Search This Blog

اومنیکرون کوویڈ-19 کی ایک نئی قسم... کئی ممالک نے داخلے پر پابندی عائد کر دی

اومنیکرون کوویڈ-19 کی ایک نئی قسم... کئی ممالک نے داخلے پر پابندی عائد کر دی  


اسلام آباد (امتیاز چغتائی)


ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ نئی قسم کے اثرات کو سمجھنے میں چند ہفتے لگیں گے، کیونکہ سائنس دانوں نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کیا ہے کہ یہ کتنی منتقلی ہے۔

برطانیہ کے ایک اعلیٰ صحت کے اہلکار نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین نئے قسم کے خلاف "تقریباً یقینی طور پر" کم موثر ثابت ہوں گی۔

لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساختی حیاتیات کے ماہر پروفیسر جیمز نیسمتھ نے مزید کہا: "یہ بری خبر ہے لیکن یہ قیامت نہیں ہے۔"

ساؤتھ افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کیسز - جہاں صرف  فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے - وہ سنگین نہیں تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تحقیقات ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ .

" زیادہ تر مریض جسم میں درد اور تھکاوٹ، انتہائی تھکاوٹ کی شکایت کرتے ہیں اور ہم اسے نوجوان نسل میں دیکھتے ہیں، یہ بڑی عمر کے لوگ نہیں ہیں... ہم ان مریضوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں جو سیدھے ہسپتال جا کر داخل ہو سکتے ہیں

امریکی متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فوکی نے کہا کہ جب کہ نئی قسم کی رپورٹس نے "سرخ پرچم" پھینکا ہے، یہ ممکن ہے کہ ویکسین اب بھی سنگین بیماری کو روکنے کے لیے کام کر سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے عجلت میں سفری پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں "خطرے پر مبنی اور سائنسی نقطہ نظر" کو دیکھنا چاہیے۔

یورپ میں کئی کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں سے دو یوکے اور ایک بیلجیم میں ہے۔ جرمنی اور جمہوریہ چیک میں بھی مشتبہ کیسز پائے گئے۔

بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی نئی قسم کا پتہ چلا ہے۔

جنوبی افریقہ سے ہالینڈ پہنچنے والے سیکڑوں مسافروں میں نئی قسم کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ڈچ حکام نے بتایا کہ دو پروازوں میں تقریباً 61 افراد کوویڈ 19 کے لیے مثبت تھے اور انہیں ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے جب کہ ان کے مزید ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

نیدرلینڈز اس وقت کیسز میں ریکارڈ توڑنے والے اضافے کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک توسیع شدہ جزوی لاک ڈاؤن اب تک اتوار کی شام سے نافذ ہے۔

جمعہ اور ہفتہ کو کئی ممالک نے نئے اقدامات کا اعلان کیا

جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، انگولا، موزمبیق، ملاوی، زیمبیا، لیسوتھو اور ایسواتینی سے آنے والے مسافر برطانیہ میں داخل نہیں ہو سکیں گے

امریکی حکام نے کہا کہ غیر ملکیوں کو جنوبی افریقہ، بوٹسوانا، زمبابوے، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینی، موزمبیق اور ملاوی سے سفر کرنے سے روک دیا جائے گا، جو یورپی یونین کے پہلے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ پیر سے نافذ العمل ہوں گے۔

آسٹریلیا نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو، ایسواتینی، سیشلز، ملاوی اور موزمبیق سے پروازیں 14 دن کے لیے معطل کر دی جائیں گی۔ غیر آسٹریلیائی باشندے جو پچھلے دو ہفتوں میں ان ممالک میں تھے اب ان کے آسٹریلیا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جاپان نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز سے، جنوبی افریقہ کے بیشتر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو 10 دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا اور اس دوران کل چار ٹیسٹ لینے ہوں گے۔

ہندوستان نے جنوبی افریقہ، بوٹسوانا اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں کے لیے مزید سخت اسکریننگ اور جانچ کا حکم دیا ہے۔

کینیڈا ان تمام غیر ملکی شہریوں پر پابندی لگا رہا ہے جنہوں نے گزشتہ 14 دنوں میں جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو، ایسواتینی یا موزمبیق کے راستے سفر کیا ہے۔

 

 

Social cohesion & Interfaith Harmony

 Social cohesion & Interfaith Harmony 

By imtiaz Chughtai

Islamabad: Whenever I heard the news of violence being committed in the name of God; I am absolutely repulsed at the carnage caused by the radicals. The fact that the perpetrators espouse rhetoric linking their senseless murders to Islam disgusts me even further. 

