چند دن قبل کی بات ہے میں اپنے آفیشل وزٹ پر سپرنٹنڈٹ جیل سرگودھا کا انٹرویوکرنے سرگودھا گیا ہوا تھا۔ سرگودھا میرا آبائی شہر ہے یہی وجہ ہے کہ میرے ننیال اور دھدیال بھی وہی رہتے ہیں۔ کام سے فارغ ہوکر مجھے اپنے ماموں کے گھر اُن کی تیمارداری کیلئے جانا تھا۔ میں نے بڑے بھائی سے درخواست کی کہ میرے ساتھ چلیں۔ پھل خریدنے کی غرض سے ہم امین بازار کی طرف چلے گئے۔ بازار میں گھسے ہی تھے کہ ہر دو قدم پر مانگنے والے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب پیشہ ور بھکاری اور ضرورت مند انسان میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ کہ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پرچھلانگیں میں ہی خوش ہیں، انہیں احساس ہی نہیں کہ درختوں کی جڑوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔میں۔آپ اور ہم سب کہیں نہ کہیں ضرورت مند ہیں اور اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہم ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لئے ضرورت مند ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے حالات قدر ابتری کی جانب رواں دواں ہیں کہ سفید پوش افراد سر چھپاتے ہیں تو پاوں ننگے ہوجاتے ہیں اور پاوں چھپاتے ہیں توسرننگا ہوجاتا ہے۔ اسی کشمکش میں مبتلا ہم زندگی کی ضروریات پوری کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کسی کو دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی ضرورت ہے تو کسی کو بچوں کے سکول کی فیس ادا کرنی ہے۔ کسی کو بیماری کا اعلاج کرواناہے توکسی کو بیٹی کی شادی کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ضرورت مند افراد کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ضرورت پوری کرنے والوں کی شرح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے۔ دو وقت کی روٹی نے انسان کو انسان کا محتاج بنا دیا ہے۔ معاشرتی حالات نے ہمیں اس قدرگنہگار کردیاہے کہ ہم دووقت کی روٹی کیلئے خداکی بجائے انسانوں پرتکیہ کرنے لگے ہیں۔
توبات ہورہی تھی امین بازار کی، بڑے بھائی ضرورت کے مطابق پھل لے کرابھی گاڑی میں بیٹھنے ہی لگے تھے کہ ایک بچہ آگے بڑھا اور بھائی سے کہنے لگا کہ میرے پاس کچھ پنسلز ہیں آپ یہ خرید لیں۔ بھائی نے بولا ایک پنسل دے دیں لیکن وہ بچہ ساری پنسلزبیچنے پر بضد تھا۔ بھائی نے ایک پنسل لی اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے بھائی سے پوچھا بچہ کیا کہہ رہا تھا؟ تو بھائی نے جواب دیا، بچہ کہہ رہا تھا” کہ امیرکو امیرکئے جارہے ہوغریب کا بھی خیال کرلیاکرو۔“ یہ محض الفاظ نہیں ہیں ، یہ جذبات ہیں، یہ آنسوہیں یہ ضرورت ہیں یہ کیفیت ہیں یہ صاحب حیثیت کے منہ پرتمانچاہیں۔ آج ایک ہفتہ گذرنے کو ہے لیکن یہ الفاظ میرے اندر چپک کررہ گئے ہیں۔ ملکی مالی اعشاریوں کو ایک طرف رکھ کراگر بات کی جائے توہمارے معاشرے میں ضرورت مند لوگوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا مخیرحضرات نے اپنا ہاتھ کھینچ لیاہے؟ کیا بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کھانے والے زیادہ ہوگئے اور اور کمانے والے کم: کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرے ۔ لیکن ہمارے ہاں ریاست کی بنیادی ذمہ داری امیرکا پیٹ بھرنا اور غریب کے منہ سے نوالہ چھینناہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی اموات کی شرح کم ہے اور ضمیرکی اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جسمانی قبریں مٹی سے بنائی جارہی ہیںاور ضمیرکی قبریں کنکریٹ سے پختہ کی جارہی ہیں۔ حوص ،لالچ اور خود غرضی نے ہمیں اس قدر اندھا کردیا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد ضرورت مند نظرنہیں آرہے۔ ریاست کی ناکامی اپنی جگہ لیکن اخلاقی فرائض اور اخلاقی قدروں کو ہم نے اپنے اندر جنم ہی نہیں لینے دیا۔ مخیرحضرات بھی سیاستدانوں اور بیورکریٹس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے پیٹ کی آگے بجھانے میں مصروف عمل ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت (نااہلوں کاٹولہ) نے ”گرتی ہوئی دیوار کوایک دھکہ اور دو“ کا نعرہ سچ ثابت کردیاہے۔ کیا خوب مثال ہے کہ ” زیادہ گرجنے والے برستے نہیں۔“
ہمیں یہ فرض اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا، اپنے ارد گرد ضرورت مندوں کی ضرورت بنناہوگا۔ اگر کوئی ضرورت بیان نہیں کرسکتا تواس کی ضرورت محسوس کرناہوگی۔ اپنے ارد گرد کسی کی ضرورت جاننے کیلئے بہت سے خفیہ اور سادہ طریقے میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ضرورت پوری کرتے وقت ارد گرد کے دوستوں اور رشتہ داروں کی اسی ضرورت کومحسوس کریں۔ اگر ہم ماہانہ راشن لینے جاتے ہیں توچند لمحوں کیلئے سوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کون بھوکاہے۔ اگر ہم بچوں کی فیس جمع کروانے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کونسابچہ فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول نہیں جاپارہا۔ اگر ہم موسمی کپڑے خریدنے جاتے ہیں توسوچ لیں کہ میرے حلقہ احباب میں کس بچے کے پاس گرم کپڑے یا جوتے نہیں ہیں۔
اگر ہم دوسروں کی ضرورت کے لئے تھوڑا سوچیں گے توخدااس کی ضرورت پوری کرنے کی ہمت ہمیں خود عطا کرے گا۔







It is really a thought provoking article that made me to realise my duty as a responsible citizen of Pakistan.
ReplyDelete👍
ReplyDelete