Search This Blog

ایک ہے گُل پری

ایک ہے گُل پری

 تیسرا اور آخری حصہ



امتیازچغتائی


میں آج بہت خوش تھی، میں زندگی کے اس حصے میں شامل ہونے جارہی تھی جس کا ہر عورت خواب دیکھتی ہے۔ میں ”کبھی ہاں کبھی نہ“ کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ گذشتہ سالوں میں جومیرے ساتھ ہوا وہ ایک تنہا عورت کے لئے کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ دوسری طرف میں نے اپنے حسین خوابوں کا محل تعمیرکرنا شروع کردیا تھا۔ جس قدر اس شخص نے مجھ پر وفاداری نبھانے کے پے درپے وار کئے وہ کوئی مظبوط عورت بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ میں نے اس سے کچھ دن کا وقت مانگا۔ اس نے مجھے سوچنے کاوقت دیا۔ اس دوران وہ مجھ سے رابطے
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“ 
ایک دن اس نے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا تو میں نے اس سے سوال کیا ” تم میرے لئے کیاکرسکتے ہو؟“ محبت اور وفاداری کے دعووں کے بعد وہ بولا”میری پاس جو کچھ بھی ہے سب تمہارا ہے“ میں نے کہا پھربھی ، وہ بولا” میری نئی گاڑی تمہارے نام ، میرا گھر تمہارے نام ، اس کے علاوہ جو کچھ تم چاہو وہ سب تمہاراہوا۔“(میرے سوال کا مطلب کچھ اپنے نام لکھوانا نہیں تھا، یہ سوال محض ملاقات کا تقاضاتھا)
میں نے اس ملاقات میں ”ہاں“ کردی۔ اس نے مجھے ہوسٹل سے لینا ، آفس لے جانا ، آفس سے لینا اور ہوسٹل چھوڑدینا۔ یہ سلسلہ چار ماہ تک چلتا رہا۔ میں خود میں مظبوط ہوتی گئی۔ بات شادی تک پہنچ گئی۔ میں نے افغانستان میں اپنی بہن سے بات کی اور بڑی سادگی سے ہمارا نکاح ہوگیا۔ ہمارے نکاح کے بارے میں اس کے گھروالوں کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے اپنے گھروالوں کونکاح میں شامل کیاتویہ نکاح ممکن نہ ہوگا۔ یہاں مجھے احساس ہوگیا تھاکہ اس کے گھروالوں کے علم میں لائے بغیرنکاح کا فیصلہ غلط ہے۔ بہرحال میں اب چلتی گاڑی کوروکنا نہیں چاہتی تھی۔ 
نکاح کے ایک ماہ کے بعد بھی میں ابھی تک ہوسٹل میں مقیم تھی۔ بیوی ہونے کے ناطے جب بھی میں اس کے ساتھ رہنے کاتقاضاکرتی تووہ یہ کہہ کرٹال دیتا کہ تھوڑا صبرکرو، ابھی حالات ٹھیک نہیں۔ میں خاموش ہوجاتی۔ اس معاملے پرکئی بار ہماری بحث تکرار بھی ہوتی اور میں پھر تھک ہار کرخاموش ہوجاتی۔ میں نے اپنے نکاح کے گواہوں سے بھی بات کی لیکن کسی نے کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا۔
میں نے اسے کہا کہ میں خود تمہارے گھروالوں سے بات کروں؟ تو وہ مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دیتا۔ ہمارے نکاح کوایک سال ہوچکا تھا۔ اسی دوران ایک دن جب میں نے اسے امیدسے ہونے کی خوشخبری سنائی تووہ خوش ہونے کی بجائے مجھ سے لڑنے لگا۔اب میں ایک نئی مشکل کاشکارہوچکی تھی۔ میں اس کوباربار اپنے گھرلے جانے کی درخواست کرتی۔ وہ ہربارمجھے ٹال دیتااورمناسب وقت کاانتظارکرنے کوبولتا۔ 
