اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)
غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات مقامی عملے نے ذاتی مفادات کی خاطر سفارتکاروں کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا. انتظامی امور سے لیکر ڈرائیور طبقہ مال بنانے کے چکر سفارتکاروں کو سہانے سپنے دکھانے اور شیشے میں اتارنے کی کوشش میں مصروف. سفارت خانوں میں کیسز روز بروز بڑھنے لگے. براعظم افریقہ, وسطی ایشیائی ممالک, اور یورپی ممالک کا عملہ مشکوک کارروائیوں میں ملوث. اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے سے تقریباً ایک ہزار ویزہ اسٹیکر چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ سفارت خانے نے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے مقامی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروائی۔ کہا جاتا ہے کہ سفارت خانے میں کام کرنے والے مقامی عملہ ملوث تھا لیکن تاحال اس واقعے سے متعلق کسی قسم کی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس سے قبل یورپ ہی کے ایک اور ملک کے سفیر کو وطن واپس بلایا گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ موصوف ویانا کنونشن کے تحت حاصل ہونے والی سہولیات کو مقامی سہولت کار کے توسط سے ناجائز استعمال کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے تھے۔ اس سے قبل کسٹم حکام نے کاروائی کرتے ہوئے خلیجی ملک کے ایک سفارت خانے کے نام پر منگوائی جانے والی اشیاء کی بڑی کھیپ پکڑی۔ جس کے بارے میں متعلقہ سفیر نے لاعلمی کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں نے اشیاء درآمد کرنے والی کمپنی کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے انہیں جیل یاترا کیلئے بھیج دیا گیا اور بتایا گیا کہ کمپنی کا لائسنس بھی معطل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس واقعے میں ملوث افراد پولیس کے ساتھ مُک مکا کرکے رہا ہوگئے۔ سننے میں آیا ہے کہ ”وہی لوگ“ نئے نام کے ساتھ دھندہ پھر سے شروع کرچکے ہیں۔ یہ چند ایک واقعات ہیں لیکن یہ قصہ پرانا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا.
چند ماہ قبل ہمارے ہم پیشہ ایک ساتھی نے اسی موضوع پر قلم کشائی کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح سے سفارتکاروں کو ورغلا کر ایسے کاموں میں پھنسایا جاتا ہے۔ مطلب وہ تو معصوم ہیں. لیکن میرا مشاہدہ ذرا مختلف ہے. قصہ کچھ یوں ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرتے ہوئے بعض کاموں میں چھوٹ حاصل ہوتی ہے مثلاً انہیں دوسرے ممالک میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جاتے وقت گھریلو سامان یا روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کو دوسرے ممالک سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی سمیت چیکنگ وغیرہ سے اِستثناء حاصل ہوتا ہے اس میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت گاڑیاں تک درآمد یا برآمد کرنے کی دقت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جہاں الکوحل ملے مشروبات کے استعمال پر پابندی عائد ہو لیکن سفارتکاروں کو یہ اِستثناء حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان ممالک میں تعیناتی کے دوران اپنی ضرورت کیلئے ایسے اشیاء بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ہر سفارتکار کی حیثیت کے مطابق حدود مقرر ہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں پر مقامی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں الکوحل ملے مشروبات کی سرِعام تیاری اور خریدوفروخت پر پابندی ہے تاہم یہ دھندہ ملک میں بسنے والے غیرمسلم کے نام پر زوروشور سے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کے نام پر درآمد کی جانے والے اشیاء قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آشرباد سے مہنگے داموں بازار میں بکتی ہیں اور اس بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھوتے ہیں (مطلب سفارتکار بھی ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرنے کیلئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات سے لیکر اپنے ملک کی نیک نامی اور ترجیحات نہایت اہم ہوتی ہیں۔پاکستان کی حیثیت دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے، اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے والے غیر ملکی سفارتکاروں کو حاصل ہونے والے استثناء کی بدولت نہ صرف سفارتکار بلکہ مقامی عملہ بھی فیضیاب ہوتا ہے۔ ایک سفارت کار نے تو یہ بھی بتایا کہ سفارت خانوں میں کام کرنے والے مقامی ڈرائیورز بھی سفر کے دوران اس سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ آپ فلاں کمپنی یا بندے کے ساتھ کام کریں یا فلاں کے ساتھ کام نہ کریں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مقامی عملہ ان کمپنیوں کے پے رول پر ہوتا ہے اور چونکہ غیر ملکی سفارت کار مقامی عملہ پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور وہ یہ کام رازداری سے کرنا چاہتے ہیں لہذا مقامی عملہ اپنے مفادات کی خاطر انہیں ورغلا لے لیتا ہے.








0 Post a Comment:
Post a Comment