Pakistan is a multi-religion country with major Muslim population; living in the advanced days of the latest technology and multicultural society. Dealing with the follow citizens justly and equally is need of day. Lack of insecurity, unjust distribution of socio-economic resource, and misuse of blasphemy laws are some of the challenges to interfaith harmony in Pakistan. This is result of the migration of non-Muslims, especially Christians, Hindus and Ahmadis to India and western countries. Misinterpretation of jihad, partial and prejudiced religious discourse, absence of non-Muslims’ literature in the national educational curriculum has created gap between the majority and minorities of the country.   

Pakistan can be better place to live if exchange of ideas keeps on taking place. There is not much difference in the original messages of love in different religions/faiths. Synthesis of philosophies of the genius, true lovers of humanity and Saints may bring heaven on this earth.

There is dire need to take immediate steps to ensure social justice and fair distribution of socio-economic resources in order to promote an environment for forbearance, tolerance and co-existence in our society and eliminate the sense of insecurity and injustice among the religious minorities. Interfaith harmony is the only way forwards in promoting peace and prosperity in the society in line with the spirit of the founder of the nation, Mohammad Ali Jinnah. Only tolerant society based on the principles of interfaith harmony can ensure social inclusion by providing all citizens equal opportunities to progress and grow irrespective of their faith.

Inhuman acts across the world have shaken the societies and under this situation, it is necessary to encourage tolerance, peace, patience and interfaith harmony in Pakistan. Religious minorities have right to enjoy a safe and secure environment as envisaged in the constitution of Pakistan and it must be provided unconditionally. To that end, there will be no harm in ammending the constitution, if such a need is felt. To my knowledge, Islam has issued severe warnings to those who infringe upon the rights of the minorities. Religiously motivated violence must be fought together and with passion. People from different faiths must continue to defend the faith and liberties of each other. The fanatics – weather at home or abroad – must be brought to justice, but that can only be done if people of all faiths and beliefs are united against them. Fundamentalists and extremists aim to kill people indiscriminately. Their only goal is to cause chaos, devastation and bloodshed. These types of violent actions are far removed from the teaching of any religion or faith. Every faith should start to defend the faith and liberties of each other. The cycle of hate and counter-hate, violence and counter-violence needs to be broken.

Youth should be engaged to build a future of enlightened and passionate Pakistan. Our young generation should understand that small acts of kindness can change lives. It is kindness that leads to a more secure and prosperous nation. I am confident that by working on these issues in our own communities, we can emerge as a model for the region as a whole.

COVENANT



The key points of the agreement between the government of Pakistan and the banned organization (Tehreek-e-Labek Pakistan) came to light.

Islamabad(Tanveer Kashif)

According to our sources, under the agreement, the banned organization will refrain from any future long march or sit-in and will join the political mainstream as a political party in future.

Sources said that the government under the agreement

 It will release the arrested activists of the banned outfit. However, the activists facing serious cases including terrorism will have to seek relief from the court. The activist of the banned outfit will end their sit-in by tonight Will not take any action.

Sources further said that Mufti Muneeb-ur-Rehman acted as the guarantor of the agreement on behalf of the banned organization while Shah Mehmood Qureshi(Foreign Minister), Asad Qaiser(Speaker National Assembly) and Ali Muhammad Khan(Member National Assembly) signed the agreement on behalf of the government of Pakistan.

It may be recalled that the banned TLP workers marching towards Islamabad have been present in Wazirabad for three days.