آہستہ آہستہ اس کا رویہ مجھ سے جان چھڑانے والا ہوگیا۔ اس دوران میں نے نوکری بھی چھوڑ دی تھی۔ وہ کئی کئی دن تک میری کال نہ لیتااور جب میں زیادہ کالزکرتی تووہ میرا نمبربلاک کردیتا۔ میری مشکلات کا دورایک بار پھرشروع ہوچکاتھا۔ ایک شام میری طبعیت بہت خراب تھی، وہ میرے پاس آیا، مجھے کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ لیڈی ڈاکٹر کی ادویات لینے کے بعد میری طبعیت اور بگڑ گئی اور میری امید جاتی رہی۔ میں بہت روئی، میں دن رات جاگتی رہتی، کھانا پینا میرے لئے ناممکن ہوگیا۔ 
ایک دن میری ایک دوست مجھ سے ملنے آئی ، میں نے اسے سارا واقعہ سنایا وہ مجھے ہسپتال لے گئی۔ مجھے وہاںجا کہ پتہ چلا کہ میری ادویات زندگی دینے والی نہیں بلکہ زندگی لینے والی تھیں۔ میرے وجود کا حصہ مجھ سے الگ کردیا گیاتھا۔
اب میںایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے بمشکل اس کے ساتھ رابطہ کیااور اس سے طلاق کا تقاضا کردیا۔ وہ شائد پہلے ہی اس بات کے کیلئے تیار بیھٹا تھا۔ 
جو لوگ میرے نکاح کے گواہ تھے وہی میری طلاق کے گواہ بھی بنے۔ 
کچھ لوگوں نے مجھے پوچھا ” تم نے حق مہر کتنا لکھوایا تھا؟“ میں نے جواب دیا ”مجھے اتنی مہلت ہی نہ دی گئی کہ میں اپنے حق کی بات کرپاتی۔“
رفتہ رفتہ میرے لئے زمین اس قدر تنگ کردی گئی کہ میں خود کشی کی تیاریاں کرنے لگی۔ میں ایک خاوند کے ہوتے ہوئے بھی تنہا تھی اور وہ محفلوں کا گھڑسوار تھا۔ ایک دو بار میں نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی تومجھے بچا لیاگیا۔ 
طلاق ملنے کے بعد میں پھر اس موڑپر آ کھڑی ہوئی ہوں جس سے میں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب میں نے طلاق یافتہ کی حیثیت سے جینا شروع کیا۔ وہ شخص اس قدر کم ظرف نکلا کہ اس نے پیچھے مڑکے بھی نہ دیکھا۔ طلاق والے دن اس کے چہرے پر رتی بھر ندامت نہیں تھی۔ وہ ایسے انجان بنا ہوا تھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ اس کی غیرت مر چکی تھی اور میری روح مر چکی تھی۔ اس کا ضمیر مر چکا تھا اور میرا پیار مرچکا تھا۔ اس دوران میں نے امید، محبت، اہمیت کو بہت قریب سے دیکھا، میں نے اعتبار کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا، میں نے پھول کو خوشبوسے الگ ہوتے دیکھا۔ مرد ایک ایسا سمندر ہے جس میں دنیا کی سب ندیاں بھی جا گریں تو وہ کبھی نہیں بھرتا۔
”سب باطل ہی باطل ہے، سب کچھ بے معنی ہے“ 
آج میں نے وہ ہوسٹل چھوڑ دیا ہے، امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد افغانستان میںرہنے والی میری بہن اپنے خاوند کے ہمراہ پاکستان کے افغان سرحدی علاقے منتقل ہوگئی۔ گذشتہ مہینے میں اپنی بہن کے پاس چلی آئی۔ یہاں اس نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا اور اب میں نے ایک بار پھر اپنی پڑھائی شروع کردی ہے۔
میں نے اس شخص کو دل سے معاف کردیا ہے۔ جب تک میں نے اسے معاف نہیں کیا تھا اس وقت تک اس کے ظلم میرے جذبات پر سوار رہتے تھے۔ جب سے میںنے اسے معاف کردیا ہے میں خود کوآزاد محسوس کررہی ہوں۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔ میں پڑھ لکھ کر ایک دن بہت بڑی انسان بنوں گی اور ہر اس انسان کی مدد کروں گی جس کو میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

