Search This Blog

روح پرستی سے جسم پرستی تک

  


روح پرستی سے جسم پرستی تک 

امتیازچغتائی 




ہمارے ایک بڑے پیارے دوست عمران قریشی صاحب ملتان مِیںرہتے ہیں۔ عمران قریشی سیاسی شخصیت ہونے کے ناطے ہر موضوع پر بات کرنے کی گرفت رکھتے ہیں۔ اکثرموضوعات پر اُن سے بحث و تکرار لگی رہتی ہے ۔ آج اُن کی خیریت دریافت کرنے کیلئے انہیں ٹیلی فون کال کی توبات عمران خان کی حکومت مِیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہوتی ہوئی خاتون ٹک ٹا کر کے واقعہ تک جاپہنچی۔ مَیں نے عرض کیا قریشی صاحب تحریک انصاف کی گذشتہ تین سالہ کارکردگی کے بارے مِیں کچھ کہنا پسند کرینگے؟ کہنے لگے تحریک انصاف کی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے مِیں ناکام رہی۔ مزید زور دے کرکہنے لگے کہ مہنگائی نے غریب انسان سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی بہترین ہوگئی ہے۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ میرے ذہن مِیں ایک بڑا معروف لطیفہ گھومنے لگا۔ جسے زیادہ تردوستوں نے سن رکھا ہوگا۔

”کسی شخص کی سڑک حادثے مِیں موت واقع ہوگئی۔ اُس کی لعش گھر لائی گئی۔ تدفین کے عمل سے کچھ دیر قبل اعلان کیاگیا کہ سب لوگ باری باری آئیں اور فوت ہونے والے شخص کاآخری دیدارکر لیں۔ سب مرد باری باری آئے چہرہ دیکھا اور چلے گئے۔ اب خواتین فوت ہونے والے شخص کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ ایک خاتون بین کرتے ہوئے آئی، مرنے والے شخص کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، غور سے دیکھا اور روتے روتے مرنے والے شخص کی اہلیہ سے مخاطب ہوکرکہنے لگی۔ ” بہن،شکر ہے،بھائی کی آنکھ توبچ گئی۔“ تو مختصربات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت نے غریب عوام کو قبرمِیں اتار دیاہے اور خان صاحب ابھی تک آنکھ بچ جانے کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ خان صاحب مہنگائی نے لوگوں کو اِس قدر مشکل مِیں ڈال دیا ہے کہ اب لوگ اپنے کسی پیارے کی بیماری سے توکم پریشان ہوتے ہیں لیکن زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی ہے کہ اگراُن کا پیارا اللہ کوپیارا ہوگیاتووہ کفن دفن کا انتظام کہاں سے کرینگے۔ 