Life in various cities of Punjab, including Gujranwala and Wazirabad, has been paralyzed and internet service has been shut down due to sit-ins by workers of the banned outfit. Preparing to leave.


کنکریٹ کی قبریں

 کنکریٹ کی قبریں 


امتیازچغتائی
چند دن قبل کی بات ہے میں اپنے آفیشل وزٹ پر سپرنٹنڈٹ جیل سرگودھا کا انٹرویوکرنے سرگودھا گیا ہوا تھا۔ سرگودھا میرا آبائی شہر ہے یہی وجہ ہے کہ میرے ننیال اور دھدیال بھی وہی رہتے ہیں۔ کام سے فارغ ہوکر مجھے اپنے ماموں کے گھر اُن کی تیمارداری کیلئے جانا تھا۔ میں نے بڑے بھائی سے درخواست کی کہ میرے ساتھ چلیں۔ پھل خریدنے کی غرض سے ہم امین بازار کی طرف چلے گئے۔ بازار میں گھسے ہی تھے کہ ہر دو قدم پر مانگنے والے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب پیشہ ور بھکاری اور ضرورت مند انسان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ کہ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پرچھلانگیں میں ہی خوش ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ درختوں کی جڑوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔میں۔آپ اور ہم سب کہیں نہ کہیں ضرورت مند ہیں اور اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہم ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لئے ضرورت مند ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے حالات قدر ابتری کی جانب رواں دواں ہیں کہ سفید پوش افراد سر چھپاتے ہیں تو پاوں ننگے ہوجاتے ہیں اور پاوں چھپاتے ہیں توسرننگا ہوجاتا ہے۔ اسی کشمکش میں مبتلا ہم زندگی کی ضروریات پوری کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کسی کو دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی ضرورت ہے تو کسی کو بچوں کے سکول کی فیس ادا کرنی ہے۔ کسی کو بیماری کا اعلاج کرواناہے توکسی کو بیٹی کی شادی کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ضرورت مند افراد کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ضرورت پوری کرنے والوں کی شرح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نے انسان کو انسان کا محتاج بنا دیا ہے۔ معاشرتی حالات نے ہمیں اس قدرگنہگار کردیاہے کہ ہم دووقت کی روٹی کیلئے خداکی بجائے انسانوں پرتکیہ کرنے لگے ہیں۔ 
توبات ہورہی تھی امین بازار کی، بڑے بھائی ضرورت کے مطابق پھل لے کرابھی گاڑی میں بیٹھنے ہی لگے تھے کہ ایک بچہ آگے بڑھا اور بھائی سے کہنے لگا کہ میرے پاس کچھ پنسلز ہیں آپ یہ خرید لیں۔ بھائی نے بولا ایک پنسل دے دیں لیکن وہ بچہ ساری پنسلزبیچنے پر بضد تھا۔ بھائی نے ایک پنسل لی اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے بھائی سے پوچھا بچہ کیا کہہ رہا تھا؟ تو بھائی نے جواب دیا، بچہ کہہ رہا تھا” کہ امیرکو امیرکئے جارہے ہوغریب کا بھی خیال کرلیاکرو۔“ یہ محض الفاظ نہیں ہیں ، یہ جذبات ہیں، یہ آنسوہیں یہ ضرورت ہیں یہ کیفیت ہیں یہ صاحب حیثیت کے منہ پرتمانچاہیں۔ آج ایک ہفتہ گذرنے کو ہے لیکن یہ الفاظ میرے اندر چپک کررہ گئے ہیں۔ ملکی مالی اعشاریوں کو ایک طرف رکھ کراگر بات کی جائے توہمارے معاشرے میں ضرورت مند لوگوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا مخیرحضرات نے اپنا ہاتھ کھینچ لیاہے؟ کیا بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کھانے والے زیادہ ہوگئے اور اور کمانے والے کم: کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرے ۔ لیکن ہمارے ہاں ریاست کی بنیادی ذمہ داری امیرکا پیٹ بھرنا اور غریب کے منہ سے نوالہ چھینناہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی اموات کی شرح کم ہے اور ضمیرکی اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جسمانی قبریں مٹی سے بنائی جارہی ہیںاور ضمیرکی قبریں کنکریٹ سے پختہ کی جارہی ہیں۔ حوص ،لالچ اور خود غرضی نے ہمیں اس قدر اندھا کردیا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد ضرورت مند نظرنہیں آرہے۔ ریاست کی ناکامی اپنی جگہ لیکن اخلاقی فرائض اور اخلاقی قدروں کو ہم نے اپنے اندر جنم ہی نہیں لینے دیا۔ مخیرحضرات بھی سیاستدانوں اور بیورکریٹس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے پیٹ کی آگے بجھانے میں مصروف عمل ہیں۔ 
تحریک انصاف کی حکومت (نااہلوں کاٹولہ) نے ”گرتی ہوئی دیوار کوایک دھکہ اور دو“ کا نعرہ سچ ثابت کردیاہے۔ کیا خوب مثال ہے کہ ” زیادہ گرجنے والے برستے نہیں۔“ 
ہمیں یہ فرض اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا، اپنے ارد گرد ضرورت مندوں کی ضرورت بنناہوگا۔ اگر کوئی ضرورت بیان نہیں کرسکتا تواس کی ضرورت محسوس کرناہوگی۔ اپنے ارد گرد کسی کی ضرورت جاننے کیلئے بہت سے خفیہ اور سادہ طریقے میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ضرورت پوری کرتے وقت ارد گرد کے دوستوں اور رشتہ داروں کی اسی ضرورت کومحسوس کریں۔ اگر ہم ماہانہ راشن لینے جاتے ہیں توچند لمحوں کیلئے سوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کون بھوکاہے۔ اگر ہم بچوں کی فیس جمع کروانے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کونسابچہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول نہیں جاپارہا۔ اگر ہم موسمی کپڑے خریدنے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کس بچے کے پاس گرم کپڑے یا جوتے نہیں ہیں۔ 
اگر ہم دوسروں کی ضرورت کے لئے تھوڑا سوچیں گے توخدااس کی ضرورت پوری کرنے کی ہمت ہمیں خود عطا کرے گا۔ 
 