Local staff at foreign missions



Islamabad (Special Reporter):

Local staff at foreign missions risked the diplomats' reputation for personal gain. From administrative to consular section, even lower staff including drivers are busy in making money, ensnaring diplomats. Cases in embassies has rapidly increased. Local staff being deployed at missions including African, Central Asian, Middle East and in the European countries are reportedly involved in suspicious activities. 
No doubt, diplomats are specifically trained to maintain relations with other countries, but it is said that even angels would fall prey to such temptations if they are posted on a post that involves money! The Italian mission in Islamabad reported theft of 1000 visa stickers. The first information report (FIR) was being registered at the local police station but till the time no progress is seen in investigation. Either the mission is not interested or officials are not doing their job, but something fishy. Reportedly local security personal with its foreign facilitator was involved.
Earlier an ambassador from European country was terminated after he was found guilty of misusing his diplomatic status. Few years back, an ambassador was recalled after his involvement in misusing house rent facility. A charged’ Affair of a EU country was recalled for taking bribe in issuing visas and reportedly his secretary was indirectly involved in human trafficking. In these case local facilitators were involved and extra money was shared. In September, 2020, customs officials seized a consignment of goods imported in the name of embassy. When the ambassador refused to own it and action was taken against the local shipping and owners were sent to jail and their license was suspended. Reportedly, the same people are hunting with another name. 
Investigations in such cases proved that without the involvement of the local staff such incidents would have not been possible. Misuse of diplomatic immunity and involved in various illegal practices such as misuse of liquor quotas, import of duty free cars and other stuff, misuse of house rent facility and having illicit affairs with local ladies are common in diplomats. By the way, when it comes to misuse the liquor quotas, both Muslim and non-Muslim missions are equally involved and have benefited with the help of Foreign Affairs’ protocol department. 
So much so, there are number of examples of such cases and involvement of local staff and having illicit relations with girls. Interestingly, this practice is on to lure attention of all. Corruptions is the biggest challenge of the day, either moral or money. A man can be part when there is opportunity of making money through illegal practices.

غیر ملکی سفارت خانے



اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)  

غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات مقامی عملے نے ذاتی مفادات کی خاطر سفارتکاروں کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا. انتظامی امور سے لیکر ڈرائیور طبقہ مال بنانے کے چکر سفارتکاروں کو سہانے سپنے دکھانے اور شیشے میں اتارنے کی کوشش میں مصروف. سفارت خانوں میں کیسز روز بروز بڑھنے لگے. براعظم افریقہ, وسطی ایشیائی ممالک, اور یورپی ممالک کا عملہ مشکوک کارروائیوں میں ملوث. اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے سے تقریباً ایک ہزار ویزہ اسٹیکر چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ سفارت خانے نے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے  مقامی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروائی۔ کہا جاتا ہے کہ سفارت خانے میں کام کرنے والے مقامی عملہ ملوث تھا لیکن تاحال اس واقعے سے متعلق کسی قسم کی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس سے قبل یورپ ہی کے ایک اور ملک کے سفیر کو وطن واپس بلایا گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ موصوف ویانا کنونشن کے تحت حاصل ہونے والی سہولیات کو مقامی سہولت کار کے توسط سے ناجائز استعمال کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے تھے۔ اس سے قبل کسٹم حکام نے کاروائی کرتے ہوئے خلیجی ملک کے ایک سفارت خانے کے نام پر منگوائی جانے والی اشیاء کی بڑی کھیپ پکڑی۔ جس کے بارے میں متعلقہ سفیر نے لاعلمی کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں نے اشیاء درآمد کرنے والی کمپنی کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے انہیں جیل یاترا کیلئے بھیج دیا گیا اور بتایا گیا کہ کمپنی کا لائسنس بھی معطل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس واقعے میں ملوث افراد پولیس کے ساتھ مُک مکا کرکے رہا ہوگئے۔ سننے میں آیا ہے کہ ”وہی لوگ“ نئے نام کے ساتھ دھندہ پھر سے شروع کرچکے ہیں۔ یہ چند ایک واقعات ہیں لیکن یہ قصہ پرانا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا. 

