے۔ مَیں نے بہت سوچنے کے بعد ہاں کردی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ آج کا ہمدرد شخص کل کومیرے ماتھے پر طلاق یافتہ کا ٹیکاسجادے گا۔ 


نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے تیسرا اور آخری حصہ دو دن بعد شائع کیاجائے گا۔









 

0 Post a Comment:

Post a Comment