Most Christians in Afghanistan are underground

Most Christians in Afghanistan are underground

Pakistan(Imtiaz Chughtai)

Nehemiah told about one man named Abdor, who became a Christian with his whole family while in Pakistan. “He was with us for the last few months. He is from Afghanistan, studying in Pakistan, and he said last month that he was going to Afghanistan for evangelism purposes. And it’s been more than a week since we have been unable to hear from him. We have lost contact.”

The Taliban’s conquest of Afghanistan puts Afghan Christians in great danger. Nehemiah says it’s a small community, and many of them converted to Christianity from other faiths. “The number of Christians in the country is thought to be below 30,000, perhaps as low as 1,000. Because most Christians in Afghanistan are underground.”

Afghanistan has very little in the way of an organized church. There is a small Catholic church located in the Italian embassy in Kabul, but Nehemiah says that has been shut down.

Historically, Afghan Christians have belonged to the sprawling Church of the East, once the largest Christian communion in the world.

Despite these low numbers, the Taliban is keeping a close eye on Christians, even sending them letters warning them not to meet. Nehemiah says, “One man received a letter saying his house now belongs to the Taliban. He’s a simple man who makes crafts, and his entire savings are in his house. The Taliban will take the property and the assets of Christians.”

Pray for the safety of Christian women in Afghanistan, as the Taliban may seek to kidnap them as well. Nehemiah says, “Christians in Afghanistan will be bracing themselves. Will they be forced to convert back to other faiths? Will they be killed if they refuse?”