چند ماہ قبل ہمارے ہم پیشہ ایک  ساتھی نے اسی موضوع پر قلم کشائی کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح سے سفارتکاروں کو ورغلا کر ایسے کاموں میں پھنسایا جاتا ہے۔ مطلب وہ تو معصوم ہیں. لیکن میرا مشاہدہ ذرا مختلف ہے. قصہ کچھ یوں ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرتے ہوئے بعض کاموں میں چھوٹ حاصل ہوتی ہے مثلاً انہیں دوسرے ممالک میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جاتے وقت گھریلو سامان یا روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کو دوسرے ممالک سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی سمیت چیکنگ وغیرہ سے اِستثناء حاصل ہوتا ہے اس میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت گاڑیاں تک درآمد یا برآمد کرنے کی دقت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جہاں الکوحل ملے مشروبات کے استعمال پر پابندی عائد ہو لیکن سفارتکاروں کو یہ اِستثناء حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان ممالک میں تعیناتی کے دوران اپنی ضرورت کیلئے ایسے اشیاء بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ہر سفارتکار کی حیثیت کے مطابق حدود مقرر ہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں پر مقامی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں الکوحل ملے مشروبات کی سرِعام تیاری اور خریدوفروخت پر پابندی ہے تاہم یہ دھندہ ملک میں بسنے والے غیرمسلم کے نام پر زوروشور سے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کے نام پر درآمد کی جانے والے اشیاء قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آشرباد سے مہنگے داموں بازار میں بکتی ہیں اور اس بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھوتے ہیں (مطلب سفارتکار بھی ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرنے کیلئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات سے لیکر اپنے ملک کی نیک نامی اور ترجیحات نہایت اہم ہوتی ہیں۔پاکستان کی حیثیت دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے، اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے والے غیر ملکی سفارتکاروں کو حاصل ہونے والے استثناء کی بدولت نہ صرف سفارتکار بلکہ مقامی عملہ بھی فیضیاب ہوتا ہے۔ ایک سفارت کار نے تو یہ بھی بتایا کہ سفارت خانوں میں کام کرنے والے مقامی ڈرائیورز بھی سفر کے دوران اس سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ آپ فلاں کمپنی یا بندے کے ساتھ کام کریں یا فلاں کے ساتھ کام نہ کریں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مقامی عملہ ان کمپنیوں کے پے رول پر ہوتا ہے اور چونکہ غیر ملکی سفارت کار مقامی عملہ پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور وہ یہ کام رازداری سے کرنا چاہتے ہیں لہذا مقامی عملہ اپنے مفادات کی خاطر انہیں ورغلا لے لیتا ہے.

وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کے مابین اختیارات کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا




اسلام آباد  (شمیم محمود، سپیشل رپورٹر):  سابق سفراء نے اہم بین الاقوامی مشنز پر پسند ناپسند پر تعیناتیاں اور سیکرٹری خارجہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہا رکردیا۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کو عملی طوپر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں تعینا ت سابق ہائی کمشنر عبدالباسط، سابق سفیر ندیم عاقل اور برہان السلام نے کہا کہ وزارت خارجہ کو انتظامی امور کو پھر سے دیکھنا پڑے گا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوگا۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں انسانی وسائل کو بہتر طور پر استعمال نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ سینئرافسران کو کھڈے لائن لگانے کی روایت نامناسب ہے۔سینئر افسران کو بے توقیر کیا جارہا ہے۔سابق سفیر برہان السلام نے کہا کہ موجود ہ حالات میں کچھ غیر معمولی کام ہورہے ہیں جو سابقہ روایات کے منافی ہے۔انہوں نے اس خدشہ کے اظہار کیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے درمیان اختیارات کے معاملے میں ٹکراؤ کی صورتحال ہے۔عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تاہم موجودہ حالات میں صورتحال خراب نظر آتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ رولز اینڈ بزنس کے تحت تمام تر انتظامی امور کو سنبھالتا ہے۔لیکن وزیر خارجہ تمام اختیار پر قابض ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سابقہ دور میں وزارت خارجہ میں سیاسی تعیناتیاں کی اور ایسے معاملات پر آج بھی مشکلات پائی جاتی ہیں۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد اچھے عہدے کے لالچ میں وزیر خارجہ کی من مرضی کے مطابق کام کررہے ہیں۔ عام طور پر سیکرٹری خارجہ ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اداروں یا بیرون ملک تعیناتیاں کرواتے ہیں جس کی وجہ سے سروس کے دوران انکی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہوتاہے۔اس طرح کے حالات میں ان کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے۔برہان السلام نے کہا کہ گزشتہ 124سال سے وزارت خارجہ کی روایات کو خراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ موجودہ حالات میں درباری سفارتکاری نظر آ رہی ہے۔بیرونی ممالک سے ایگریما حاصل کرنے سے پہلے کسی بھی سفیر کی تعیناتی کرنا سابقہ روایات کو خراب کررہا ہے۔ندیم عاقل نے کہا کہ وزارت خارجہ میں پسند ناپسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔افغانستان نے سفیر کو واپس بلا کر ایک سال تک فارغ رکھا گیا ہے اور فارن سروس اکیڈمی میں جونیئر افسر کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف پروٹوکول کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے تعیناتی نہیں کی گئی اور اس سلسلے میں سیکرٹری خارجہ کو ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ حالیہ دور کے دوران بیرونی ممالک میں اہم مشنز پر جونیئرافسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برلن، پیرس، واشنگٹن، نئی دہلی، نیویارک اور جنیوا جیسے اہم مشنز میں گریڈ بیس کے ناتجربہ کار افسران کو پہلی پوسٹنگ پر تعینات کیا گیا ہے۔عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک میں جونیئرافسران کو تعینات کرنا پاکستان کی سفارتکاری کو کمزور کرتا ہے۔سابق سفیر ندیم عاقل نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری خارجہ کو اپنی ذمہ داریاں عملی طور پر ادا کرنی چاہیے۔رولز اینڈ بزنس کے تحت انہیں جو اختیارات حاصل ہیں انہیں استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظا م درست ہے تاہم اسے چلانے کیلئے ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔ وزیر خارجہ کو سیکرٹری خارجہ کے معاملات دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اور سیکرٹری خارجہ کو بھی اپنے اختیارات استعمال کرنا چاہیے۔سابق سفیر عبدالسلام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری خارجہ کے انتظامی امو رکے اختیارات کو وزیر خارجہ کے دفتر کو دینانامناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سابق سفراء کی ایک تنظیم ہے اور یہ ایک تھنک ٹینک ہے اور ان سے مشورے لیے جاسکتے ہیں۔ ندیم عاقل نے کہا کہ سابق سفراء کی تنظیم نے گزشہ دنوں میں سفیروں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم کو خط لکھا اور جس کے بعد وزیر اعظم کو احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابق سفیروں کی تنظیم کی رائے لینے سے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔

Protests against landlords in front of Rawalpindi Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.


                   

Protests against landlords in front of Rawalpindi  Press Club by Transgenders Alliance, protesters held placards.



Pakistan (Rawalpindi) Addressing the protesters, Transgender Alliance chairperson Saba Gul said that some of our Transgenders were living in a rented house in the Dhok Kala Khan area of Rawalpindi. The landlord came to the house in the middle of the night and gave notice of eviction. When the Transgenders asked the reason for the eviction, he started beating them. He also made a video of the beating, which he later shared on the Internet. The landlord is still threatening to vacate the house in various ways. Saba Gal has demanded the President of Pakistan, the Prime Minister o

f Pakistan, and the Chief Justice of Pakistan take immediate legal action against the accused. Protesters held banners and placards with slogans calling for justice.

خواجہ سرائاتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔


 

 خواجہ سرا اتحاد کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے سامنے مکان مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ ، مطاہر ین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

 


مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسجینڈرز الائنس کی چیئرپرسن صبا گل کہنا تھا کہ ہمارے کچھ خواجہ سرا ڈھوک کالا خان کے علاقے میں کراے کے ایک مکان مِیں رہائش پذیرہیں۔ آدھی رات کومالک مکان آیا اور زبردی گھرسے بے دخلی کا نوٹس دے دیا۔ جب خواجہ سراوں نے بے دخلی کی وجہ پوچھی تواس نے انہیں مارنا شروع کردیا۔ مارپیٹ کرنے کی اس نے وڈیوبھی بنائی جسے بعد ازاں اس نے انٹرنیٹ پروائرل کردیا۔ مالک مکان تاحال زبردستی گھر خالی کرانے کیلئے مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا رہاہے۔ صباگل نے صدر پاکستان ،وزیراعظم پاکستان ، اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کا فی الفورنوٹس کرملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف کی فراہمی کے نعرے درج تھے۔ 


ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)


ایک ہے گل پری (دوسرا حصہ)

امتیازچغتائی

 

نامعلوم کالزاور میسجزسے مَیں اِس قدر تنگ تھی کہ اب کال اٹینڈ کرنے سے پہلے ہزار باریہ بات ذہن مِیں آتی کہ ایک نئی آزمائش کا سامنا ہوگا۔ مَیں نے فون کی سکرین دیکھی تو پی ٹی سی ایل کا نمبردکھائی دیا۔ مَیں نے کال ریسیوکئے بغیر فون رکھ دیا اور سوگئی۔ بھوک کی شدت اِس قدر زیادہ تھی کہ رات کئی بھر آنکھ کھلی، پانی پیتی اور صبح ہونے کا انتظار کرتی۔ آج کی رات بہت بھاری تھی۔ صبح آنکھ کھلی، نمازپڑھی اور امید کی دنیا مِیں واپس چلی گئی۔ ٹھیک ساڑھے نو بجے اُسی پی ٹی سی ایل کے نمبرسے ایک بار پھر کال آئی۔ اِس بار مَیں سمجھ گئی تھی کہ یہ کال میرے روزگار کا باعث ہوسکتی ہے۔ آج صبح مَیں ذہنی طورپر بہت زیادہ تروتازہ تھی۔ ایک امید تھی کہ ”جب ہم مشکلات کا نیک نیتی، بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں تو یہی مشکلات ہمارے لئے آسانیوں کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ مَیں اِس بات کا تجربہ کرچکی تھی کہ وہی خوشی اور پیسہ آپ کا اپنا ہے جو آپ کی دسترس مِیں ہے۔ مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ تنہائی مِیں اللہ کے ساتھ گذارا ہوا وقت کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔“

