Search This Blog

ایک ہے گُل پری

 

ایک ہے گُل پری


  


انٹرویو: امتیازچغتائی


گُل پَری افغانستان کے صوبہ کابل کے علاقے خیرآباد مِیں2003ءمِیں پیدا ہوئی۔ جب  گل پری پیدا ہوئی تو امریکہ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرچکا تھا۔ گل پری کیلئے بم دھماکوں اور بندوق کی گولیوں کی آواز ایسے ہی ہے جیسے کسی پر امن علاقے مِیں پٹاخوں کا پھوٹنا: گل پری نے جب ہوش سنبھالا تو اُس کاباپ محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن گل پری کاباپ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا تو واپس نہ لوٹا۔ گل پری نے اپنی ماں اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر اپنے باپ کو بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔ اور کچھ دن بعد پتہ چلا کر اُس کے بابا جان کو گولی ماردی گئی ہے۔ 2014ءمِیں جس دن گل پری کے بابا جان قتل ہوئے اُس دن سے گل پری کی خوشیوں کے موتی بکھرنا شروع ہوئے: وہ موتی آج تک تنہا تنہا رقص سفر مِیں ہیں۔ بابا جان کی موت کے بعد گل پری کی ماں نے گھر کی مالی ذمہ داریاں اٹھائیں اور محنت مزدوری کرکے بچوں کاپیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سکول بھی بھیجا۔ علاقائی خونریزی اور گھریلو مشکلات بھی گل پری کی مسکراہٹیں نہ چھین سکیں۔ گل پری بتاتی ہے کہ وہ بچپن ہی سے بہت شرارتی تھی۔ اُس کی شرارتیں اس قدر حسین تھیں کہ مرجھائے ہوئے دل بھی کھل جاتے تھے۔ ایک دن گل پری سکول مِیں تفریح کے وقت اپنی سہلیوں کے ساتھ نشانہ لگاناکھیل رہی تھی۔ کہ گل کا نشانہ، نشانے پر لگنے کی بجائے اُس کے استاد نصراللہ کے ماتھے پرجا لگا۔ گل کا کہنا ہے کہ اس پتھر کا نشان آج بھی استاد نصراللہ کے ماتھے پرواضح ہے۔

 گل پری کاکہناہے کہ ” وہ بچپن مِیں مردوں سے بہت لڑائی کیا کرتی تھی، کیا پتہ تھا کہ جوانی مِیں یہی مرد میرے لئے وبال جان بن جائیں گے۔“ 2017ءکی سردیوں کی شام گل کی اماں جان کوتیز بخار ہوا۔ خاطر خواہ علاج کے باوجود گل کی اماں جان زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اُس وقت گل کی عمر چودہ سال تھی۔ گل کی دونوں بڑی بہنوں کی خاندانی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق شادیاں ہوچکی تھیں۔ ماں کے فوت ہونے کہ بعد خاندان نے فیصلہ کیا کہ گل پری کی فی الفور شادی کرکے اسے پیا گھر سدھار دیاجائے۔ اِس طرح گل پری اپنے گھر والی ہوجائے گی اور زندگی کی مشکلات مِیں بتدریج کمی بھی واقع ہوگی۔

 خاندان کے فیصلے کی خبرملی تو گل اُس فیصلے کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ گل نے اپنی بڑی بہن سے رابطہ کیا ”مَیں محض چودہ سال کی ہوں، مَیں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے چھوٹی عمر مِیں شادی نہیں کرنی اور نہ ہی مَیں اِس قدر کمزورہوں کہ مَیں زورزبردستی کے فیصلے قبول کروں گی۔“ گل کی بڑی بہن نے حق کا ساتھ دیا اور گل کو مشورہ دیا کہ راتوں رات سرحد پار کرکے پاکستان چلی جاے۔ گل نے راتوں رات اپنی ایمرجنسی ضروریات کی گھٹڑی باندھی اور پاکستان کا رخ کرلیا۔ باون گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد گل اپنے کامیاب مستقبل کے خوابوں کے ساتھ اسلام آبادپہنچ گئی۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد گل پری نے گرلزہوسٹل مِیں بسیراکیا۔ گل پری گھرسے اتنے پیسے لے کر آئی تھی کہ وہ دوتین ماہ ہوسٹل مِیں گذار سکتی۔

اتنے مِیں ہوسٹل کی دیگر خواتین سے گل کی جان پہچان ہوگئی۔ گل کے مطابق ” مَیں نے نوکری کیلئے اگلے دن جونہی ہوسٹل سے قدم باہر رکھا تو جسم پرست، ہوس پرست، موقع پرست، موقع شناس اور پیشہ وردلال میرے ارد گرد منڈلانے لگے۔ افغانستان مِیں مَیں جنگی جہازوں کی گھن گرج، بم دھماکوں کی گونج اورگولیوں کی بوچھاڑ سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن یہاں ہوس پرست خون خوار بھیڑیوں کی نظریں جب میری آنکھوں سے ہوکر میرے جسم تک جاتیں تومَیں حواس کھو بیٹھتی۔ جب پیشہ ور دلال کی گاڑی اچانک میرے سامنے رکتی تو میرے قدم لڑکھڑا جاتے اور اُن لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ مَیں راستہ بدل لیتی۔ جب مَیں کسی دفتر مِیں نوکری کیلئے جاتی توملکہ دو جہاں کی ساری آسائشیں مجھے دینے کی یقین دھانی کرائی جاتی۔ مَیں سمجھ جاتی کہ دوبارہ یہاں آنا میرے لئے اچھا نہیں۔ کیونکہ مَیں کابل مِیں اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنے باپ اور خاندان کی عزت ساتھ لے کر آئی تھی۔ اِس لئے مجھے اِس بات کا احساس تھا کہ عزت لٹوانے سے بہترہے کہ جس اللہ نے سانسیں دی ہیں یہ سانسیں اسے واپس لوٹا دی جائیں۔ مَیں واپس اپنے روم مِیں آکر زار و قطار روتی۔ ہوسٹل کی بہت ساری خواتین نے مجھے بیچنے کی کوشش کی لیکن مَیں جلد ہی اگلے شخص کی نیت جان جاتی۔ ایک صبح مَیں نوکری کے لئے نکلی تو اُس دن میرے پاس آخری چند روپے تھے۔ کیونکہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، مَیں راستہ بھول گئی۔ اُس دن مجھے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔ مَیں واپس ہوسٹل پہنچی تو میرے جوتوں نے میرے پاوں کاٹ ڈالے تھے۔ بھوک کی شدت میرا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ پیاس کی شدت میری سانس روک رہی تھی۔ مَیں اپنے بیڈ پر آکر گرگئی۔ ابھی مَیں نیم بہوشی مِیں تھی کہ اچانک میرے پستہ حال فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔دوسرا حصہ کچھ دن بعد

نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے چند دن قبل میں نے گل پری کاانٹرویوکیاتھا

1 comment:

  1. بہت خوب
    اگلی قسط کا انتظار رہے گا

    ReplyDelete