ابھی ٹیلی فون کال بند نہیں ہوئی تھی کہ بات خاتون ٹک ٹاکر کے واقعہ تک پہنچ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اُس واقعہ کا افسوس کرنے لگے۔ مَیں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے رُوح پرستی سے جسم پرستی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارے معاشرے مِیں روح سے محبت کا تصور ختم ہوگیا ہے،اب ہم چھو کریقین کرنے کے نظریات کے قیدی ہوگئے ہیں۔ اِس کے بجائے کہ ہم رُوح سے گذرکر امر ہوجائیں ہم یک طرفہ تسکین کیلئے جسموںکونوچ کرخُدا اور اِنسان دونوں کے گناہ گار ہوتے جارہے ہیں۔ ذہنی تسکین،آنکھ کے لالچ،دل کی حسرت،پیٹ کی ہوس اور جسم پرستی نے ہمیں انسان نماگِد بنادیاہے۔ ہم روحوں کے عشق کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے جسموں کی حسرت پوری کررہے ہیں۔ میری تمام باتیں وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ مَیں نے اِس دوران انہیں لیڈی گاگا کے کنسرٹ کا حوالہ بھی دیا۔ جس مِیں لیڈی گاگا گانا گاتے گاتے اپنے مداہوںمِیں پہنچ گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے روکا تو کہنے لگی ”یہ میرے لوگ ہیںمجھے اِن سے کوئی خطرہ نہیں“ اور وہ چند منٹوں تک مداحوں مِیں رہی۔ اِس دوران مداحوں نے اُسے اپنے کندھوں پر بھی اٹھایا اور وہ واپس سٹیج پر آکر معمول کے مطابق پرفارم کرنے لگی۔ میری یہ بات سن کروہ بولے۔ چند سالوں کی بات ہے، ایک شخص نے گھر مِیں پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگوایا ہوا تھا۔ گذشتہ کئی سالوں سے ایک ترتیب مِیں ماہانہ پانچ چھ ہزار بل آرہا تھاکہ اچانک ایک ماہ بل دس ہزارتک پہنچ گیا۔ موصوف بل لے کر پی ٹی سی ایل کے دفتر پہنچ گئے۔ شکایت کرنے پر خاصی بحث ہوئی۔ انکوائری کرنے پر موصوف کویاد آیا کہ اس ماہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا رہ گیا تھا۔ لہذا جس بھی شخص کو پتہ چلا کہ ٹیلی فون سیٹ کا کوڈ کھلا ہے اس نے خوب دل بھر کے فون کااستعمال کیا۔ کہنے لگے کہ ایشیاءہو یا یورپ ،امریکہ ہو یا آسٹریلیا، عورت کی بے پردگی جسم پرست انسان کی ذہنی تسکین کے لئے ہمیشہ سے آسان ہدف رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ روح پرستی کی داستانیں عام تھیں آج آئے روز ہمیں ہوس پرستی کے واقعات سننے کوملتے ہیں۔

میں نے پوچھا تو پھر جو لوگ چھوٹی چھوٹی بچیوں اوربچوں کوزیادتی کا نشانہ بناتے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟کہنے لگے” دراصل وہ ذہنی بیمار ہیں۔ وہ اپنی احساس کی حس کھو چکے ہیں،وہ جہالت کے اِس درجے مِیں آتے ہیں جس مِیں انسان اور حیوان کا موازنہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔کہنے لگے ایسے لوگ اس مادہ سانپ کی مانند ہیں جو اپنے بچے خود کھا جاتی ہے۔ 

پس بات اِس نتیجے پر پہنچی کہ کسی بھی معاشرے کے شہری کی ہر قسم کی غربت کی ذمہ داری اِس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ معاشی غربت ہویا ذہنی غربت دونوں ہی معاشرے مِیں بگا ڑ کے ساتھ ساتھ روح پرستی سے ہوس پرستی کی طرف لےکرجاتی ہیں۔ 


A report on the plight of local Christians in Afghanistan

 

A report on the plight of local Christians in Afghanistan

Imtiaz Chughtai

Since the Taliban took over Afghanistan, governments around the world have been making plans to rescue endangered Afghans. Germany, has vowed to evacuate as many as 10,000 people. The UK is currently liaising with civil society partners to find out what kind of people need rescue and how they can be evacuated.

India announced last week that it would give priority to expelling Hindus and Sikhs. The operation is underway

Canada has agreed to issue visas to religious minorities whose lives are in danger under the Taliban. Christians are among Afghanistan's weakest minorities. But over time, the Christian community has become increasingly difficult to trace. Concerns are growing that it is too late and there is no way out.

According to a conservative estimate, the number of Christians in Afghanistan is between ten and twelve thousand. The majority of Christians in Afghanistan are "secret believers." Secret honest people are unable to reveal themselves for fear of dangerous consequences. On a large scale, these people have been hiding their faith for decades, because the believers who appear are punished by death under the Shari'a. Among the secret believers are those who have converted to Christianity from other religions.

Since the fall of the Taliban in 2001, there has been an increase in Christianity in Afghanistan, partly due to a change in security principles due to the US presence in Afghanistan. As the number of converts increased in 2019, dozens of Afghan Christians decided to add their religious affiliation to their national identity cards so that future generations would not have to hide their faith. Before the Taliban took over in 2021, 30 Christians changed their identity cards.