مَیں نے اللہ کا نام لے کر کال اٹینڈ کی تودوسری طرف سے ایک خاتون بڑے کرخت لہجے مِیںبولی، ”گل پری، G\10-3 اسلام آبادکے سیکٹرکے فلاں فلاں دفترمِیں آپ کی نوکری ہوگئی ہے، آج آپ دفترآئیں۔“ ابھی مَیں نے یہ الفاظ سنے ہی تھے کہ میرا دل دگنی رفتار سے دھڑکنے لگا۔ مَیں خوشی کے مارے پھولے نا سما رہی تھی۔ میرے ہاتھ خوشی سے کپکپا رہے تھے۔ اسی دوران میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے۔ ”اس خوشی کوایک ایسی عورت ہی محسوس کرسکتی ہے جس نے اس معاشرے کی ہر وہ ٹھوکر کھائی ہو جس کے بارے مِیں اس نے سوچا بھی نہ ہو۔“

مَیں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔ تیار ہوئی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس دفتر پہنچ گئی۔ جب آپ نیک نیتی سے اللہ کے ساتھ چل رہے ہوں تودوسری طرف شیطان بھی آپ کو ہرطرح سے ورغلانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت مَیں آپ کوخودکو اور زیادہ مظبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مَیں دفتر جانے کیلئے لوکل گاڑی مِیں بیٹھی ہوئی تھی کہ مَیں نے ساتھ والی خاتون سے پوچھا کہ ”اس دفتر کی لوکیشن کیا ہے، وہ بولی: یہ دفتر آپ کے ہوسٹل سے بہت دور ہے آپ میرے ساتھ چلو مَیں آپ کواچھی نوکری لگوا دوں گی۔ کہنے لگی اسلام آباد مِیں ایک بہت معیاری مساج سنٹرہے وہاں آپ کی نوکری ہوجائے گی اور آپ کو آپ کی سوچ سے زیادہ پیسے ملےںگے۔“ مَیںایک لمحے کیلئے لالچ مِیں آگئی اور مَیں نے ہاں کردی۔ چند لمحوںبعد مَیں نے اسے صاف انکار کردیا۔