ایک ہے گُل پری

ایک ہے گُل پری

 تیسرا اور آخری حصہ



امتیازچغتائی


میں آج بہت خوش تھی، میں زندگی کے اس حصے میں شامل ہونے جارہی تھی جس کا ہر عورت خواب دیکھتی ہے۔ میں ”کبھی ہاں کبھی نہ“ کی کشمکش میں مبتلا تھی۔ مجھے اس بات کا احساس تھا کہ گذشتہ سالوں میں جومیرے ساتھ ہوا وہ ایک تنہا عورت کے لئے کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ دوسری طرف میں نے اپنے حسین خوابوں کا محل تعمیرکرنا شروع کردیا تھا۔ جس قدر اس شخص نے مجھ پر وفاداری نبھانے کے پے درپے وار کئے وہ کوئی مظبوط عورت بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ میں نے اس سے کچھ دن کا وقت مانگا۔ اس نے مجھے سوچنے کاوقت دیا۔ اس دوران وہ مجھ سے رابطے
میں رہا، وہ مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ میرے خیالوں پرسوار ہوتا گیا۔ میں تصورات میں ہی خود کو اس کی حفاظت کی چاردیواری میںمحسوس کرنے لگی۔ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی ہے جسے میںدل کی آواز سنا سکتی ہوں، میری روح اور وجود کو چھپنے کی جگہ مل گئی ہے۔ میں وقت کے ساتھ ساتھ ہواوں میں اڑنے لگی، مجھے پھولوں کی خوشبواچھی لگنے لگی، میری دعاوں میں اضافہ ہونے لگا، میں بیٹھے بیٹھے مسکرا دیتی، میری مسکراہٹ اس قدرطویل ہوتی کہ میں معمول کے کام بھول جاتی۔ میں اس کے انداز میں خود سے باتیں کرکے اس کی موجودگی محسوس کرتی ۔اس کے قہقہوں کی آواز میری روح تک جانے لگی۔ وہ باتوں باتوں میں میری روح میں اترجاتا، وہ مجھے زمین سے اٹھاتا اورساتویں آسمان میں گم کردیتا۔ وہ میری آواز کوگرمی کی شاموں کی ٹھنڈی ہواسے تشبیح دیتا۔ وہ کہتا”تمہارا حسن قوس قزح کے حسین رنگوں کا امتزاج ہے، تم بنجر زمین پر بارش کا پہلا قطرہ ہو۔“ 
ایک دن اس نے مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا تو میں نے اس سے سوال کیا ” تم میرے لئے کیاکرسکتے ہو؟“ محبت اور وفاداری کے دعووں کے بعد وہ بولا”میری پاس جو کچھ بھی ہے سب تمہارا ہے“ میں نے کہا پھربھی ، وہ بولا” میری نئی گاڑی تمہارے نام ، میرا گھر تمہارے نام ، اس کے علاوہ جو کچھ تم چاہو وہ سب تمہاراہوا۔“(میرے سوال کا مطلب کچھ اپنے نام لکھوانا نہیں تھا، یہ سوال محض ملاقات کا تقاضاتھا)
میں نے اس ملاقات میں ”ہاں“ کردی۔ اس نے مجھے ہوسٹل سے لینا ، آفس لے جانا ، آفس سے لینا اور ہوسٹل چھوڑدینا۔ یہ سلسلہ چار ماہ تک چلتا رہا۔ میں خود میں مظبوط ہوتی گئی۔ بات شادی تک پہنچ گئی۔ میں نے افغانستان میں اپنی بہن سے بات کی اور بڑی سادگی سے ہمارا نکاح ہوگیا۔ ہمارے نکاح کے بارے میں اس کے گھروالوں کو پتہ نہیں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے اپنے گھروالوں کونکاح میں شامل کیاتویہ نکاح ممکن نہ ہوگا۔ یہاں مجھے احساس ہوگیا تھاکہ اس کے گھروالوں کے علم میں لائے بغیرنکاح کا فیصلہ غلط ہے۔ بہرحال میں اب چلتی گاڑی کوروکنا نہیں چاہتی تھی۔ 
نکاح کے ایک ماہ کے بعد بھی میں ابھی تک ہوسٹل میں مقیم تھی۔ بیوی ہونے کے ناطے جب بھی میں اس کے ساتھ رہنے کاتقاضاکرتی تووہ یہ کہہ کرٹال دیتا کہ تھوڑا صبرکرو، ابھی حالات ٹھیک نہیں۔ میں خاموش ہوجاتی۔ اس معاملے پرکئی بار ہماری بحث تکرار بھی ہوتی اور میں پھر تھک ہار کرخاموش ہوجاتی۔ میں نے اپنے نکاح کے گواہوں سے بھی بات کی لیکن کسی نے کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا۔