Now the US withdrawal has left Afghan Christians with no choice but to cooperate with the Taliban. The sudden withdrawal of the United States has pushed many innocent lives to the brink of premature death. The United States had no idea of ​​the consequences. The United States had no idea that the Afghan army it had built for a hefty sum of money would be a mountain of sand to the Taliban.

Well, the Taliban are reportedly working to locate Christians. Some local church leaders have sheltered Christians in their homes. With the hope that they will be able to flee the country at any moment. Other Christians are turning to the mountains to save themselves.

According to credible sources, Christians in Kabul have expressed fears that they will soon be killed. During a telephone conversation, a Christian family in Afghanistan said that the Taliban were targeting Christians and other minorities. Christians are also afraid to protect their children.

We know where you are and what you are doing. "Since the Taliban's announcement, many Christians have turned off their phones and moved to unknown locations. During official assignments in Peshawar and Parachinar recently. I met with an Afghan family, details of which I will include in the next report.

Most Christians in Afghanistan do not have passports. Only 20 to 30 percent of people have a passport. Now the question is which country will accept these Christians without passports. The world is considering providing travel facilities for Christians without passports.

Many Afghan Christians are unwilling to risk the perilous journey from Taliban checkpoints to airports.

 And, for now, passports and safe arrivals at the airport are not enough. Some Christian passport holders who have arrived at the airport have not yet been able to leave the country.

افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ

 افغانستان مِیں موجود مقامی مسیحیوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ 

امتیازچغتائی


طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ، دنیا بھر کی حکومتیں خطرے سے دوچار افغانیوں کو بچانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہیں۔ جرمنی ، جس نے زیادہ سے زیادہ دس ہزار لوگوں کو نکالنے کا عزم کیا ہے۔ برطانیہ فی الحال سول سوسائٹی کے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح کے لوگ ریسکیو کا محتاج ہیں اور انہیں کیسے نکالا جا سکتا ہے۔

بھارت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندووں اور سکھوں کو نکالنے کو ترجیح دے گا۔ جس کے لئے آپریشن جاری ہے

کینیڈا نے مذہبی اقلیتوں کو ویزے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے جن کی زندگی طالبان کے تحت خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ افغانستان کی سب سے کمزور اقلیتوں میں مسیحی بھی شامل ہیں۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری کا سراغ لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بہت دیر ہوچکی ہے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان مِیں مسیحیوں کی تعداد دس سے بارہ ہزار کے درمیان ہے۔ افغانستان مِیں زیادہ تر مسیحیوں کی تعداد ”خفیہ ایمانداروں“کی ہے۔ خفیہ ایماندار خطرناک نتائج کے خدشہ کے باعث اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑے پیمانے پرکئی دہائیوں سے یہ لوگ اپنے عقیدے کو چھپائے ہوئے ہیں ۔کیونکہ ظاہر ہوجانے والے ایمانداروں کو شریعت کے تحت موت کی سزا دی جاتی ہے۔ خفیہ ایمانداروں میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو دیگر مذاہب سے مسیحیت میں شامل ہوئے ہیں۔

2001 مِیں طالبان کے زوال کے بعد افغانستان کی مسیحی برداری مِیں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان پر امریکی موجودگی کی وجہ سے سیکورٹی کے اصولوں مِیں تبدیلی کی گئی۔ 2019 میں جیسے جیسے مذہب تبدیل کرنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ، درجنوں افغان مسیحیوں نے اپنی مذہبی وابستگی کو اپنے قومی شناختی کارڈ مِیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنا عقیدہ چھپانا نہ پڑے۔ 2021 مِیں طالبان کے قبضہ کرنے سے قبل 30 مسیحیوں نے اپنے شناختی کارڈ میں تبدیلی کی۔ 

اب امریکہ کے انخلا نے افغان مسیحیوں کے پاس طالبان کے ساتھ تعاون کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ امریکہ کے اچانک انخلا نے بہت ساری معصوم جانوں کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ امریکہ کو ہر گز اس نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ امریکہ کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس افغان فوج کو اس نے بھاری رقم کے بدلے تیار کیا ہے وہ طالبان کے سامنے ریت کا پہاڑ ثابت ہوگی۔ 