مَیں دفتر پہنچی تومجھے میرے باس نے بڑی عزت کے ساتھ میرے کام کے بارے مَیںسمجھایا۔ وہ انتہائی اچھے انسان تھے اور محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے معاشرے مِیںعورت کوعزت دینے والے مرد ابھی باقی ہیں۔ مَیں ہر روز باقاعدگی سے دفتر جاتی اپناکام پورا کرتی، میرے اخلاق اور رویے سے سب ساتھی مطمئن تھے۔ دو ماہ گذرنے کے بعد سب مرد اور خواتین ساتھیوں کو معلوم ہوناشروع ہوگیا کہ ”مَیں اس ملک مِیںتن تنہا ہوں، ہوسٹل مِیںرہائش پذیر ہوں، اورلوکل گاڑی مِیں دفتر آتی جاتی ہوں۔“ اب میرے ہی دفتر کے ساتھی جن کے پاس گاڑیاں یا موٹربائیک تھیں وہ چھٹی ہونے پرمختلف بہانوںسے پارکنگ یا دفتر کے گیٹ پرمیرا انتظارکرتے، براہ راست تو کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ مجھے لفٹ کی پیشکش کرے۔ لیکن ہمدردی کے عنصرکاسہارا لیتے ہوئے مجھے ہوسٹل چھوڑ دینے کی پیشکش کی جاتی۔ جب مَیں وہاں انکار کردیتی تومیرے ویگن سٹاپ پر میرے کچھ ساتھی اس انتظار مِیں ہوتے کہ ویگن نہ ملنے پرمجھے لفٹ دیں۔ ایک دن تو میرے ایک سنئیر ساتھی فوڈ کیبن مِیں آئے اور میرے پوچھے بنا اپنی بیگم کی میرے ساتھ خوب چغلیاں کرنے لگے۔ حالانکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اچھے صاف ستھرے استری کردہ کپڑے پہن کر آتے ۔ روزانہ اپنے ٹفن مِیں اچھے اچھے گھرکے تیار کردہ کھانے لے کرآتے۔ ایک دن ہم ساتھی خواتین میں ان سنئیر ساتھی کی بات ہورہی تھی تو خواتین ساتھیوں نے بتایا کہ ”اُن کی بیگم بہت اچھی ہے اور اُن کی شادی شدہ زندگی بھی بہترین اندازمِیں گذررہی ہے اورہم ایک دو تقاریب کے سلسلے مِیں ان کے گھردعوت پر بھی جاچکے ہیں۔“ میرے دفترمِیں میرے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی پر مبنی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن میرے ایک ساتھی نے براہ راست مجھے شادی کی پیشکش کردی۔ اور اِس پیشکش کا سلسلہ کافی دن تک جاری رہا۔ مَیں چند دن خاموش رہی، اُس کے بعد مَیں نے خواتین ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ جنہوں نے مجھے احساس دلایا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، ”آپ کوخاوند کی صورت مَیں ایک مرد کی ضرورت ہے جو آپ کو اپنانام دے، عزت دے اور آپ کے دکھ سکھ مِیں آپ کے کام آئے۔ مَیں نے بہت سوچنے کے بعد ہاں کردی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ آج کا ہمدرد شخص کل کومیرے ماتھے پر طلاق یافتہ کا ٹیکاسجادے گا۔ 


نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے تیسرا اور آخری حصہ دو دن بعد شائع کیاجائے گا۔









 

ایک ہے گُل پری

 

ایک ہے گُل پری


  


انٹرویو: امتیازچغتائی


گُل پَری افغانستان کے صوبہ کابل کے علاقے خیرآباد مِیں2003ءمِیں پیدا ہوئی۔ جب  گل پری پیدا ہوئی تو امریکہ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرچکا تھا۔ گل پری کیلئے بم دھماکوں اور بندوق کی گولیوں کی آواز ایسے ہی ہے جیسے کسی پر امن علاقے مِیں پٹاخوں کا پھوٹنا: گل پری نے جب ہوش سنبھالا تو اُس کاباپ محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن گل پری کاباپ کسی کام سے گھر سے باہر گیا ہوا تھا تو واپس نہ لوٹا۔ گل پری نے اپنی ماں اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر اپنے باپ کو بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔ اور کچھ دن بعد پتہ چلا کر اُس کے بابا جان کو گولی ماردی گئی ہے۔ 2014ءمِیں جس دن گل پری کے بابا جان قتل ہوئے اُس دن سے گل پری کی خوشیوں کے موتی بکھرنا شروع ہوئے: وہ موتی آج تک تنہا تنہا رقص سفر مِیں ہیں۔ بابا جان کی موت کے بعد گل پری کی ماں نے گھر کی مالی ذمہ داریاں اٹھائیں اور محنت مزدوری کرکے بچوں کاپیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سکول بھی بھیجا۔ علاقائی خونریزی اور گھریلو مشکلات بھی گل پری کی مسکراہٹیں نہ چھین سکیں۔ گل پری بتاتی ہے کہ وہ بچپن ہی سے بہت شرارتی تھی۔ اُس کی شرارتیں اس قدر حسین تھیں کہ مرجھائے ہوئے دل بھی کھل جاتے تھے۔ ایک دن گل پری سکول مِیں تفریح کے وقت اپنی سہلیوں کے ساتھ نشانہ لگاناکھیل رہی تھی۔ کہ گل کا نشانہ، نشانے پر لگنے کی بجائے اُس کے استاد نصراللہ کے ماتھے پرجا لگا۔ گل کا کہنا ہے کہ اس پتھر کا نشان آج بھی استاد نصراللہ کے ماتھے پرواضح ہے۔