میں نے اسے کہا کہ میں خود تمہارے گھروالوں سے بات کروں؟ تو وہ مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دیتا۔ ہمارے نکاح کوایک سال ہوچکا تھا۔ اسی دوران ایک دن جب میں نے اسے امیدسے ہونے کی خوشخبری سنائی تووہ خوش ہونے کی بجائے مجھ سے لڑنے لگا۔اب میں ایک نئی مشکل کاشکارہوچکی تھی۔ میں اس کوباربار اپنے گھرلے جانے کی درخواست کرتی۔ وہ ہربارمجھے ٹال دیتااورمناسب وقت کاانتظارکرنے کوبولتا۔ 
آہستہ آہستہ اس کا رویہ مجھ سے جان چھڑانے والا ہوگیا۔ اس دوران میں نے نوکری بھی چھوڑ دی تھی۔ وہ کئی کئی دن تک میری کال نہ لیتااور جب میں زیادہ کالزکرتی تووہ میرا نمبربلاک کردیتا۔ میری مشکلات کا دورایک بار پھرشروع ہوچکاتھا۔ ایک شام میری طبعیت بہت خراب تھی، وہ میرے پاس آیا، مجھے کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ لیڈی ڈاکٹر کی ادویات لینے کے بعد میری طبعیت اور بگڑ گئی اور میری امید جاتی رہی۔ میں بہت روئی، میں دن رات جاگتی رہتی، کھانا پینا میرے لئے ناممکن ہوگیا۔ 
ایک دن میری ایک دوست مجھ سے ملنے آئی ، میں نے اسے سارا واقعہ سنایا وہ مجھے ہسپتال لے گئی۔ مجھے وہاںجا کہ پتہ چلا کہ میری ادویات زندگی دینے والی نہیں بلکہ زندگی لینے والی تھیں۔ میرے وجود کا حصہ مجھ سے الگ کردیا گیاتھا۔
اب میںایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے بمشکل اس کے ساتھ رابطہ کیااور اس سے طلاق کا تقاضا کردیا۔ وہ شائد پہلے ہی اس بات کے کیلئے تیار بیھٹا تھا۔ 
جو لوگ میرے نکاح کے گواہ تھے وہی میری طلاق کے گواہ بھی بنے۔ 
کچھ لوگوں نے مجھے پوچھا ” تم نے حق مہر کتنا لکھوایا تھا؟“ میں نے جواب دیا ”مجھے اتنی مہلت ہی نہ دی گئی کہ میں اپنے حق کی بات کرپاتی۔“
رفتہ رفتہ میرے لئے زمین اس قدر تنگ کردی گئی کہ میں خود کشی کی تیاریاں کرنے لگی۔ میں ایک خاوند کے ہوتے ہوئے بھی تنہا تھی اور وہ محفلوں کا گھڑسوار تھا۔ ایک دو بار میں نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی تومجھے بچا لیاگیا۔ 
طلاق ملنے کے بعد میں پھر اس موڑپر آ کھڑی ہوئی ہوں جس سے میں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب میں نے طلاق یافتہ کی حیثیت سے جینا شروع کیا۔ وہ شخص اس قدر کم ظرف نکلا کہ اس نے پیچھے مڑکے بھی نہ دیکھا۔ طلاق والے دن اس کے چہرے پر رتی بھر ندامت نہیں تھی۔ وہ ایسے انجان بنا ہوا تھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ اس کی غیرت مر چکی تھی اور میری روح مر چکی تھی۔ اس کا ضمیر مر چکا تھا اور میرا پیار مرچکا تھا۔ اس دوران میں نے امید، محبت، اہمیت کو بہت قریب سے دیکھا، میں نے اعتبار کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا، میں نے پھول کو خوشبوسے الگ ہوتے دیکھا۔ مرد ایک ایسا سمندر ہے جس میں دنیا کی سب ندیاں بھی جا گریں تو وہ کبھی نہیں بھرتا۔
”سب باطل ہی باطل ہے، سب کچھ بے معنی ہے“ 
آج میں نے وہ ہوسٹل چھوڑ دیا ہے، امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد افغانستان میںرہنے والی میری بہن اپنے خاوند کے ہمراہ پاکستان کے افغان سرحدی علاقے منتقل ہوگئی۔ گذشتہ مہینے میں اپنی بہن کے پاس چلی آئی۔ یہاں اس نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا اور اب میں نے ایک بار پھر اپنی پڑھائی شروع کردی ہے۔
میں نے اس شخص کو دل سے معاف کردیا ہے۔ جب تک میں نے اسے معاف نہیں کیا تھا اس وقت تک اس کے ظلم میرے جذبات پر سوار رہتے تھے۔ جب سے میںنے اسے معاف کردیا ہے میں خود کوآزاد محسوس کررہی ہوں۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔ میں پڑھ لکھ کر ایک دن بہت بڑی انسان بنوں گی اور ہر اس انسان کی مدد کروں گی جس کو میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