خیر مبینہ طور پر طالبان مسیحیوں کا پتہ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کچھ مقامی چرچز کے رہنماوں نے مسیحیوں کو اپنے گھروں مِیں پناہ دے رکھی ہے۔ اِس امید کے ساتھ کہ وہ کسی بھی وقت ملک سے بھاگ جانے مِیں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسرے مسیحی خود کوبچانے کیلئے پہاڑوں کا رخ کررہے ہیں۔

معتبر ذرائع کے مطابق کابل شہر مِیں موجود مسیحیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہت جلد انہیں قتل کردیاجائے گا۔ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران افغانستان مِیں موجود ایک مسیحی خاندان نے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔ مسیحی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بھی خوفزدہ ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں اور آپ کیا کر رہے ہیں۔" طالبان کے اِس اعلان کے بعد بہت سارے مسیحیوں نے اپنے فون بند کردیئے ہیں اور وہ نامعلوم مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ گذشتہ دنوں پشاور اور پارہ چنار کی آفیشل اسائنمنٹ کے دوران افغان خاندان سے میری ملاقات ہوئی۔ اِس ملاقات کی تفصیل مَیں اگلی رپورٹ مِیں شامل کروں گا۔ 

افغانستان مِیں رہنے والے زیادہ تر مسیحیوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں۔ صرف 20سے 30فیصد لوگوں کے پاس پاسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بغیر پاسپورٹ کے اِن مسیحیوں کو کونسا ملک قبول کرے گا۔ عالمی دنیا پاسپورٹ نہ رکھنے والے مسیحیوں کیلئے سفری سہولیات دینے پرغورکررہی ہے۔ 

بہت سے افغان مسیحی طالبان کی چوکیوں سے ہوائی اڈے تک کے خطرناک سفر کو خطرے مِیں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

 اور ، فی الحال ، ہوائی اڈے پر پاسپورٹ اور محفوظ آمد کافی نہیں ہے۔ کچھ پاسپورٹ رکھنے والے مسیحی جو ہوائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں وہ ابھی تک ملک سے باہر نہیں جا سکے ہیں۔


Religious harmony in Pakistan, India after 1947

 Religious harmony in  Pakistan, India after 1947

Imtiaz Chughtai


Pakistan and India enjoy a shared and shining history when it came to religious harmony, relationships with minorities as well as religious tolerance, and interfaith. Despite being a multi-racial, multi-lingual, multi-cultural, multi-religious, and multi-ethnic society various religions, sects and faiths co-existed here for decades sharing common grounds, cultures, and values in the subcontinent. The decade-old local culture, norms, and values have proven enough to tie various religions, communities, and faiths in sheer bonds of care, love, and mutual respect.

