Search This Blog

روح پرستی سے جسم پرستی تک

  


روح پرستی سے جسم پرستی تک 

امتیازچغتائی 




ہمارے ایک بڑے پیارے دوست عمران قریشی صاحب ملتان مِیںرہتے ہیں۔ عمران قریشی سیاسی شخصیت ہونے کے ناطے ہر موضوع پر بات کرنے کی گرفت رکھتے ہیں۔ اکثرموضوعات پر اُن سے بحث و تکرار لگی رہتی ہے ۔ آج اُن کی خیریت دریافت کرنے کیلئے انہیں ٹیلی فون کال کی توبات عمران خان کی حکومت مِیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہوتی ہوئی خاتون ٹک ٹا کر کے واقعہ تک جاپہنچی۔ مَیں نے عرض کیا قریشی صاحب تحریک انصاف کی گذشتہ تین سالہ کارکردگی کے بارے مِیں کچھ کہنا پسند کرینگے؟ کہنے لگے تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے مِیں ناکام رہی۔ مزید زور دے کرکہنے لگے کہ مہنگائی نے غریب انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی بہترین ہوگئی ہے۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ میرے ذہن مِیں ایک بڑا معروف لطیفہ گھومنے لگا۔ جسے زیادہ تردوستوں نے سن رکھا ہوگا۔

”کسی شخص کی سڑک حادثے مِیں موت واقع ہوگئی۔ اُس کی لعش گھر لائی گئی۔ تدفین کے عمل سے کچھ دیر قبل اعلان کیاگیا کہ سب لوگ باری باری آئیں اور فوت ہونے والے شخص کاآخری دیدارکر لیں۔ سب مرد باری باری آئے چہرہ دیکھا اور چلے گئے۔ اب خواتین فوت ہونے والے شخص کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ ایک خاتون بین کرتے ہوئے آئی، مرنے والے شخص کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، غور سے دیکھا اور روتے روتے مرنے والے شخص کی اہلیہ سے مخاطب ہوکرکہنے لگی۔ ” بہن،شکر ہے،بھائی کی آنکھ توبچ گئی۔“ تو مختصربات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت نے غریب عوام کو قبرمِیں اتار دیاہے اور خان صاحب ابھی تک آنکھ بچ جانے کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ خان صاحب مہنگائی نے لوگوں کو اِس قدر مشکل مِیں ڈال دیا ہے کہ اب لوگ اپنے کسی پیارے کی بیماری سے توکم پریشان ہوتے ہیں لیکن زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی ہے کہ اگراُن کا پیارا اللہ کوپیارا ہوگیاتووہ کفن دفن کا انتظام کہاں سے کرینگے۔ 

ابھی ٹیلی فون کال بند نہیں ہوئی تھی کہ بات خاتون ٹک ٹاکر کے واقعہ تک پہنچ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اُس واقعہ کا افسوس کرنے لگے۔ مَیں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے رُوح پرستی سے جسم پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے مِیں روح سے محبت کا تصور ختم ہوگیا ہے،اب ہم چھو کریقین کرنے کے نظریات کے قیدی ہوگئے ہیں۔ اِس کے بجائے کہ ہم رُوح سے گذرکر امر ہوجائیں ہم یک طرفہ تسکین کیلئے جسموںکونوچ کرخُدا اور اِنسان دونوں کے گناہ گار ہوتے جارہے ہیں۔ ذہنی تسکین،آنکھ کے لالچ،دل کی حسرت،پیٹ کی ہوس اور جسم پرستی نے ہمیں انسان نماگِد بنادیاہے۔ ہم روحوں کے عشق کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے جسموں کی حسرت پوری کررہے ہیں۔ میری تمام باتیں وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ مَیں نے اِس دوران انہیں لیڈی گاگا کے کنسرٹ کا حوالہ بھی دیا۔ جس مِیں لیڈی گاگا گانا گاتے گاتے اپنے مداہوںمِیں پہنچ گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے روکا تو کہنے لگی ”یہ میرے لوگ ہیںمجھے اِن سے کوئی خطرہ نہیں“ اور وہ چند منٹوں تک مداحوں مِیں رہی۔ اِس دوران مداحوں نے اُسے اپنے کندھوں پر بھی اٹھایا اور وہ واپس سٹیج پر آکر معمول کے مطابق پرفارم کرنے لگی۔ میری یہ بات سن کروہ بولے۔ چند سالوں کی بات ہے، ایک شخص نے گھر مِیں پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگوایا ہوا تھا۔ گذشتہ کئی سالوں سے ایک ترتیب مِیں ماہانہ پانچ چھ ہزار بل آرہا تھاکہ اچانک ایک ماہ بل دس ہزارتک پہنچ گیا۔ موصوف بل لے کر پی ٹی سی ایل کے دفتر پہنچ گئے۔ شکایت کرنے پر خاصی بحث ہوئی۔ انکوائری کرنے پر موصوف کویاد آیا کہ اس ماہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا رہ گیا تھا۔ لہذا جس بھی شخص کو پتہ چلا کہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا ہے اس نے خوب دل بھر کے فون کااستعمال کیا۔ کہنے لگے کہ ایشیاءہو یا یورپ ،امریکہ ہو یا آسٹریلیا، عورت کی بے پردگی جسم پرست انسان کی ذہنی تسکین کے لئے ہمیشہ سے آسان ہدف رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ روح پرستی کی داستانیں عام تھیں آج آئے روز ہمیں ہوس پرستی کے واقعات سننے کوملتے ہیں۔

میں نے پوچھا تو پھر جو لوگ چھوٹی چھوٹی بچیوں اوربچوں کوزیادتی کا نشانہ بناتے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟کہنے لگے” دراصل وہ ذہنی بیمار ہیں۔ وہ اپنی احساس کی حس کھو چکے ہیں،وہ جہالت کے اِس درجے مِیں آتے ہیں جس مِیں انسان اور حیوان کا موازنہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔کہنے لگے ایسے لوگ اس مادہ سانپ کی مانند ہیں جو اپنے بچے خود کھا جاتی ہے۔ 

پس بات اِس نتیجے پر پہنچی کہ کسی بھی معاشرے کے شہری کی ہر قسم کی غربت کی ذمہ داری اِس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ معاشی غربت ہویا ذہنی غربت دونوں ہی معاشرے مِیں بگا ڑ کے ساتھ ساتھ روح پرستی سے ہوس پرستی کی طرف لےکرجاتی ہیں۔ 


3 comments:

  1. معاشرہ تیزی سے زوال پذیر ہے اور پستی کا یہ سفر ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز تر ہوتا جا رہا ہے افسوس کہ اس اخلاقی گراوٹ کی روک تھام کے کوئی موثر اقدامات ہوتے نظر نہیں آتے

    ReplyDelete