 گل پری کاکہناہے کہ ” وہ بچپن مِیں مردوں سے بہت لڑائی کیا کرتی تھی، کیا پتہ تھا کہ جوانی مِیں یہی مرد میرے لئے وبال جان بن جائیں گے۔“ 2017ءکی سردیوں کی شام گل کی اماں جان کوتیز بخار ہوا۔ خاطر خواہ علاج کے باوجود گل کی اماں جان زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اُس وقت گل کی عمر چودہ سال تھی۔ گل کی دونوں بڑی بہنوں کی خاندانی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق شادیاں ہوچکی تھیں۔ ماں کے فوت ہونے کہ بعد خاندان نے فیصلہ کیا کہ گل پری کی فی الفور شادی کرکے اسے پیا گھر سدھار دیاجائے۔ اِس طرح گل پری اپنے گھر والی ہوجائے گی اور زندگی کی مشکلات مِیں بتدریج کمی بھی واقع ہوگی۔

 خاندان کے فیصلے کی خبرملی تو گل اُس فیصلے کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ گل نے اپنی بڑی بہن سے رابطہ کیا ”مَیں محض چودہ سال کی ہوں، مَیں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے چھوٹی عمر مِیں شادی نہیں کرنی اور نہ ہی مَیں اِس قدر کمزورہوں کہ مَیں زورزبردستی کے فیصلے قبول کروں گی۔“ گل کی بڑی بہن نے حق کا ساتھ دیا اور گل کو مشورہ دیا کہ راتوں رات سرحد پار کرکے پاکستان چلی جاے۔ گل نے راتوں رات اپنی ایمرجنسی ضروریات کی گھٹڑی باندھی اور پاکستان کا رخ کرلیا۔ باون گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد گل اپنے کامیاب مستقبل کے خوابوں کے ساتھ اسلام آبادپہنچ گئی۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد گل پری نے گرلزہوسٹل مِیں بسیراکیا۔ گل پری گھرسے اتنے پیسے لے کر آئی تھی کہ وہ دوتین ماہ ہوسٹل مِیں گذار سکتی۔

اتنے مِیں ہوسٹل کی دیگر خواتین سے گل کی جان پہچان ہوگئی۔ گل کے مطابق ” مَیں نے نوکری کیلئے اگلے دن جونہی ہوسٹل سے قدم باہر رکھا تو جسم پرست، ہوس پرست، موقع پرست، موقع شناس اور پیشہ وردلال میرے ارد گرد منڈلانے لگے۔ افغانستان مِیں مَیں جنگی جہازوں کی گھن گرج، بم دھماکوں کی گونج اورگولیوں کی بوچھاڑ سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئی تھی۔ لیکن یہاں ہوس پرست خون خوار بھیڑیوں کی نظریں جب میری آنکھوں سے ہوکر میرے جسم تک جاتیں تومَیں حواس کھو بیٹھتی۔ جب پیشہ ور دلال کی گاڑی اچانک میرے سامنے رکتی تو میرے قدم لڑکھڑا جاتے اور اُن لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ مَیں راستہ بدل لیتی۔ جب مَیں کسی دفتر مِیں نوکری کیلئے جاتی توملکہ دو جہاں کی ساری آسائشیں مجھے دینے کی یقین دھانی کرائی جاتی۔ مَیں سمجھ جاتی کہ دوبارہ یہاں آنا میرے لئے اچھا نہیں۔ کیونکہ مَیں کابل مِیں اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنے باپ اور خاندان کی عزت ساتھ لے کر آئی تھی۔ اِس لئے مجھے اِس بات کا احساس تھا کہ عزت لٹوانے سے بہترہے کہ جس اللہ نے سانسیں دی ہیں یہ سانسیں اسے واپس لوٹا دی جائیں۔ مَیں واپس اپنے روم مِیں آکر زار و قطار روتی۔ ہوسٹل کی بہت ساری خواتین نے مجھے بیچنے کی کوشش کی لیکن مَیں جلد ہی اگلے شخص کی نیت جان جاتی۔ ایک صبح مَیں نوکری کے لئے نکلی تو اُس دن میرے پاس آخری چند روپے تھے۔ کیونکہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، مَیں راستہ بھول گئی۔ اُس دن مجھے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔ مَیں واپس ہوسٹل پہنچی تو میرے جوتوں نے میرے پاوں کاٹ ڈالے تھے۔ بھوک کی شدت میرا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ پیاس کی شدت میری سانس روک رہی تھی۔ مَیں اپنے بیڈ پر آکر گرگئی۔ ابھی مَیں نیم بہوشی مِیں تھی کہ اچانک میرے پستہ حال فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔دوسرا حصہ کچھ دن بعد

نوٹ:یہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے چند دن قبل میں نے گل پری کاانٹرویوکیاتھا