Local culture was stronger enough to defuse and neutralize several colliding points present between various thoughts and ideologies. It also provided a strong bond between various religions for co-existence.
At the time of partition, Hinduism, Islam, Christianity, and Sikhism were among the top religions besides many other big and small faiths, customs, and cultures. After the partition, the majorities in the sub-continent started victimizing the smaller religions and communities. Within no time the hate griped the whole continent. Millions of Muslims, Sikhs, Hindus, Christians and Scheduled Castes were killed in the violence.
Pakistan after her creation provided shelter to various religions, faiths, ideologies, and cultures who became prey to violence and hatred. Within the boundaries of a new state, various multi-religious societies and groups started living incoherent and complete religious harmony. Unlike India, the Christians, Hindus and Sikhs, and other minorities were given rights and protection in the constitution of Pakistan. The minorities on the other hand left no stone unturned in playing their due role for the development of the country. A large number of non-Muslims especially Pakistani Christians have laid down their lives while defending Pakistan against Indian aggressions. The Prime Minister recently has inaugurated the opening of the Kartarpur corridor and Gurdwara Darbar Sahib, which is in line with the vision given by Mohammad Ali Jinnah, the founder of the nation.
Since 1947, the majority of governments have gone an extra mile in maintaining relationship minorities in Pakistan. Gurdwara Darbar Sahib in Kartarpur is now the world’s largest Sikh temple. Pakistani Government has also facilitated a large number of the Indian Sikhs pilgrims visiting Gurdwara Darbar Sahib, Kartarpur without any discrimination. On the very first day of its opening, 12 thousand Sikh pilgrims were allowed to visit the corridor and the Gurdwara Darbar Sahib. All the past governments have made efforts in establishing coherence among various religions, cultures, and ethnicities present here. The efforts were made to bring various ideologies close as well as to create a society based upon principles of love mutual respect and co-existence under the green flag.
It was widely perceived, that after her birth, the Secular state of India will learn from her horrific past experiences and violence against minorities. However the said perception failed and India failed to continue as a truly secular state where each religion, ethnicity, and faith may enjoy freedom, religious harmony based upon the concept of co-existence. Due to the worst treatment of minorities’ number of separatist movements have become active in various parts of India. The cultural diversity was of mighty India was rapidly dominated by religious extremism and hate ousting love and mutual respect from the land of Gandhi.
The BJP led government in India is now attempting to promote the decades-old extremist ideology of ‘Hinutva’ amid targeting Muslims, Christians, Dalits, Sikhs, Nagas, and other minorities. Instead of promoting peace and inter-faith, the ruling Party and her allies are provoking religious sentiments based upon religious animosities. The religious minorities in India are not saving anymore and the government has failed in providing them protection. As the big breakthrough of Kartarpur, in neighboring Pakistan boasted the morale of minorities there, the hardcore verdict of the Indian Supreme Court on the Babri Mosque case has triggered more fears and uncertainty among the minorities all over India. Brutal lock-down in Indian Occupied Kashmir has crossed over 100 days and the genocide of Kashmiris continues in the hands of Indian security forces. Now the minorities in India are feeling insecure as well as orphans. The Sikh community that is pleased with the opening of the Kartarpur corridor, is still unable to forget the brutal use of force by India during ‘Operation Blue Star’ targeting her most sacred ‘Golden Temple.’ As a state, India has failed to protect its minorities which Pakistan has done magnificently.
Instead of adopting the hostile approach towards minorities, the need of the time is that India should revise its policies before it’s too late. When it comes to the treatment of minorities, India should learn from the shining experiences of Pakistan. The Minorities in Pakistan are in much better condition as compared to her.
Any state always must ensure the protection of its citizens as well as provide them with chances for better growth and improved living conditions. Like Pakistan, India has to pay more respect to its minorities. Despite efforts, it will take some time for various religions, communities, and faiths to find and re-gain mutual trust in South East Asia.

بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم ضرورت

 

  بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم ضرورت  

امتیاز چغتائی


دنیا میں ایسا کوئی معاشرہ نہیں جہاں بنیادی طور پہ الگ الگ نسلی، مذہبی اور ثقافتی گروہ نہ بستے ہوں۔ جن معاشروں میں بین المذاہب تعظیم کی روایات یاقوانین پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ان معاشروں کو دنیا کی کوئی طاقت کسی بھی پہلو سے شکست نہیں دے سکتی۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کثیر

