اسلام آباد (شمیم محمود، سپیشل رپورٹر): سابق سفراء نے اہم بین الاقوامی مشنز پر پسند ناپسند پر تعیناتیاں اور سیکرٹری خارجہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہا رکردیا۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کو عملی طوپر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں تعینا ت سابق ہائی کمشنر عبدالباسط، سابق سفیر ندیم عاقل اور برہان السلام نے کہا کہ وزارت خارجہ کو انتظامی امور کو پھر سے دیکھنا پڑے گا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوگا۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں انسانی وسائل کو بہتر طور پر استعمال نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ سینئرافسران کو کھڈے لائن لگانے کی روایت نامناسب ہے۔سینئر افسران کو بے توقیر کیا جارہا ہے۔سابق سفیر برہان السلام نے کہا کہ موجود ہ حالات میں کچھ غیر معمولی کام ہورہے ہیں جو سابقہ روایات کے منافی ہے۔انہوں نے اس خدشہ کے اظہار کیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے درمیان اختیارات کے معاملے میں ٹکراؤ کی صورتحال ہے۔عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تاہم موجودہ حالات میں صورتحال خراب نظر آتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ رولز اینڈ بزنس کے تحت تمام تر انتظامی امور کو سنبھالتا ہے۔لیکن وزیر خارجہ تمام اختیار پر قابض ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سابقہ دور میں وزارت خارجہ میں سیاسی تعیناتیاں کی اور ایسے معاملات پر آج بھی مشکلات پائی جاتی ہیں۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد اچھے عہدے کے لالچ میں وزیر خارجہ کی من مرضی کے مطابق کام کررہے ہیں۔ عام طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اداروں یا بیرون ملک تعیناتیاں کرواتے ہیں جس کی وجہ سے سروس کے دوران انکی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہوتاہے۔اس طرح کے حالات میں ان کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ گزشتہ 124سال سے وزارت خارجہ کی روایات کو خراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ موجودہ حالات میں درباری سفارتکاری نظر آ رہی ہے۔بیرونی ممالک سے ایگریما حاصل کرنے سے پہلے کسی بھی سفیر کی تعیناتی کرنا سابقہ روایات کو خراب کررہا ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں پسند ناپسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔افغانستان نے سفیر کو واپس بلا کر ایک سال تک فارغ رکھا گیا ہے اور فارن سروس اکیڈمی میں جونیئر افسر کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف پروٹوکول کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے تعیناتی نہیں کی گئی اور اس سلسلے میں سیکرٹری خارجہ کو ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ حالیہ دور کے دوران بیرونی ممالک میں اہم مشنز پر جونیئرافسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برلن، پیرس، واشنگٹن، نئی دہلی، نیویارک اور جنیوا جیسے اہم مشنز میں گریڈ بیس کے ناتجربہ کار افسران کو پہلی پوسٹنگ پر تعینات کیا گیا ہے۔عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک میں جونیئرافسران کو تعینات کرنا پاکستان کی سفارتکاری کو کمزور کرتا ہے۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری خارجہ کو اپنی ذمہ داریاں عملی طور پر ادا کرنی چاہیے۔رولز اینڈ بزنس کے تحت انہیں جو اختیارات حاصل ہیں انہیں استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظا م درست ہے تاہم اسے چلانے کیلئے ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔ وزیر خارجہ کو سیکرٹری خارجہ کے معاملات دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اور سیکرٹری خارجہ کو بھی اپنے اختیارات استعمال کرنا چاہیے۔سابق سفیر عبدالسلام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری خارجہ کے انتظامی امو رکے اختیارات کو وزیر خارجہ کے دفتر کو دینانامناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سابق سفراء کی ایک تنظیم ہے اور یہ ایک تھنک ٹینک ہے اور ان سے مشورے لیے جاسکتے ہیں۔ ندیم عاقل نے کہا کہ سابق سفراء کی تنظیم نے گزشہ دنوں میں سفیروں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم کو خط لکھا اور جس کے بعد وزیر اعظم کو احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابق سفیروں کی تنظیم کی رائے لینے سے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔








👍👌
ReplyDelete