Local staff at foreign missions



Islamabad (Special Reporter):

Local staff at foreign missions risked the diplomats' reputation for personal gain. From administrative to consular section, even lower staff including drivers are busy in making money, ensnaring diplomats. Cases in embassies has rapidly increased. Local staff being deployed at missions including African, Central Asian, Middle East and in the European countries are reportedly involved in suspicious activities. 
No doubt, diplomats are specifically trained to maintain relations with other countries, but it is said that even angels would fall prey to such temptations if they are posted on a post that involves money! The Italian mission in Islamabad reported theft of 1000 visa stickers. The first information report (FIR) was being registered at the local police station but till the time no progress is seen in investigation. Either the mission is not interested or officials are not doing their job, but something fishy. Reportedly local security personal with its foreign facilitator was involved.
Earlier an ambassador from European country was terminated after he was found guilty of misusing his diplomatic status. Few years back, an ambassador was recalled after his involvement in misusing house rent facility. A charged’ Affair of a EU country was recalled for taking bribe in issuing visas and reportedly his secretary was indirectly involved in human trafficking. In these case local facilitators were involved and extra money was shared. In September, 2020, customs officials seized a consignment of goods imported in the name of embassy. When the ambassador refused to own it and action was taken against the local shipping and owners were sent to jail and their license was suspended. Reportedly, the same people are hunting with another name. 
Investigations in such cases proved that without the involvement of the local staff such incidents would have not been possible. Misuse of diplomatic immunity and involved in various illegal practices such as misuse of liquor quotas, import of duty free cars and other stuff, misuse of house rent facility and having illicit affairs with local ladies are common in diplomats. By the way, when it comes to misuse the liquor quotas, both Muslim and non-Muslim missions are equally involved and have benefited with the help of Foreign Affairs’ protocol department. 
So much so, there are number of examples of such cases and involvement of local staff and having illicit relations with girls. Interestingly, this practice is on to lure attention of all. Corruptions is the biggest challenge of the day, either moral or money. A man can be part when there is opportunity of making money through illegal practices.

غیر ملکی سفارت خانے



اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)  

غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات مقامی عملے نے ذاتی مفادات کی خاطر سفارتکاروں کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا. انتظامی امور سے لیکر ڈرائیور طبقہ مال بنانے کے چکر سفارتکاروں کو سہانے سپنے دکھانے اور شیشے میں اتارنے کی کوشش میں مصروف. سفارت خانوں میں کیسز روز بروز بڑھنے لگے. براعظم افریقہ, وسطی ایشیائی ممالک, اور یورپی ممالک کا عملہ مشکوک کارروائیوں میں ملوث. اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے سے تقریباً ایک ہزار ویزہ اسٹیکر چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ سفارت خانے نے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے  مقامی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروائی۔ کہا جاتا ہے کہ سفارت خانے میں کام کرنے والے مقامی عملہ ملوث تھا لیکن تاحال اس واقعے سے متعلق کسی قسم کی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں۔ اس سے قبل یورپ ہی کے ایک اور ملک کے سفیر کو وطن واپس بلایا گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ موصوف ویانا کنونشن کے تحت حاصل ہونے والی سہولیات کو مقامی سہولت کار کے توسط سے ناجائز استعمال کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے تھے۔ اس سے قبل کسٹم حکام نے کاروائی کرتے ہوئے خلیجی ملک کے ایک سفارت خانے کے نام پر منگوائی جانے والی اشیاء کی بڑی کھیپ پکڑی۔ جس کے بارے میں متعلقہ سفیر نے لاعلمی کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں نے اشیاء درآمد کرنے والی کمپنی کے مالکان کے خلاف کاروائی کرتے انہیں جیل یاترا کیلئے بھیج دیا گیا اور بتایا گیا کہ کمپنی کا لائسنس بھی معطل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس واقعے میں ملوث افراد پولیس کے ساتھ مُک مکا کرکے رہا ہوگئے۔ سننے میں آیا ہے کہ ”وہی لوگ“ نئے نام کے ساتھ دھندہ پھر سے شروع کرچکے ہیں۔ یہ چند ایک واقعات ہیں لیکن یہ قصہ پرانا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا. 

چند ماہ قبل ہمارے ہم پیشہ ایک  ساتھی نے اسی موضوع پر قلم کشائی کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح سے سفارتکاروں کو ورغلا کر ایسے کاموں میں پھنسایا جاتا ہے۔ مطلب وہ تو معصوم ہیں. لیکن میرا مشاہدہ ذرا مختلف ہے. قصہ کچھ یوں ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرتے ہوئے بعض کاموں میں چھوٹ حاصل ہوتی ہے مثلاً انہیں دوسرے ممالک میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جاتے وقت گھریلو سامان یا روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کو دوسرے ممالک سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی سمیت چیکنگ وغیرہ سے اِستثناء حاصل ہوتا ہے اس میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت گاڑیاں تک درآمد یا برآمد کرنے کی دقت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جہاں الکوحل ملے مشروبات کے استعمال پر پابندی عائد ہو لیکن سفارتکاروں کو یہ اِستثناء حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان ممالک میں تعیناتی کے دوران اپنی ضرورت کیلئے ایسے اشیاء بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ہر سفارتکار کی حیثیت کے مطابق حدود مقرر ہیں۔ ویانا کنونشن کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں پر مقامی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں الکوحل ملے مشروبات کی سرِعام تیاری اور خریدوفروخت پر پابندی ہے تاہم یہ دھندہ ملک میں بسنے والے غیرمسلم کے نام پر زوروشور سے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کے نام پر درآمد کی جانے والے اشیاء قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آشرباد سے مہنگے داموں بازار میں بکتی ہیں اور اس بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھوتے ہیں (مطلب سفارتکار بھی ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں)۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سفارتکاروں کو دوسرے ممالک میں کام کرنے کیلئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات سے لیکر اپنے ملک کی نیک نامی اور ترجیحات نہایت اہم ہوتی ہیں۔پاکستان کی حیثیت دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف ہے، اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے والے غیر ملکی سفارتکاروں کو حاصل ہونے والے استثناء کی بدولت نہ صرف سفارتکار بلکہ مقامی عملہ بھی فیضیاب ہوتا ہے۔ ایک سفارت کار نے تو یہ بھی بتایا کہ سفارت خانوں میں کام کرنے والے مقامی ڈرائیورز بھی سفر کے دوران اس سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ آپ فلاں کمپنی یا بندے کے ساتھ کام کریں یا فلاں کے ساتھ کام نہ کریں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مقامی عملہ ان کمپنیوں کے پے رول پر ہوتا ہے اور چونکہ غیر ملکی سفارت کار مقامی عملہ پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور وہ یہ کام رازداری سے کرنا چاہتے ہیں لہذا مقامی عملہ اپنے مفادات کی خاطر انہیں ورغلا لے لیتا ہے.