 المذاہب معاشروں میں بین المذاہب ہم آہنگی ایک اہم خیال ہے ۔یورپ ہو یا امریکہ  انگلستان دنیا کے تمام حصوں میں مذہبی بقائے باہمی میں ہر وقت بہتری کی ضرورت رہتی ہے ۔ عالمی سطح پر مذہبی تضادات نے دنیا کے امن کو داو پر لگا دیاہے، جس کا ذمہ دار کوئی ایک مذہب،قوم، فرقہ یا گروہ نہیں بلکہ اس نقص امن میں تمام فریقین نے کسی نہ کسی شکل میں حصہ ڈالا ہے۔ جس کا خمیازہ کسی ایک مذہب، قوم یا فرقے کو نہیں بلکہ عالمی دنیا کو بھگتنا پڑا۔پوری دنیا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور دیگر واقعات نے معاشروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔نیوزی لینڈ مسجد حملے کے بعد بین المذاہب مکالمے کو یورپ کی تمام حکومتوں بشمول انگلستان نے باہمی تعاون کے ساتھ ترقی کرنے والی حکومتوں کے لئے ضروری قرار دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے معاشرتی، مذہبی اور مالی معاملات کے پس منظرمیں بین المذاہب ہم آہنگی کی فکرنے پاکستان میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کر لی ہے۔ملک بھر میں گزشتہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات نے مذہبی پیشواؤں کوبین العقائد ہم آہنگی کی حمایت کےلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کے لئے مجبور کر دیا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات قابل فکر ہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر امن کے دشمنوں نے کمر کس لی ہے۔ جس کی تازہ مثال بلوچستان میں زائرین کی بس پر فائرنگ کا واقعہ اور خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما پر قاتلانہ حملہ ہے ۔اس صورتحال میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ صبر، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں ۔ہمارے مذہبی پیشواؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جس طرح کرائسٹ چرچ مسجد میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد وہاں کی حکومت نے اپنے ملک میں بین العقائد ہم آہنگی کو فروغ دیا اور مذہبی انتہاپسندی کو  باہمی مذہبی تعاون کے ذریعے فی الفور شکست دی, اسی طرح بحثیت قوم ہم امن دشمنوں کو شکست سے دوچار کریں ۔پاکستان ایک کثیر المذہب ریاست ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ہندوستان، چین، افغانستان اور ایران شامل ہیں۔ان ممالک کے ساتھ باہمی مذہبی تعلقات کو مزید وسعت دے کر خطے میں امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔جس سے پاکستان کے اندر خاطرخواہ فوائد حاصل ہوں گے ۔کرتارپور راہداری اس کی ایک مثبت مثال ہے۔ کثیر المذہبی قربت کو پاکستان کے تمام طبقات کو دل سے قبول کرنا چاہئے کیونکہ بین العقائد ہم آہنگی ملک میں مثبت ترقی اور اخلاقی انقلاب کاباعث بنے گی۔اقلیتوں کے لئے غیر منصفانہ طریقہ انتخاب، اجتماعی سوچ کا فقدان، مذہبی غلط فہمیاں، متعصبانہ گفتگو، غربت، ناخواندگی، سماجی اقتصادی وسائل کی غلط تقسیم اور احساس کمتری میں دن بدن اضافہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بڑے چیلنج ثابت ہوئے ہیں ۔مذہبی فرقہ واریت اورعدم رواداری نے ہمارے معاشرے کو بیچوں بیچ بری طرح تقسیم کر دیا ہے ۔ہمارا ملک پاکستان ایک ایسا مہذب معاشرہ ہوناچاہئے جو بلا مذہبی تفریق عام آدمی کا خدمت گار ہو۔آئین کی روح سے تمام شہری برابر ہیں اور وطن عزیز کے لئے ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں مگر ملک میں موجود بعض قانونی اور سیاسی ناہمواریوں نے نفرت اور تعصب کو جنم دیا ہے ۔1977کے بعد مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور مصائب میں بےپناہ اضافہ ہواہے ۔اس دور نے پاکستان کے عوام کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم کیا۔ جس کے بعد اکثریت کا تسلط مختلف اشکال میں طول پکڑ گیا۔ اس سے قطع نظر قیام پاکستان کے بعد مسیحیوں اور پارسیوں نے ہندوستان کے گردونواح سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان مہاجرین کو دوبارہ آباد کرانے، انہیں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کے بچوں کو رہائشی سہولتوں سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بھی مذہبی اقلیتوں کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔انہی روایات  کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کو ملکی ترقی کے لئے کام کرنا ہوگا۔مسلمان پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کا95% ہیں جبکہ باقی پانچ فیصد میں مسیحی، سکھ، پارسی، ہندو، بہائی اور دیگر مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔کسی بھی ملک کے ریاستی مذہب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں بسنے والے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ بین المذاہب مکالمے، مذہبی غلط فہمیوں کو دورکرنے اور مذہبی تعظیم کے لئے وفاقی سطح پر آئینی کمیٹی قائم کرے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے پاس ہو ۔اور پھر اس کے آگے صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کرنچلی سطح پربین المذاہب غلط فہمیوں کو دور کریں۔مذہبی رہنما گلی محلے کی سطح پر ایک دوسرے کےخلاف نفرت اور کدورت کو دور کریں ۔کمیٹیاں مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے قانون سازی کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کریں۔اگر مذہبی رہنما نماز جمعہ، اتوار کی عبادات میں بین العقائد پیار، محبت اور رواداری کا درس دیں تو مساجد، گرجا گھر، مندر اور دیگر عبادت گاہیں گلی محلے کی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کی بڑھوتری کابہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔پاکستان کو جس قدراندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں ملک مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی طرح کاامتیازی سلوک، عدم استحکام، عدم توازن اورانہیں نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔

ٹک ٹاکرز

 ٹک ٹاکرز


    جس معاشرے میں، میں نے، متاثرہ لڑکی (ٹک ٹاکر) اور چار سو مردوں کے ہوس پرست گروہ نے جنم لیا ہے۔ اس معاشرے میں دولت ، شہرت ، کرسی، جسم اور پیٹ کی ہوس نے ہمارے ضمیر حقیر بنا دیا ہے۔ہمارے معاشرے مِیں اِس بگاڑ کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے مِیں اخلاقیات کی پرورش کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دولت لوٹتے وقت ، شہرت کی بھیک مانگتے وقت ، کرسی چھینتے وقت ، پیٹ کو بھرتے وقت اور جسموں کونوچتے وقت اخلاقیات ، خداکے خوف ، قانون اور ضمیر کی آوازکونظرانداز کردیتے ہیں۔ ضمیر کی آواز نہ سننے والے انسانوں مِیں یہ منفی خصوصیات عام پائی جاتی ہیں۔

 وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی نا کسی طرح اپنی ہوس کو پورا کیا جائے۔ جیسا کہ مَیں نے اوپر بھی ذکر کیا کہ ٹک ٹاکر خاتون بھی اِسی معاشرے کا حصہ ہے اسے گھر سے نکلتے وقت اپنے منفی اور مثبت عمل کے ردعمل کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ شہرت اور دولت کی ہوس میں مصروف ٹک ٹاکر یہ بات کیوں بھول گئی تھی کہ جس پارک مِیں وہ اپنے فرائض منصبی ادا کررہی ہے اسی پارک میں جسم کی ہوس رکھنے والے سیکڑوں مرد موجود ہیں۔ اور یہ وہ مرد ہیں جو سوتے میں بھی اس خیال کی قید مِیں رہتے ہیں کہ کس طرح جسم کی ہوس کو پورا کیا جائے۔گریٹر اقبال پارک میں کچھ ایسا ہی ہوا ۔

 ہوس پرست ٹولہ گریٹر اقبال پارک مِیںکمزور ہدف کے انتظار مِیں تاک لگائے بیٹھا تھا کہ اچانک اُس کی نظر خاتون ٹک ٹاکر پر پڑی۔ جو اپنی ٹیم کے ہمراہ ٹک ٹاک بنانے مِیں مصروف عمل تھی۔ اُس ٹیم مِیں ایسے غیرت مند مرد بھی شامل تھے جن کی غیرت واقعہ کے آغاز مِیں ہی جواب دے گئی۔ جنہوں نے ون فائیو کے انتظار مِیں بڑی آسانی کے ساتھ اپنی لیڈر کو ہوس پرستوں کے حوالے کر دیا۔ ورنہ چار غیرت مند مردوں کے سامنے چند بے غیرتوں کی طاقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر اخلاقیات اور اپنی عزت کی چادر گھر چھوڑ آئی تھی اور بلا خوف وخطر گریٹر اقبال پارک مِیں موجود مردوں کو دعوت نظر دے رہی تھی۔ پارک مِیں اور خواتین بھی موجود تھیں جنہیں اپنی حدود و قیود کا احساس تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جب خاتون ٹک ٹاکر اپنے فن کا مظاہرہ کررہی تھی تو رفتہ رفتہ ہوس پرست مردوں کے ٹولے اُس کے ارد گرد ”داد“ دینے کیلئے جمع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ بات ہوٹنگ پر آئی ، ہوٹنگ کے بعد چھیڑخانی اور پھر قانون نافد کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے یہ واقعہ پیش آ گیا۔ سوچا جائے تو سب سے پہلا مقدمہ گریٹر اقبال پارک کی انتظامیہ کے خلاف ہونا چاہیے جو سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے مِیں ناکام رہی۔اگر بات ذمہ داری کی کی جائے تو سب سے پہلے خاتون ٹک ٹاکر نے غیر معمولی عمل کرکے خود کو ہوس پرست مردوں کے حوالے کیا۔ اس کے بعد ہوس پرست مردوں نے لا حاصل کوشش مِیں خاتون ٹک ٹاکر کورسوا کیا۔ اور رہی سہی کسر ہمارے قانون نافد کرنے والے اداروں نے نکال دی۔ جنہیں بے گناہ ملزم کی بُو تو دور دور سے آجاتی ہے لیکن اقبال پارک مِیں بھیٹریوں کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔ 

خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ گریٹر اقبال پارک مِیں ہونے والے واقعہ پر ہر انسان افسردہ ہے۔ لیکن بات غور طلب ہے، کیا اس واقعہ کے بعد خاتون ٹک ٹاکر بھی خوف زدہ ہے۔ کیا اُس واقعہ کے بعداُس کی آنکھوں مِیں شرمندگی موجود ہے۔ کیا آئندہ وہ ایسے کھلے عام ٹک ٹاک بنانا چھوڑ دے گی۔ کیا وہ اُس کیمرے کے سامنے آنا چھوڑ دے گی جس کمیرے کی آنکھ نے اُسے پوری دنیا کے سامنے رسوا کیا۔ اِن سوالوں کا جوابات تو اُس کا ضمیرہی دے سکتا ہے۔ لیکن میرے لئے ایک بات لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔

 جس دن سے خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اُس دن کے بعد وہ میڈیا کے ہر کیمرے کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اُس کو اِس بات کا احساس نہیں کہ وہ اِس واقعہ کے بعد فخر کے ساتھ ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے اپنی شناخت پریڈ کروا رہی ہے۔ وہ لوگوں کو بتا رہی ہے کہ میں ہی وہ ہوں جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ نام نہاد ہمدرد اینکرپرسنز ویڈیو انٹرویوز کے ذریعے ہمدردی کی آڑ مِیں اُس کے چرچے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 

بہر حال مَیں نے اپنی صحافتی زندگی مِیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھی ہیں۔ ”کہ ہواوں مِیں اڑنے والوں کے پیروں سے زمین نکل جایا کرتی ہے“ پھر وہ لوگ نہ تو آسمان کے رہتے ہیں اور نہ ہی زمین انہیں پاوں رکھنے کی جگہ دیتی ہے۔ 

خدارا شہرت اور دولت کمانے کے اور بھی ہزاروں عزت دار طریقے موجود ہیں۔ احتیاط کیجئے، جس معاشرے مِیں آپ رہتی ہیں اُس معاشرے مِیں جسم کی ہوس پوری کرنے کی لئے عمر، رنگ ،نسل اور خوبصورتی ، بدصورتی کوبالائے تاک رکھ کرخاتون کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ لہذا خواتین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوس پرستی کی بھینٹ چڑھنے سے بچنے کیلئے گھر سے نکلتے وقت اپنی اخلاقی حدود کا خیال رکھیں، اپنے ماں باپ کی عزت سے قبل اپنی عزت کا خود احترام کریں۔